پاک روس تعلقات کا مستقبل روشن ہے !

zaheer-babar-logo

اس حقیقت کو جھٹلانا مشکل ہوچکا کہ عالمی سطح پر نئی صف بندی ہورہی،گزرے ماہ و سال کے برعکس اس تبدیل شدہ منظر نامے میں جنوبی ایشیاءکا کردار کھل کر سامنے آرہا یعنی عالمی سطح پر چین اور روس اپنی اہمیت تسلیم کروانے میں بڑی حد تک کامیاب ہوچکے۔ اس پس منظر میں ماضی کے دو حریف روس اور پاکستان کے درمیان سفارتی اور اقتصادی تعلقات بہتر کرنے کی سنجیدہ کوششیں سالوں سے جاری ہیں جن کی کامیابی کی صورت میں علاقے کی سیاسی اور دفاعی صورت حال بدلنے کے علاوہ روس کی گیس کمپنیوں کے لیے نئی منڈیاں بھی کھل جائیں گے۔
پاکستان اور روس کے تعلقات میں سرد مہری کی وجہ افغان جنگ تھی جس میںپاکستان نے کھل کر امریکہ کا ساتھ دیا تھا ، اسی لڑائی کے نتیجے میں روس کا شیرازہ بکھر گیا تھا۔ اب صورت حال اسی کی دہائی میں سویت یونین کے افغانستان پر قبضے کے بالکل برعکس ہو چکی ۔اس میں شک نہیںکہ پاکستان اور روس کے درمیان بڑھتی ہوئی گرمجوشی ابھی ابتدائی نوعیت کی ہے مگر ماہرین کے بعقول روس اور پاکستان کے درمیان توانائی اور دفاعی شعبوں میں تعاون کے روشن امکانات ہیں۔ ایک خیال یہ ہے کہ روس اور پاکستان
باہمی تعلقات فی الحال افغانستان تک محدود ہے جہاں روس نے ماضی میں اپنے ہی خلاف لڑنے والے طالبان سے روابط استوار کر لیے ہیں ، ادھر روس کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان میں مذاکرات کے ذریعے قیام امن کی کوششوں کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔روس اور پاکستان دولت اسلامیہ کی افغانستان میں موجودگی پر برملا تشویش کا اظہار کرچکے۔ دونوں ملکوں کو خدشہ ہے کہ افغانستان میں داعش کی موجودگی سے خطے میں سلامتی کے سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔۔
روس اور پاکستان نے سالانہ مشترکہ تربیتی جنگی مشقیں بھی جاری رکھنے پر اتفاق سامنے آچکا جن کا آغاز سنہ 2016 میں کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ چار روسی ساخت کے لڑاکا ہیلی کاپٹروں اور پاکستان میں بنائے جانے والے جے ایف 17 تھنڈر لڑاکا طیاروں کے لیے روسی ساخت کے انجنوں کی خریداری پر بھی اتفاق رائے سامنے آیا ہے۔
پاکستان اور روس کے بڑھتے ہوئے تعلقات پر بھارت میں تشویش پائی جاتی ہے۔ دراصل گذشتہ دو دہائیوں میں روس اور بھارت کے درمیان قریبی تعلقات رہے۔ بعض بھارتی مبصرین اس خدشہ کا بھی اظہار کرچکے کہ اگر سیاسی سطح پر روس پاکستان کی کھل کر حمایت کرتا ہے تو اس سے بھارت کے لیے مشکل پیدا ہو جائے گی۔پاکستان کی حد تک اس سچائی سے انحراف نہیںکیا جاسکتا کہ موجودہ صورت حال میں پاکستان کے لیے روس کے تعلقات کئی لحاظ سے اہمیت کے حامل ہیں، یعنی روس کا پاکستان کے قریب آنا خطے میں سفارتی سطح پر نئی زندگی ملنے کے مترادف ہے۔ پاکستان کے لیے جون سے فائنشیل ٹاسک فورس نے ان ملکوں میںنام شامل کرنے کی منظوری دی ہے جو دہشت گردی کے خلاف موثر اقدمات اٹھانے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ امریکہ کے دبا پر اس کے مغربی اتحادیوں برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے فائنینشل ٹاسک فورس کے اجلاس میں پاکستان کا نام اس سال جون سے ان ملکوں کی فہرست میں شامل کرنے کی منظوری دی ہے جو دہشت گردی اور دہشت گرد گرہوں کے خلاف تسلی بخش کارروائی کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
ادھر پاکستان نے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا یہ اقدام پاکستان کو عالمی سطح پر رسوا کرنے کی کوشش ہے۔ پ
ماضی کے تلخ تجربات ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے پاکستان اب اپنی خارجہ پالیسی کے تاریخی عدم توازن کو درست کرنے کے لیے کوشاں ہے۔۔ بظاہر پاکستان مغرب سے مکمل طور پر تعلقات ختم کرنا نہیں چاہ رہا بلکہ خارجہ پالیسی میں توازن پیدا کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ ماضی میں پاکستان روایتی طور پر امریکی اسلحے پر انحصار تھا مگر بظاہر اب اس کے پاس روس سے اپنی دفاعی ضروریات پوری کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان ضرورت سے زیادہ چین پر انحصار کرنے سے بھی گریز کرنا چاہتا ہے۔شائد یہی سبب ہے کہ پاکستان اور روس توانائی کے شعبے میں تیزی سے قریب آرہے ہیں۔اس کا ثبوت یہ کہ گذشتہ سال اکتوبر میں پاکستان اور روس نے ایک معاہدے پر دستخط کیے جس کے تحت روس کی بڑی کمپنی گیزپرام پاکستان کو مائع گیس سپلائی کرنے کے لیے مذاکرات شروع کرنے جارہی۔مذید یہ کہ روس لاہور سے کراچی تک ایک ہزار ایک سو کلو میٹر طویل گیس پائپ لائن بچھانے کا عزم ظاہر کرچکا۔ واضح رہے کہ ستر کی دہائی میں جب روس نے کراچی میں سٹیل مل لگائی تھی اس کے بعد سے پاکستان میں روس کا یہ سب سے بڑا منصوبہ ہو گا۔، ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ روس کراچی سٹیل ملز کو دوبارہ اپنے پاں پر کھڑا کرنے میں بھی دلچسپی ظاہر کر چکا ۔
یہ امر حوصلہ افزاءکہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی میں تنوع کی پالیسی پر گامزن ہے۔ ملکوںکے باہم تعلقات میں تبدیلی غیر فطری نہیں ، اس کے برعکس حقیقت یہی ہے کہ جو چیز دائمی ہے وہ قوم کا مفاد ہے۔ ماضی میں جوا ہوا سو ہوا مگر اب پاکستان کا روس کے قریب آنا اس کے طول المدتی مفاد کے حصول میں معاون ہوسکتا ہے۔ یہ اہم ہے کہ ایک خاص حد سے زیادہ پاکستان کوچین پر ہرگز انحصار نہیں کرنا چاہے بلکہ علاقائی اور عالمی سطح پر اپنی خارجہ پالیسی کو متحرک بنانا چاہے۔ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان امریکہ سمیت کسی بھی ملک کے ساتھ تعلقات خراب کرنے کے حق میں نہیں۔

Scroll To Top