بھارت کی مختلف ریاستوں میں بی جے پی اور کمیونسٹ پارٹی کے کارکنوں میں جھڑپیں

lبی جے پی کے کارکنان نے ایک دن میں لینن کے دو مجسمے زمین بوس کردیئے۔ فوٹو : انٹرنیٹ

نئی دہلی: بھارت کی مختلف ریاستوں میں بی جے پی اور کمیونسٹ پارٹی کے کارکنوں میں جھڑپوں کے بعد صورت حال کشیدہ ہوگئی ہے۔

بھارت میں رواں ماہ کی 3 تاریخ کو ریاست تری پورا کی اسمبلی کے انتخابات ہوئے جن میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے 60 میں سے 45 نشستوں پر فتح حاصل کر کے 25 سال سے حکمراں جماعت مارکسی کمیونسٹ پارٹی کو شکست فاش سے دوچار کر دیا۔ فتح کا جشن مناتے ہوئے جے پی کے کارکنان نے جنوبی تری پورہ کے شہر بیلونیا اور  سبروم میں نصب لینن کے مجسمے گرا دیئے ہیں جس کے بعد بی جے پی اور کمیونسٹ پارٹی کے کارکنان کے درمیان تصادم کا آغاز ہو گیا۔ بی جے پی کے کارکنان نے مخالف جماعت کی املاک کو بھی آگ لگا دی۔

بھارت کی شمال مشرقی ریاست تری پورا میں جاری ہنگامہ آرائی کو روکنے کے لیے وزرات داخلہ نے نئی حکومت کی تشکیل تک امن و امان کی بحالی کی ذمہ داری گورنر کو تفویض کردی ہے جس کے بعد گورنر نے ڈائریکٹر جنرل پولیس کو طلب کر کے فسادات سے متعلق رپورٹ طلب کی اور قیام امن کے لیے تجاویز دیں، متاثرہ علاقوں میں پولیس کا گشت بڑھا دیا گیا ہے۔

فاتح جماعت کے رہنما اور وزیراعظم نریندرا مودی 9 مارچ کو تری پورا کے دارالحکومت اگرتلہ پہنچ رہے ہیں جہاں نومنتخب اسمبلی کے وزیراعلیٰ بپلاب دیب اپنے عہدے کا حلف اُٹھائیں گے، بپلا دیب بھارتی جنتیا پارٹی کے صوبائی صدر بھی ہیں۔

تری پورا میں لینن کے مجسمے گرائے جانے کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، مظاہرین نے بھارتی وزیراعظم کے پتلے جلا دیئے جب کہ کمیونسٹ رہنماؤں نے بھارتیہ جنتا پاٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے فسادات کا ذمہ دار بھارتی وزیراعظم کو قرار دیا ہے۔

Scroll To Top