مگر ابوجہل ؟ 05-01-2013

جو بھی لوگ آج پاکستان کی نظریاتی بنیادوں اور ان بنیادوں پر قائم اس کے جغرافیائی وجود کو دل و جان سے قبول کرتے ہیں ` وہ خواہ کسی بھی جماعت کے ساتھ تعلق رکھتے ہوں ` ہمارے اجتماعی قومی وجود کا حصہ ہیں۔ مگر اس حقیقت سے بہرحال ہم انکار نہیں کرسکتے کہ ہمارے بعض صوبوں کی آبادی کے کچھ حصوں نے تحریکِ پاکستان کی مخالفت اس قدر بڑھ چڑھ کر کی تھی کہ وہ قیامِ پاکستان کی راہ میں کوہ گراں بن گئے تھے۔ اگر یہ کہا جائے کہ اِن لوگوں کو تقسیم ہند کی مخالف آل انڈیا نیشنل کانگریس نے استعمال کیا ` تو غلط نہیں ہوگا۔ اس ضمن میں سرِفہرست باچا خان کا نام آتا ہے جو سرحدی گاندھی کے نام سے مشہور ہیں۔ عدم تشدد کا تصور اورفلسفہ جس طرح موہن لال کرم چند گاندھی کے ساتھ منسوب ہے اسی طرح خان عبدالغفار خان کے ساتھ بھی جوڑا جاتا ہے۔ یہ فلسفہ بے شک کتنا ہی قابلِ تعریف اور قابل قدر کیوں نہ ہو اس کی بدولت ہم گاندھی کو اپنے قومی ہیروز کی فہرست میں شامل نہیں کرسکتے۔ خواہ وہ گاندھی واردھا کا ہو یا سرحد کا۔ سرحد کے گاندھی نے تو سرزمین پاکستان کو اس قابل بھی نہ سمجھا کہ اس کی مٹی کو اپنے جسدِ خاکی کی تدفین کے لئے قبول کریں۔
یہاں میں تاریخ میں جانا پسند کروں گا۔ ابوجہل ذاتی حیثیت سے اتنی خوبیوں کا مالک ضرور تھا کہ آنحضرت نے بار گارہ الٰہی میں اس کے قبولِ اسلام کی دعا کی۔ جو دعا حضرت عمر فاروق ؓ کے معاملے میں قبول ہوئی وہ ابوجہل کے بارے میں مسترد کردی گئی۔ اس بدبخت کے مقدر میں تاریخ کے صفحات پر ابوجہل کی حیثیت سے یاد رکھا جانا لکھا تھا۔جس طرح باچا خان کے بیٹے ولی خان نے قیامِ پاکستان کے بعد یہاں کی سیاسی زندگی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اسی طرح ابو جہل کا بھی ایک بیٹا مشہور ہوا۔ اس کا نام عکرمہ تھا جس نے اسلام فتح مکہ کے بعد قبول کیا۔ لیکن جب عکرمہ ؓ بن ابوجہل نے اسلام کو اپنی زندگی میں داخل کیا تو اس شان سے کیا کہ جنگ یرموک میں جب وہ شدید زخمی حالت میں اپنے دوست خالد بن ولید ؓ کی گود میں سر ڈالے پڑے تھے تو ان کی زبان پر یہ سوال آیا۔
” خالد۔۔۔ کیا میرا خون میرے باپ کے گناہوں کو دھو ڈالے گا۔؟“
” میرے دوست تم خوش نصیب ہو کہ تمہیں شہادت نصیب ہورہی ہے۔ مجھے یہ سعادت موتہ میں بھی نصیب نہیں ہوئی اور یہاں بھی نہیں ہوسکی۔“
یہ مکالمہ میں نے یہاں اس لئے درج کیا ہے کہ ایک نسل کے گناہ دوسری نسل کی قربانی سے دُھل سکتے ہیں۔
عکرمہ ؓ ہمارے لئے روشنی کا مینار بن گیا۔
مگر ابوجہل ؟

kal-ki-baat

Scroll To Top