اگر عام انتخابات2018ءمیں ہوئے تو ان کے نتائج تباہ کن ہوں گے

aaj-ki-baat-newآج میں بڑے ہی صاف واضح اور مختصر الفاظ میں اپنے ذاتی بیانیے کو آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں۔۔۔

مستقبل قریب میں پاکستان کے موجودہ سنگین مسائل کاحل عام انتخابات میں نہیں۔۔۔ وطنِ عزیز کو فوری طور پر اِس نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے جس نے اسے ایسی بحرانی صورتحال میں لاکھڑا کیا ہے جہاں ایک چھوٹا سا واقعہ بھی سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔۔۔
اگرحالیہ کشمکش میں عام انتخابات ہوئے تو اس میں جیت کسی سیاسی جماعت کی نہیں ”ایک بحرانی صورتحال “ کی ہوگی۔۔۔ مجھے نظر نہیں آرہا کہ کوئی بھی سیاسی جماعت ایسی حکومت بنا سکے گی جو بڑے فیصلے کرسکے ` جس کے پاس عدم استحکام دور رکھنے کا کوئی معجزاتی فارمولا ہو۔۔۔ یا جو ایسی حکومتی ٹیم میدان میں اتار سکے جو معاشی ` معاشرتی سیاسی اور انتظامی محاذوں پر کامیابی کے جھنڈے گاڑنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔۔۔
سیاسی جماعتیں تین ہی ہیں جو حکومت بنا سکتی ہیں۔۔۔ اگر موجودہ حالات میں او ر موجودہ الیکشن کمیشن کے زیرِ انتظام مسلم لیگ (ن)جیتیں ہے تو اس کی جیت کو دوسری کوئی پارٹی قبول نہیں کرے گی۔۔۔ اگر جیت تحریک انصاف کی ہوئی تو موجودہ سیاسی پولر ائزیشن اس کا عرصہ ءحیات تنگ کرسکتی ہے۔۔۔ اور اگر پی پی پی کسی معجزے سے برسراقتدار آجاتی ہے تو پھر ماضی کی تاریخ دہرائی جائے گی۔۔۔
اب بات اناﺅں کی تسکین سے بہت آگے جاچکی ہے۔۔۔
ہمیں ایک طویلِ المدتی عبوری حکومت کی ضرورت ہے جس میں قوم کا جوہرِ قابل موجود ہو۔۔۔ جوہرِ قابل کی ملک میں کمی نہیں۔۔۔ ایسی حکومت عدلیہ کی نگرانی میں اپنے فرائض دیانتداری اور تن دہی سے انجام دے سکتی ہے۔۔۔
اس عبوری حکومت کے فرائض میں ایک ایسے الیکشن کمیشن کا قیام بھی ہوگا جو حقیقی معنوں میں غیر جانبدار اور سیاسی وفاداریوں سے پاک ہو۔۔۔
یہ عبوری حکومت آئین میں ضروری اصلاحات کرے گی اور ان صلاحات کو ایک ریفرنڈم کے ذریعے قوم سے منظور کرایا جائے گا۔۔۔
اصلاحات کا دائرہ سیاسی جماعتوں کی تنظیم تک پھیلایا جائے گا۔۔۔
مسلم لیگ صرف ایک ہوگی۔۔۔ نو ن جیم قاف وغیرہ کو اتار پھینکا جائے گا۔۔۔
پی پی پی بھی ایک ہی ہوگی۔۔۔ اور تحریک انصاف بھی۔۔۔ ایم کیو ایم کی جگہ ایک ¾ اور صرف ایک سیاسی جماعت کراچی اور حیدر آباد وغیرہ کی نمائندگی کرے گی۔۔۔ تمام جماعتوں سے لسانیت اور علاقائیت کا عنصر غائب کردیا جائے گا۔۔۔
سب سے اہم اور ضروری بات یہ ہے کہ نئے انتخابات سے پہلے جو احتسابی عمل شروع ہوچکا ہے وہ سیاست اور انتظامیہ کو بدعنوان عناصر سے پاک کردے۔۔۔
میرے خیال میں اگلے عا م انتخابات 2020ءکے آخری مہینوں میں منعقدکرائے جاسکیں گے۔۔۔

Scroll To Top