امریکہ کی افغان پالیسی تبدیل ہوگی !

zaheer-babar-logoامریکہ کی جنوبی اور وسطی ایشیائی امور کے بیورو کی پرنسپل ڈپٹی اسٹنٹ سیکریٹری ایلس جی ویلز کا یہ اعتراف اہم ہے کہ افغانستان میں قیام امن کے لیے پاکستان کی اہمیت مسلمہ ہے مزید یہ کہ امریکی وزارت خارجہ پاک امریک تعلقات بہتر بنانے کی حمایت کرتی ہے۔ اعلی امریکی عہدیدار نے اس بات کا بھی کھل کر اظہار کیا کہ تحریک طالبان پاکستان کی افغانستان میں موجودگی، سرحدوں پر کنٹرول، افغان مہاجرین سے پاکستان کی مشکلات اور افغانستان سے پاکستان کے تعلقات ایسے چار اہم نکات ہیں جن پر پاکستان کی شکایت کو امریکہ نے جائز سمجھتا ہے ۔“
اس پس منظر میں حال ہی میں افغانستان کے علاقے کنڑ میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ٹھکانے پر حملہ اہمیت کا حامل ہے۔ اطلاعات ہیں کہ اس کاروائی میں سوات کے 20خود کش حملہ آور مارے گئے۔ذرائع دعوی کررہے کہ اس ڈرون حملے میں خودکش حملہ آوروں کا ماسٹر مائنڈ استاد یاسین بھی کام آیا ۔ واضح رہے کہ استاد یاسین خودکش حملوں کی تربیت فراہم کرتا تھا۔ مارے جانے والوں میں اکثریت کا تعلق سوات سے تھا۔ افغان انٹیلی جنس کے مطابق حملہ میں مارے جانے والوں میں تحریک نفاذشریعت محمدیہ سوات کے سربراہ مولانا صوفی محمد کا نوا سہ اور مولانا فضل اللہ کا بیٹا عبد اللہ بھی شامل ہے ۔
دراصل ایلس جی ویلز کا اعتراف افغانستان میں قیام امن کے پس منظر میں پاک امریکہ تعلقات میںتناو کم کرنے میں معاون ہوسکتا ہے۔ حالیہ چند مہینوں میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان مختلف وفد کا تبادلہ ہوا ہے جن کا مقصد کسی معاہدے پر پہنچنے کے لیے طریقہ کار وضع کرنا بتایا گیا تاکہ باہمی تعلقات کو بہتر کیا جا سکے۔
مبصرین کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے پاکستان سے دھونس کے زریعے مطالبات منوانے کی کوشش ناکام ہونے کے واشنگٹن نے اپنی حکمت عملی میںتبدیلی پر مجبور ہوچکا، بظاہر امریکہ چاہتا ہے کہ افغانستان کے مسلہ کا سیاسی حل نکالنے کے لیے پاکستان کے ساتھ ایک بار پھر روابط کو فروغ دیا جائے۔ ؟ امریکہ باخوبی جانتا ہے کہ پاکستان پر الزام تراشی کرکے صرف اور صرف بھارت کو ہی فائدہ پہنچایا جاسکتا ہے شائد یہی وجہ ہے کہ اب نئی دہلی کی خوشنودی کی پالیسی عارضی طور پرہی سہی نظرانداز کردی گی ۔ اسی لیے ایلس ویلز کے بعقول افغانستان کے امن میں پاکستان کا بہت اہم کردار ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ” ‘ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان یقینی طور پر مذاکرات کرانے میں مدد کر سکتا ہے اور ایسے اقدامات کر سکتا ہے جن سے طالبان پر دباو بڑھے اور وہ سیاسی عمل کے ذریعے کسی حل پر پہنچنے کے لیے تیار ہو سکیں۔“
دراصل امریکہ پاکستان کے حوالے سے گاجر اور چھڑی کی پالیسی پر کاربند ہے ۔ حال ہی میں پاکستان کو دہشت گردوں کے ساتھ ہمدری رکھنے والے ممالک کے ساتھ نتھی کرنے کی کوشش کسی اور نہیں خود امریکہ نے کی۔ واشنگٹن کے پالیسی ساز اس حکمت عملی پر کاربند ہیںکہ پاکستان پر دباو بھی رکھاجائے اور ساتھ ساتھ اس کے مطالبات بھی کسی نہ کسی شکل میں پورے کرنے کی کوشش کی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی حکام تواتر کے ساتھ کہہ رہے کہ وہ پاکستان کی جائز شکایات کو دور کرنے کے علاوہ مذاکرات کے ذریعے افغانستان میں استحکام لانے کے لیے کوشاں ہیں۔
دراصل امریکہ پاکستان سے واضح طور پر وہ مطالبات منوانے کے لیے کوشاں ہے جس کی تکمیل کے نتیجے میں بعقول اس کے افغانستان میں امن بحال ہوسکتا ہے یعنی واشنگٹن پاکستان کے رویے میں فیصلہ کن اور مستقل تبدیلی دیکھنے کا خواہشمند ہے ۔ اس پس منظر میں پاکستان کی خارجہ سیکریٹری تہمینہ جنجوعہ کا دورہ امریکہ بھی اہم ہے ۔امریکیوں کے بعقول وہ پاکستان سے منہ نہیں موڑ رہے بلکہ پاکستان کی سول اور فوجی قیادت سے وسیع مذاکرات ہوں گے جن میں یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جائے گی کہ کس طرح دونوں ملک مل کر کام کر سکتے ہیں۔ ایلس جی ویلز نے دو ٹوک انداز میں کہا ہے کہ طالبان کی بعض شکایات بھی جائز ہیں جن میں افغانستان میں حکومتی سطح پر پائی جانے والی کرپشن کا مسئلہ بھی شامل ہے۔ اسی پس منظر میں ایلس جی ویلز سے طالبان کے امریکہ سے براہ راست مذاکرات کے مطالبہ کے بارے میں پوچھے گئے کے سوال کے جواب میںکہنا تھا کہ پہلا اور اہم قدم طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات ہیں۔“
امریکہ جو بھی کہے مگر حقیقت یہ ہے کہ افغانوں کی اکثریت سمجتی ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی انک کی سرزمین پر قابض ہیں۔افغان طالبان کا مقدمہ یہی ہے۔ یہاں سوال یہ بھی ہے کہ اگر امریکہ ان حالات میں افغانستان سے نکل جاتا ہے تو کیونکر یقین کرلیا جائے کہ طالبان سمیت دیگر مسلح گروہ اقتدار کے کسی فارمولے پرمتفق ہوجائیں گے۔ افغانستان میں معاملات آسان نہیں یہی وجہ ہے کہ پاکستان بار باریہ مطالبہ کررہا کہ مسائل کا حل صرف اور صرف مذاکرت سے ہی ممکن ہے۔ طالبان اور امریکہ دونوں کو اپنی روایتی موقف سے کسی نہ کسی حد تک دستبردار ہونا ہوگا۔ واشنگٹن محض پاکستان پر الزام تراشی کرکے افغان جنگ میں کسی صورت سرخرو نہیں ہوسکتا۔ انکل سام کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ جتنی جلدی ممکن ہو وہ تنازعے کے پرامن حل کے لیے آگے بڑھے۔
امریکی فوج وہاں ایک خود مختار حکومت کی درخواست پر وہاں موجود ہے اور امریکی فوجی کی افغانستان میں موجودگی کے بارے میں اسی خود مختار حکومت سے بات کر سکتی ہے۔

Scroll To Top