ڈاکٹر شاہد مسعود اہل صحافت کو شرمسار کررہے

چیف جٹس آف پاکستان نے زینب قتل کیس میں غیر معمولی” انکشافات “ کرنے والے ڈاکڑ شاہد مسعود کے بارے میں ریمارکیس دیتے ہوئے کہا ہے کہ معافی مانگنے کا وقت گزر چکا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ اگر آپ نے معافی مانگی تو پھر دیکھیں گے کہ کیا کرنا ہے“۔ یاد رہے کہ اینکر پرسن ڈاکڑ شاہد مسعود نے قصور میں زیادتی کے بعد قتل ہونے والی زینب کے قاتل عمران کے بارے میں دعوی کیا تھا کہ اس کے درجنوں غیر ملکی بنکوں میں اکاونٹ ہیں اور وہ بین الاقوامی مافیا کا سرگرم کارکن ہے“۔
نجی چینل پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکڑ شاہد مسعود نے بار بار چیف جٹس سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اس کا نوٹس لیں۔ شاہد مسعود یہ بھی کہتے رہے کہ اگر ان کے دعوی غلط ثابت ہو تو انھیں بے شک پھانسی پر لٹکا دیا جائے “۔
وطن عزیز میں میڈیا کی اہمیت سے کسی طور پر نظریں نہیں چرائی جاسکتیں ، حقیقت یہ ہے کہ آج اگر عام آدمی میں اپنے حقوق کے حوالے سے اگر کوئی بیداری نظر آتی ہے تو اس کی وجہ بھی پرنٹ ، الیکڑانک اور سوشل میڈیا ہے۔ یہی سبب ہے کہ میڈیا کے بڑھتے ہوئے اثر رسوخ کو دیکھتے ہوئے وہ عناصر بھی متحرک ہوچکے جو عوام میں اپنا مخصوص تشخص اجاگر کرنے کے خواہشمند ہیں ۔ آج مختلف میڈیا ہاوسز میں ایسے افراد باآسانی دیکھے جاسکتے ہیںجو مخصوص مقاصد لے کر ٹی وی سیکرینوں یا پھر اخبارات کے صفحات پر جلوہ گر ہوتے ہیں۔ صحافت میں اختلافی نظریاتی سے انکار نہیںکیا جاسکتا مگر یہ سب کچھ صحافتی اقتدار کے دائرے میں ہونا چاہے۔ یاد رہے کہ سکرین پر بولا جانے والا لفظ ہو یا اخبار میں تحریر کردہ جملہ سب ہی اپنی اہمیت ہے۔
اس پس منظر میں ہمارے ہاں کئی رپورٹرز ، کالم و تجزیہ نگار وں اور اینکر پرسن کی پیغام سازی کا رخ بہت چھوٹے ،حتی کہ ذاتی دائروں تک محدود ہوتا جارہا جو پیشہ ورانہ اعتبار سے نامناسب ہے ۔ یقینا وطن عزیز میں میڈیا کی آزادی ایک بڑی نعمت ہے ، اس کے بڑے بامقصد نتائج حاصل ہوئے اور ہو رہے ہیں ، لیکن اس کی وسعت اور بڑھتی اہمیت کے لحاظ سے اس کا رخ مثبت جانب رہنا چاہے ۔ صحافت کو جو صحافی پڑھ چکے ہیں ،ان کے لیے اس حاصل شدہ علم کے مطابق پیشہ صحافت کی پریکٹس کرنا ان کے اپنے اور ان کے ادارے کی ترقی کے لیے لازم ہے ۔ یقینا کسی گروہ ، بد دیانت یا منفی قوت کے لیے استعمال ہونے والے پیشہ ور تجر بے کے بغیر ذاتی مقصد کے لیے صحافت میں گھس جانے والے صحافی کسی طور پر اپنے شبعہ سے انصاف نہیں کرسکتے۔اس کے برعکس یہ اثر پذیری خطر ناک حد تک اور منفی نتائج کی حامل ہوسکتی ہے ۔
