حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے جھوٹ کی یلغار کو کچلنے کے لئے کیا راستہ اختیار کیا تھا ؟

اسلام دین آدم ؑ ہے۔۔۔ اسلام دین نوح ؑ ہے۔۔۔ اسلام دین ابراہیم ؑ ہے۔۔۔ اسلام دین موسیٰ ؑ ہے۔۔۔ اسلام دین عیسیٰ ؑ ہے۔۔۔ اور حضرت محمد ﷺ اس دین کو اپنی حتمی شکل میں نسلِ انسانی کا مقدر بنانے کے لئے آئے تھے ۔۔۔ آپ ﷺ نے حج کے موقع پر دیئے جانے والے اپنے آخری خطبے میں ایک بہت بڑے اجتماع کے سامنے اپنی امت سے مخاطب ہو کر کہا۔۔۔ ” گواہی دو کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے جو فریضہ دیا وہ میں نے پوری دیانتداری کے ساتھ ادا کیا ۔۔۔ “ خلق خدا نے گواہی دی تو آپ ﷺ نے فرمایا۔۔۔
” آج تمہارا دین طے پا گیا ہے۔۔۔ اسلام تمہارا دین ہے ۔۔۔ اور تا قیامت اسلام ہی تمہارا دین رہے گا۔۔۔ اس پر صدقِ دل کے ساتھ قائم رہنا۔۔۔ “
پھر کیا ہوا ؟
آپ ﷺ کے وصال کے فوراً بعد ایسے کذاب سامنے آگئے جنہوں نے نبوت کے جھوٹ دعوے کئے ۔۔۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے آہنی ارادے اور پوری قوت کے ساتھ جھوٹ کی بنیاد پر دین میں تفرقہ ڈالنے والے ان بدبختوں کو کچل دیا۔۔۔
المیہ یہ ہوا کہ حضرت عمر فاروق ؓ کی شہادت کے بعد جھوٹ کی بنیاد پر امت میں تفرقہ ڈالنے کا ایسا سلسلہ شروع ہوا کہ ایک اللہ ` ایک محمد ﷺ ` ایک قرآن اور ایک اسلام پر ایمان رکھنے والے مختلف فرقوں اور جماعتوں میں تقسیم ہوتے چلے گئے۔۔۔
یہ سلسلہ آج تک نہیں رک سکا۔۔۔
ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم ” جھوٹ “ پر کان دھرنا شروع کرتے ہیں تو پھر اس کے سحر میں گرفتار ہوتے چلے جاتے ہیں۔۔۔ جھوٹ جب داستانوں کو جنم دیتا ہے تو ان داستانوں کا سحر ایسے لوگوں کو سچ سے دور لے جاتا ہے جن کی آشنائی سچ کے ساتھ کمزور ہوتی ہے۔۔۔
میں نے یہ ساری تمہید صرف یہ بتانے کے لئے باندھی ہے کہ آج کے دور میں میڈیا وہ قوت بھی رکھتا ہے جو آدمی کو سچ کی طرف کھینچے اور اس قوت کا حامل بھی ہے جو آدمی کو جھوٹ کی دلدل کی طرف گھسیٹ لے جاتی ہے۔۔۔
جھوٹ ہمیشہ کسی مقصد کے حصول اور کسی مفاد کی تکمیل کے لئے بولا جاتا ہے۔۔۔ ہمارے میڈیا میں جو شخصیات جھوٹ بولتی ہیں ان کا مقصد اپنی جیبیں بھرنے کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔۔۔ اور جو شخصیات ان ” سوداگرانِ ضمیر “ کی جیبیں بھرتی ہیں ان کے مقاصد اور مفادات کی جڑیں دور دور تک پھیلی ہوئی ہیں۔۔۔
ایک بات تو طے ہے کہ طاقت اور اقتدار کے حصول کی خواہش انسانی جبّلتوں میں سب سے نمایاں ہوتی ہے۔۔۔مسلیمہ کذاب نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیوں کیا تھا۔۔۔ وہ اپنی طاقت اور اقتدار کا دائرہ پھیلانے کا خواہشمند تھا۔۔۔
جھوٹی نبوت کے دیگر دعویدار بھی ” پاور “ کے خواہشمند تھے۔۔۔ ” پاور “ ایک جامع اصطلاح ہے جو اس کے طلبگاروں کی ذہنی کیفیت کی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔۔۔
میاں نوازشریف بھی ” پاور “ کے حصول کے لئے سیاست میں آئے۔۔۔ اور ” پاور “ میں مال و دولت کو ملٹی پلائی (Multiply)کرنے کی کتنی خاصیت ہے اس سے میاں صاحب کے والد محترم پوری طرح آگاہ تھے ۔۔۔ میں سیاست پاور اور مال و دولت کے عوامل سے لبریز اِس داستان کی تفصیلات میں نہیں جاﺅں گا۔۔۔ لیکن یہ ضرور بتاﺅں گاکہ میاں صاحب کو اپنے ” سفرِ اقتدار “ کے آغاز میں ہی میڈیا کی طاقت کا علم تھا۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنے ” ہیلی کاپٹر گروپ“ کے لئے ایسے ” قابل “ لوگ تلاش کئے جن کی خالی جیبیں بھرے جانے کے لئے بے قرار تھیں۔۔۔ کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو ہیلی کاپٹر گروپ کا حصہ تو نہ بنے لیکن بڑی مہارت کے ساتھ میاں صاحب کا سیاسی واخلاقی قد کاٹھ بڑھاتے اور ان کے مخالفین کی کردار کشی کرتے رہے۔۔۔
میاں صاحب کی فیاضی کے نتیجے میں ضمیروں کے یہ ” باوقار تاجر“ اب خاصے امیر کبیر بن چکے ہیں۔۔۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ ” لفظوںاور سوچوں کی تجارت “ کرنے والے ان ہی اصحاب نے سیاسی طور پرمیاں صاحب کو زندہ رکھا ہوا ہے۔۔۔یہ لوگ فوج اور عدلیہ کو بھی نشانے پر رکھے ہوئے ہیں اور میاں صاحب کے لئے سیاسی چیلنج بننے والے عمران خان کو بھی۔۔۔
میں اپنے آپ سے اکثر یہ سوال کرتا ہوں۔۔۔ ” حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے جھوٹ کی یلغارکو کچلنے کے لئے کیا راستہ اختیار کیا تھا ۔۔۔؟“
جواب مجھے ایک ہی ملتا ہے۔۔۔
یہ سوال اُن اکابرین کو بھی اپنے آپ سے کرنا چاہئے جنہوں نے وطنِ عزیز کے وجود اور اس کی عظمت کے تحفظ کا حلف اٹھارکھا ہے۔۔۔

aaj-ki-baat-new

Scroll To Top