کشمیر ی نوجوان اور آزادی کی تحریک

  • زین العابدین

مقبوضہ جموں و کشمیر مےں امن و امان کی بگڑتی صورتِ حال کے پےشِ نظر بھارتی حکومت کیجانب سے کشمیریوں کےساتھ مذاکرات کےلئے دھنےشور شرما کو بطور نمائندہ تعینات کیاجس نے مقبوضہ وادی کے اپنے پہلے دورے کے بعد سفارشات پےش کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوںکے بھارتی حکومت اور وادی کی انتظامیہ پر اعتماد کی بحالی کےلئے پہلے قدم کے طور پر ان کشمیری نوجوانوں کےلئے عام معافی کا اعلان کیا جائے جنہیں پچھلے چند سالوںکے دوران بھارتی افواج پر پتھراو¿ کرنے کے جرم مےں گرفتار کیا گےا تھا۔ اس سفارش پر عمل کرتے ہوئے بھارتی قابض افواج پر پتھراو¿ کرنےوالے اےسے نوجوانوں کو، جنہیں اس جرم مےں صرف اےک بار ےا پہلی بار گرفتار کیا گےا تھا، معافی دےنے، ان کےخلاف قائم مقدمات پر نظرثانی کرنے ےا مقدمات واپس لےنے کا اعلان کیا گےا ہے۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ بھارتی افواج کو پچھلے دس سالوں مےں جس بڑے چےلنج کا سامناہے وہ کشمیر کے ان نوجوانوں پر قابو پانا ہے جو مقبوضہ وادی کے ہر گلی کوچے اور سڑک پر ہر طرح کے خوف و خطر سے بے نیاز ہو کر بھارتی قابض افواج پر پتھراو¿ کرتے نظر آتے ہےں۔ بہر حال اس اقدام کا حسبِ رواےت فائدہ ہونے کا کم ہی امکان نظر آتا ہے کیونکہ کشمیری نوجوانوں کی اکثریت اےسی ہے جنہیں کئی بار اس جرم کی وجہ سے قائم مقدمات کے نتیجے مےں جےل کی سلاخوںکے پیچھے ڈالا گےا۔ کشمیری نوجوان ہر بار جب جےل سے باہر آتا ہے تو وہ بھارت اور وادی مےں موجود اسکی سات لاکھ قابض افواج سے اپنی شدید نفرت کا اظہار بار بار کرتا ہے ۔
بھارت ، اسکی قابض افواج، پولیس، خفیہ اےجنسیوں اور کٹھ پتلی حکومت کے روےّے کے باعث کشمیری عوام خاص طور پر کشمیری نوجوان نہاےت تضحیک محسوس کرتے ہےں اور بھارتی افواج کو اےک قابض اور غاصب قوت کے طور پر ےکھتے ہےں جس سے آزادی اور وادی سے جسکا انخلاءنہاےت ضروری سمجھتے ہےں لےکن بھارت اس جانب توجہ دےنے پر تےّار نہیں۔
ےاد رہے کہ 2008 مےں بھارتی حکومت نے تمام قاعدے قوانین ، آئینی و اخلاقی پابندیوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے امر ناتھ شرائن بورڈ کومقبوضہ کشمیر مےں زمین کی الاٹمنٹ کردی جس کےخلاف کشمیری نوجوان اٹھ کھڑے ہوئے۔2008کے دوران ہی مقبوضہ وادی مےں ہزاروں کی تعداد مےںبے نام قبرےں درےافت ہوئےں جنہوں نے بھارتی افواج کے ہاتھوں کشمیریوں کی نسل کشی اور مظالم کا بھانڈاساری دنیا کے سامنے پھوڑ دیا جسے چھپانے کےلئے بھارت نے جہاں مقبوضہ کشمیر مےں ذرائع بلاغ پر سخت قسم کی پابندیاں عائد کررکھی ہےں وہیں کسی انسانی حقوق کی تنظیم ےا اقوامِ متحدہ کی کسی ٹیم کو وادی مےں آنے کی کبھی اجازت نہیں دی۔ کشمیریوںنے بھارتی حکومت کے اقدامات کی وجہ سے اپنے شدید غم و غصے کے اظہار مےںبھارتی افواج پر پتھراو¿ کرنا شروع کردیا اور نتیجتاً کشمیری نوجوان بڑی تعداد مےں تحریکِ حریت مےں شامل ہونے لگے۔ 2010 مےں کشمیری نوجوانوں کا احتجاج عروج پر پہنچ گےا اور کشمیری نوجوانوںنے فلسطینی انتفاضہ کے طرز پر اپنی تحریک کو آگے بڑھاےا۔ 2010کے دوران سےنکڑوں کشمیری نوجوان بھارت مخالف جلوسوں اور مظاہروں مےں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہید ہو گئے جسکی وجہ سے سال 2010 کو “کشمیری نوجوانوں کی شہادتوں کا سال” قرار یا گےا۔