بہت جلد پنجاب کے عوام بھی یہ جان جائیں گے کہ ان کی ”پَگ“ میں لگے داغ کا نام کیا ہے ۔۔۔

قانون کے شکنجے میںپہلی مرتبہ آنے والے دیسی گاڈ فادر میاں نوازشریف کی آہ وبکا جاری ہے۔۔۔ 5مارچ2018ءکو احتساب عدالت کے سامنے میڈیا سے گفتگو کرتے وقت موصوف نے فرمایا کہ ” وزیراعظم نہ تو قاتل تھا نہ ہی چور ڈاکو اور سمگلر ۔۔۔ پھر بھی اسے نکال دیا گیا۔۔۔ کروڑوں عوام کے فیصلے کو پانچ افراد کے فیصلے نے حقارت کے ساتھ مسترد کردیا۔۔۔ مگر کیا پاکستان کے عوام اِس شرمناک فیصلے کو قبول کریں گے ۔۔۔ ؟ ہرگز نہیں۔۔۔ نوازشریف اس ظالمانہ فیصلے کے خلاف چٹان کی طرح کھڑا ہے ۔۔۔ عوام نوازشریف کے ساتھ ہیں۔۔۔ اس کاثبوت ضمنی انتخابات کے نتائج ہیں۔۔۔“
میں اس بیانیہ کا جواب ذرا تفصیل سے دینا چاہتا ہوں۔۔۔ سب سے پہلے تو ضمنی انتخابات کا ذکر ہوجائے۔۔۔ کیا میاں نوازشریف پاکستان کی تاریخ کی کسی بھی حکومت ِ وقت کا نام بتا سکتے ہیں جس نے کوئی بھی ضمنی انتخاب اپوزیشن کو جیتنے دیا ہو۔۔۔؟ کیا پاکستان مسلم لیگ (ق)اپنے دورِ حکومت میں ہر ضمنی انتخاب بھاری اکثریت کے ساتھ نہیں جیتا کرتی تھی۔۔۔؟ اس کے علاوہ کون غیر جانبدار مبصر اس حقیقت سے انکار کرے گا کہ پاکستان الیکشن کمیشن ایک عرصے سے میاں نوازشریف کی ” بی ٹیم “ بنا ہوا ہے۔۔۔ ؟ جب سے اس الیکشن کمیشن کا کنٹرول مرحوم غلام اسحاق خان نے میاں نوازشریف کے سپرد کیا یہ ادارہ پوری وفاداری کے ساتھ اپنے فرائض ادا کررہا ہے ۔۔۔ اس کا تازہ ترین ثبوت اسحاق ڈار نامی ایک اشتہاری ملزم کا قومی سینٹ کا ایک ” معزز“ رکن بننا ہے۔۔۔اس ناقابلِ یقین واقعے سے قوم کو ایک پیغام یہ ملا ہے کہ میاں نوازشریف اِس الیکشن کمیشن کے ہاتھوں نریندر مودی کو بھی پاکستان کی پارلیمنٹ کا ایک معزز رکن بنوا سکتے ہیں۔۔۔
میاں نوازشریف صاحب۔۔ آپ کو آج تک ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ ووٹ کبھی نہیں ملے۔۔۔ اتنے ووٹ بھی 2013ءکے انتخابات میں ملے جنہیں ” آراوز “ کا الیکشن کہا جاتا ہے۔۔۔ اگر تاریخی دھاندلی کے الزامات کو مائنس کردیا جائے تو بھی پی ٹی آئی اور پی پی پی کے مشترکہ ووٹ آپ کے ووٹوں کے برابر تھے۔۔۔ اور اگر ایم کیو ایم کے ووٹ شامل کئے جائیں تو آپ اقلیت میں چلے جاتے ہیں۔۔۔ پھر آپ اتنا بڑا سفید جھوٹ کیسے بولتے ہیں کہ کروڑوں عوام آپ کے ساتھ ہیں۔۔۔ جو جلسے آپ اربوں کے اخراجات کے بل بوتے اور حکومتی مشینری کے استعمال کے ذریعے منعقد کرا کر اپنی بے پناہ مقبولیت کا تاثر پیدا کررہے ہیں ایسے جلسے سندھ میں زرداری صاحب بھی کرالیتے ہیں ۔۔۔ آپ کو یاد رکھنا چاہئے کہ پاکستان صرف پنجاب نہیں ۔۔۔ کیا یہ درست نہیں کہ آپ نے قومی سیاست میں علاقائی اور لسانی تعصب کا زہرگھولنے کے لئے 1988ءاور1990ءکے انتخابات میں” جاگ پنجابی جاگ۔۔۔ تیری پگ نوں لگ گیا داغ “ کا نعرہ لگایا ؟ اور آج آپ اقتدار سے چمٹے رہنے کے لئے شیخ مجیب الرحمان نمبر 2تک بننے کے لئے پرتول رہے ہیں ؟ مجھے حیرت نہیں ہوگی اگر آپ اپنی حمایت میں کوئی نئی مکتی با ہنی بنوانے کی کوشش کریں۔۔۔
میاں صاحب آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ بڑا چور وہ نہیں ہوتا جو جیبیں کاٹتا ہے یا گھروں میں نقب لگاتا ہے ۔۔۔ بڑا چور وہ ہوتا ہے جو عوام کی اجتماعی دولت میں نقب لگاتا ہے۔۔۔ اگر آپ اپنی لندن کی املاک کا حساب دے دیتے اور قطری خط جیسے لطیفوں کا سہارا نہ لیتے تو آپ کو کون ڈاکو قرار دیتا ۔۔۔؟ اور جن املاک کی ملکیت کے معاملے نے آپ کو اس حال تک پہنچایا ہے وہ تو ان چوریوں کا نتیجہ تھیں جو 1993ءتک کی گئیں۔۔۔ ابھی تو قوم نے آ پ سے ان ڈاکوں کا حساب بھی لینا ہے جن کی وجہ سے پاکستان نوے ارب ڈالر کا مقروض بن چکا ہے۔۔۔
یہ درست ہے کہ آپ اپنے ووٹروںکو اپنی اداکاری اور دروغ بیانیوں کے ذریعے کچھ وقت کے لئے بے وقوف بنا سکتے ہیں مگر بالآخر پنجاب کے عوام بھی جاگیں گے اور جان جائیں گے کہ ان کی پَگ میں لگے سب سے بڑے داغ کا نام میاں نوازشریف ہے۔۔۔

aaj-ki-baat-new

Scroll To Top