شام کے علاقے غوطہ کی صورت حال قطعی ناقابل قبول ہے، اقوام متحدہ

yغوطہ میں ایک ہفتے سے جاری بمباری میں 4 سو سے زائد افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ فوٹو : فائل

جنیوا: اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ جنگ زدہ شام کے نواحی علاقے غوطہ میں مسلسل بمباری کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال ’ناقابل قبول‘ ہے۔ 

اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر امدادی کاموں کے علاقائی رابطہ کار اور شام کے لیے ذمے دار اہلکار پانوس مُومٹزس نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ مشرقی غوطہ میں مسلسل بمباری جاری ہے جس میں معصوم بچے اور غیر مسلح عام شہری شکار بن رہے ہیں، شام کے شہریوں کو ’اجتماعی سزا‘ دی جا رہی ہے جو ’قطعی ناقابل قبول‘ ہے۔
مشرقی غوطہ پر شامی فضائیہ کی بمباری اور زمینی دستوں کی طرف سے حملوں میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران چھ سو افراد ہلاک اور دو ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، ہلاک ہونے والوں میں معصوم شیر خوار بچے اور خواتین بھی شامل ہیں جب کہ شام کے سرکاری میڈیا نے اتوار کے روز بتایا کہ اسد حکومت کے دستوں کو باغیوں کے زیر قبضہ مشرقی غوطہ کی طرف نئی پیش قدمی کا موقع ملا ہے اور کئی محاذوں پر سرکاری دستے آگے بڑھنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
2 مارچ کو غوطہ پر بلائے گئے ہنگامی اجلاس میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کے چیف کمشنر رعد زيد الحسين نے کہا تھا کہ جو لوگ شام میں خونریزی میں ملوث ہیں ان سب کا جنگی جرائم کے تحت احتساب ہوگا، جنگی جرائم انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں اس لیے شام میں جاری جنگ کے شراکت دار اس بات سے آگاہ رہیں کہ انہیں کڑے حساب سے گزرنا ہوگا۔

قبل ازیں اقوام متحدہ کے ادارے برائے اطفال ( یونیسیف) نے غوطہ میں ہونے والی بمباری میں معصوم بچوں کی ہلاکت پر احتجاجاً  ’’ خالی اعلامیہ ‘‘ جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ کوئی بھی الفاظ معصوم بچوں کی ہلاکت پر دکھ اور کرب کو بیان کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے اس لیے دنیا کو پیگام دینے کے لیے خالی اعلامیہ جاری کر رہے ہیں۔

Scroll To Top