جناب فرحت اللہ بابر صاحب حرام گوشت خوش ذائقہ ہوتب بھی حرام ہوتا ہے !

aaj-ki-baat-newآج میں اپنے دیرینہ دوست جناب فرحت اللہ بابر سے کہنا چاہتا ہوں کہ ایک مردار یا حرام جانور کے گوشت کا تیار کردہ سالن صرف اس وجہ سے قابلِ قبول قرار نہیں دیا جاسکتا کہ اس کے ذائقے سے اس کے مردار یا حرام جانور کے گوشت سے بنے ہونے کا پتہ نہیں چلتا۔۔۔

یہ پارلیمنٹ جس کی تقدیس کی ثناءخوانی فرحت اللہ بابر نے 06مارچ کو سینٹ میں اپنے خطاب کے دوران کی ہے کیسے کیسے عناصر کا مرکّب ہے اس کا اندازہ لگانا کسی بھی دیانت دار شخص کے لئے مشکل نہیں۔۔۔ اسی پارلیمنٹ نے حال ہی میں ایک ایسا قانون منظور کیا تھا جس کی رو سے قانون شکن عناصر کو سیاسی جماعتوں کی قیادت سنبھالنے کا حق دے دیا گیا تھا۔۔۔ اگر پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ اس قانون کو اپنے اختیارات کے ذریعے منسوخ نہ کرتی تو قانون شکن عناصر کو قانون ساز ادارے پر قابض ہونے کا اختیار مل جاتا ۔۔۔
اگر اعلیٰ عدلیہ کا یہ اقدام پارلیمنٹ کے ”دائرہ ءاختیار “ میں مداخلت سمجھ لیا جائے تو پھر ریاست اور معاشرے کو عدلیہ کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی۔ ۔۔ عدلیہ کا کام ” قانونی“ اور ” غیر قانونی“ کے درمیان لکیر کھینچنا ہے۔۔۔اگر پارلیمنٹ قانون بنانے کے اختیار کی آڑ میں ایسا قانون بنالے جو آئین کی رُو سے غیر قانونی ہو تو کیا عدلیہ کی مداخلت غیر آئینی ہوگی۔۔۔؟ آپ جس پارلیمنٹ کا حصہ ہیں جناب فرحت اللہ بابر اور جناب رضا ربانی۔۔۔ اس کی تقدیس عدلیہ کی مداخلت کی وجہ سے پامال نہیں ہوتی `ان اراکین کے سیاہ کارناموں کی وجہ سے پامال ہوتی ہے جن کا وجود پوری قوم کے لئے باعث ِ شرم ہے۔۔۔
اگر آپ جیسے لوگ ایسے ” مکروہ سیرت “ عناصر کی مضبوط دفاعی لائن بنے رہے تو اس سے بڑی بدقسمتی قوم کی اور کوئی نہیں ہوگی۔۔۔
آپ اپنے مخصوص نظریات کے باوجودباشعور اور اچھے لوگ ہیں۔۔۔ آپ کو جنگ ” حرام گوشت “ کے پھیلاﺅ کے لئے نہیں اس بات کو یقینی بنانے کے لئے لڑنی چاہئے کہ قوم کو کھانے کے لئے ” حلال گوشت“ ملے۔۔۔ اگر آپ کو ” حرام گوشت “ کا ذائقہ اچھا لگتا ہے تو یہ آپ کے ” ذوق “ کا معاملہ ہے۔۔۔ اپنے ” ذوق“ کو قوم پر مسلط کرنے کی کوشش نہ کریں۔۔۔

Scroll To Top