وطن عزیز میںمیڈیا انڈسڑی کو اب خود احستابی سے کام لینا ہوگا، یہاں میڈیا سے مراد الیکڑانک میڈیا لیا جانا چاہے جو مسلسل فروغ پذیر ہے۔ جس تیزی سے الیکڑانک میڈیا نے اپنی اہمیت تسلیم کروائی ہے وہ بلاشبہ باعث تحسین ہے۔ ٹھیک کہا جاتا ہے کہ آزادی دراصل زمہ داری کے ساتھ ہے، اگر کوئی بھی شعبہ اپنی زمہ دای کو احسن انداز میں نبھانے میں کامیاب نہیں ہوتا تو تادیر اس کی آزادی برقرار رہنا بھی مشکل ہے۔
اسے اہل پاکستان کی سیاسی پختگی ہی کہنا چاہے کہ وہ کسی بھی ایسے شخص کو تادیر صحافی کے روپ میں وہ عزت ومقام دینے کو تیار نہیں ہوتے جو اعتدال سے ہٹا ہو۔
یہی وجہ ہے کہ ماضی میں قومی میڈیا پر نمایاں رہنے والے اب اس پذائری سے دور دکھائی دیتے ہیں جو ان کا خاصا سمجھی جاتی تھی۔ امریکی صدر ابراہم لنکن نے خوب کہا کہ چند افراد کو آپ ساری عمر کے لیے بے وقو ف بنا سکتے ہیںمگر سب ہی لوگوں کو ہمیشہ کے لیے بے وقوف بنانا ممکن نہیں۔ “
ڈاکڑ شاہد مسعود کے لیے بہت بہتر تھا کہ جب پہلی مرتبہ انھیں سپریم کورٹ نے بلایا اور ثبوت طلب کیے تو وہ اپنی غلطی کا اعتراف کرکے معافی مانگ لیتے مگر باجوہ ایسا نہ ہوا ۔ اس کے برعکس ڈاکر شاہد مسعود نے عدالت عظمی میں کھڑے ہوکر نہ صرف اپنے دعووں کو سچ کہا بلکہ یہاں تک فرما گے کہ وہ تو نکل جائیں گے مگر جو کہہ رہے ہیں وہ سچ ہے، اس پر چیف جٹس نے ریمارکیس دئیے کہ ڈاکڑ صاحب ہم آپ کو جانے نہیں دیں گے۔ ریکارڈ پر ہے کہ مقدمہ کی سماعت کے بعد ڈاکڑ شاہد مسعود کو دیگر ٹی وی چنیلز کے اینکر پرسنز نے بھی اس پر قائل کرنے کی کوشش کی کہ وہ اپنے الفاظ واپس لیتے ہوئے عدالت عظمی سے معذرت کرلیں مگر وہ اس پر تیار نہ ہوئے۔
افسوس کہ نجی چنیل کے اینکر پرسن نہ صرف خود شرمسار ہورہے ہیں بلکہ ملک بھر کے صحافیوں سر ندامت سے جھکانے پر مجبور کررہے ہیں۔ یقینا انسان خطا کا پتلا ہے، کسی دانشور نے خوب کہا کہ انسان ہوں یا قوم غلطیوں سے نہیں غلیطوں پر اصرار کرنے سے تباہ ہوا کرتی ہے۔
مذکورہ معاملہ کا مثبت پہلو یہ ہے کہ مسقبل میں کوئی بھی صحافی ایسی بات کہنے یا لکھنے سے گریز کرسکتا ہے جس کے بارے میں اس کے پاس ٹھوس ثبوت موجود نہ ہو۔ دیگر شعبوں کی طرح قومی میڈیا بھی ارتقائی عمل سے گزر رہا۔لہذا اس میں ایسے لوگ ہو سکتے ہیں جو اس شعبہ کے بنیادی اصولوںسے بھی واقفیت نہ رکھتے ہوں مگر یقین رکھنا چاہے کہ ایسے حضرات اب زیادہ دن تک اپنی حیثیت برقرار نہیں رکھ پائیں گے۔

zaheer-babar-logo

Scroll To Top