”وہ دوزخ جس کا ایندھن بچے ہیں “

zaheer-babar-logo

شام میں نہتے شہریوں کے قتل عام کا سلسلہ بدستور جاری وساری ہے۔ عالمی میڈیا کی جانب سے تباہی وبربادی کی منظر کشی کے باوجود اصلاح احوال کی ٹھوس اقدمات تاحال نہیں اٹھائے جاسکے۔ ادھر اقوام متحدہ کے بعقول جنگ زدہ شام کے دارالحکومت دمشق کے نواح میں مشرقی غوطہ کی موجودہ صورت حال قطعی ناقابل قبول ہے، جہاں دو ہفتوں میں زمینی اور فضائی حملوں میں قریب چھ سو افراد ہلاک اور دو ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ۔ اقوام متحدہ نے تقریبا ایک ہفتہ قبل مشرقی غوطہ میں فائر بندی کا مطالبہ کیا تھا، لیکن اس کے بعد سے وہاں صورت حال بہتر ہونے کے بجائے خونریزی میں مزید اضافہ ہوا۔ فریقین نے عالمی ادارے کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے شہری آبادیوں کو نشانے نہ بنانے سے انکار کردیا ۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ مشرقی غوطہ کے شہری علاقہ چھوڑنے سے انکاری ہیں مگر مشرقی غوطہ میں فائر بندی کے مطالبے کے باوجود فضائی حملے اور جھڑپیں جاری ہیں۔عالمی ادارے کے انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر امدادی کاموں کے علاقائی رابطہ کار اور شام کے لیے ذمے دار اہلکار پانوس مومٹزس نے ایک بیان میں کہا کہ مشرقی غوطہ میں جس طرح عام شامی شہریوں کو اجتماعی سزا دی جا رہی ہے وہ قطعی ناقابل قبول ہے۔“
حقیقت یہ ہے کہ شام کے مشرقی غوطہ کا علاقہ گزشتہ چھ برسوں سے شامی باغیوں کے قبضے میں ہے اور دمشق حکومت فوج کے ذریعے شروع سے ہی اس کوشش میں رہی ہے کہ کسی طرح اس علاقے کو دوبارہ اپنے کنٹرول میں لے لے۔
گزشتہ دو ہفتوں کے دوران وہاں شامی فضائیہ، شام کے زمینی دستوں، اسد حکومت کے حامی ملیشیا گروپوں اور صدر بشارالاسد کے سیاسی اور عسکری اتحادی روس کی مدد سے کیے جانے والے حملوں میں تیزی آ چکی۔ صورت حال پر نگاہ رکھنے والے بعض انسانی حقوق کے عالمی اداروں کے بعقول شام کی جنگ وہ دوزخ بن چکی جس کا ایندھن بچے ہیں۔مشرقی غوطہ میں طبی امداد فراہم کرنے والی تنظیم سیرئین سول ڈیفنس نے الزام کیا ہے کہ صدر اسد کی حامی فورسز نے بمباری کے دوران کلورین گیس کا استعمال کیا جس کی وجہ سے وہاں بچوں کی اموات ہورہیں ، متاثرہ افراد کو سانس لینے مین دشواری کا سامنا ہے۔بعض امدادی اداروں کے بعقول 18 فروری سے مشرقی غوطہ میں کیے جانے والے فضائی حملوں اور زمینی گولہ باری سے اب تک کم وبیش600 کے قریب افراد جان بحق اور دو ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ۔ دوسری جانب مشرقی غوطہ سے شامی باغیوں کی طرف سے ملکی دارالحکومت دمشق پر فائر کیے جانے والے مارٹر گولوں سے بھی اب تک درجنوں عام شہری ہلاک اور زخمی ہوئے ۔
اقوام متحدہ کے شام کے لیے اعلی امدادی اہلکار نے صورت حال کی سنگینی بتاتے ہوئے کہا ہے کہ بجائے اس کے ہمیں اس خونریزی میں کوئی وقفہ دیکھنے کو ملتا زیادہ سے زیادہ ہلاکتیں نظر آ رہی ہیں ۔ بین الاقوامی میڈیا میں ایسی رپورٹیں بھی منظر عام پر آچکیں جہاں عام لوگوں کو خوراک کی فراہمی ممکن نہیںوہی ہسپتالوں پر بھی بمباری کی جارہی ۔اس صورت حال میں شام کے سرکاری میڈیا نے دعوی کیا ہے کہ اسد حکومت کے دستوں کو باغیوں کے زیر قبضہ مشرقی غوطہ کی طرف نئی پیش قدمی کا موقع ملا ہے اور کئی محاذوں پر سرکاری دستے آگے بڑھنے میں کامیاب ہوئے ۔یادرہے کہ جرمن چانسلر روس اور ایران سے شام میں تشدد ختم کروانے کی اپیل کرچکیں جس کا تاحال مثبت جواب سامنے نہیں آیا۔
مشرقی غوطہ میں موجود میڈیا نمائندوں کے مطابق شہر کھنڈارت کا منظر پیش کررہا ۔ شہر میں بنیادی انسانی ضروریات کی فراہمی بھی ناممکن ہوچکی۔ کئی شہریوں کے ساتھ بات چیت کے بعد ان کو درپیش حالات کی دل ہلا دینے والی تفصیلات کے مطابق شامی شہر کے باسی گزشتہ دو ہفتوں کے دوران اپنے 600 سے زائد پیاروں کو سپرد خاک کرچکے ۔
حالات کی سنگینی کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا کہ شہری فضائی اور زمینی حملوں کے دوران اپنے جانیں بچانے کے لیے جو پناہ گاہیں استعمال کرتے رہے، وہی ان کے مقبرے بن چکے یعنی جہاں لوگ پناہ لیتے تھے وہی سے اب ملبے کے نیچے سے ان کی لاشیں مل رہیں۔
پچاس سے زائد اسلامی ملکوں کے باوجود شام میں ایک خدا، ایک رسولﷺ اور ایک قرآن کو ماننے والوں کے ساتھ جو کچھ ہورہا وہ باعث شرم بھی ہے اور باعث تشویش بھی۔ شہریوں کے قتل عام پر مسلم اشرافیہ کی بے حسی کی جس قدر مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ نسل درنسل چلے آنے والے حکمران طبقہ کے لیے عام مسلمان کی حالت زار بدلنے میں ہرگز دلچیسپی نہیں رکھتا ، وہ اپنے اقتدار کو دوائم بخشنے میں اس طرح مصروف عمل ہے کہ مذہبی واخلاقی زمہ داریوں سے کنارکش ہوچکا۔ آج معاملہ محض شام تک ہی محدود نہیں ، فلسطین اور کشمیر میں منعظم انداز میں جاری اہل توحید کا قتل عام عشروں سے جاری وساری ہے۔یقینا مسلم دنیا کا زوال کا شکار ہے، امت مسلمہ کا تصور کہنے کی باتیں ہیںحقیقت یہ ہے کہ بیشتر اسلامی ملک اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے۔ حالیہ چند سالوں میں توقع کی جارہی تھی کہ شائد ترکی مسلم ممالک کی رہنمائی کا فریضہ سرانجام دے مگر یہ خواہش بھی باجوہ دم توڈتی ہوئی دکھائی دے رہی۔
حقیقت یہ ہے کہ اہل شام کی مدد مسلمان ملکوں سے کہیں بڑھ کر مغربی دنیا نہ کی بالخصوص جرمنی مسلمان خاندانوں کی مدد کے لیے پیش پیش دکھائی دیا۔

Scroll To Top