جولائی 2016 مےں بھارتی افواج کے ہاتھوں حزب المجاہدین کے نوجوان کمانڈربرہان وانی کی شہادت کے بعد بھارت کےخلاف ردعمل مےں کئی گنا اضافہ ہو گےا جسکی روحِ رواں کشمیری نوجوان ، عورتےں اور بچّے تھے۔ مقبوضہ وادی کے سکول ، کالج اورےونیورسٹیوںکے طلباءو طالبات اور خواتین نے بھارت کےخلاف جاری تحریک کو مزید تےز کردیا ہے۔ بھارتی حکومت اور مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی انتظامیہ سے کشمیریوں کی بے زاری اور بداعتمادی کے سبب اب تو حالات یہ ہو چکے ہےں کہ بجلی کی بندش ، بے روزگاری اور اےسے دیگر مسائل پر ہونےوالے احتجاجی جلوس اور مظاہرے بھی بھارت سے آزادی کے جلوسوںاور احتجاجی مظاہروں مےں تبدیل ہو جاتے ہےں۔ درحقیقت کشمیریوں کو یہ ےقین ہو چکا ہے کہ انکے تمام تر مسائل و مصائب کی جڑ بھارتی حکومت اور اپنے ذاتی مفاد کےلئے اسکے ہاتھوں مےں کھےلنے والی کٹھ پتلی انتظامیہ ہے۔
پچھلی سات دہائیوں مےں مقبوضہ کشمیر مےں بھارتی ریاستی دہشتگردی اور قابض افواج کے ہاتھوں ہونےوالی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کوئی نئی بات نہیں۔ ماورائے عدالت قتل، زےرِ حراست ہلاکتےں، لاپتہ افراد ، بے نام قبرےں، خواتین کی بے حُرمتی، کشمیری املاک اور ذرائع معاش کی تباہی جےسے جرائم کشمیریوں کی زندگی کا حصّہ بن چکے ہےں۔ انسانی حقوق کےلئے کام کرنےوالی مقامی اور بےن الاقوامی تنظیموں کی طرف سے ہرسال مقبوضہ کشمیر مےں امن و امان کی بگڑتی صورتِ حال اور وہاں ہونےوالی انسانی حقوق کی ان بدترین پامالیوں کے بارے مےں تشویش کے اظہار کےساتھ متعدّد رپورٹےں پےش کیجاتی ہےں جن مےں دنیا کی توجّہ اس دےرینہ حل طلب مسئلے کے پائےدار، کشمیریوں کےلئے قابلِ قبول اور سب سے بڑھ کر اقوامِ متحّدہ کی قراردادوںکےمطابق حل کی طرف دلائی جاتی ہے لےکن نہ تو مظالم کی شدّت مےں ہی کمی لائی جا سکی ہے اور نہ بھارت پر دباو¿ ڈالا جاسکا کہ وہ کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ کہنے کی رٹ سے دست کش ہو کر خلوصِ نیّت کےساتھ کشمیریوں کے مصائب مےں کمی کی طرف توجّہ دے۔
مسئلہ کشمیر کی وجہ سے ہی جنوبی اےشیاءکا خطّہ مسلسل جنگی خطرات کی لپےٹ مےں رہتا ہے اور خود کشمیریوں کی زندگی بھی پچھلے ستّرسالوں سے ظلم و ستم اور غلامی کی چکّی مےں پِس رہی ہے۔لےکن عالمی برادری کی بے حسّی، مجرمانہ خاموشی اور بھارتی ہٹ دھرمی کے مقابلے مےں اسکی بے بسی نے اس تحریک کو اےک نیا رنگ دیا ہے جس نے عدم تشدّد کے بھارتی فلسفے کو اپناتے ہوئے تحریک مےں نوجوان نسل نے اپنا حصّہ ڈال دیا ہے جس نے اس تحریک مےں اےک تازہ رُوح پھونک دی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کشمیریوں کی دو نسلےں بندوق اور وحشت و بربریّت کے سائے تلے پل کر جوان ہوچکی ہےں اور انکے دل سے بندوق کی گولیوں ، آنسو گےس شےلنگ پولیس کے لاٹھی چارج اور تشدّد کا خوف نکل چکا ہے۔ لاکھوں ےتیموں اور ہزاروں بےواو¿ں کی اس وادی مےں نوجوان نسل کو بھی خوف و ہرا س کے اندھےروں مےں دھکےلنے کی کوشش کیجارہی ہے لےکن اب کشمیریوں کے صبر کا پےمانہ لبرےز ہو چکا ہے ۔ جہاں انہیں اقوامِ متحّدہ کی اس سلسلے مےںبے بسی اور عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی پر نہاےت ماےوسی ہوئی ہے وہیں اسلامی دنیا کی بے حسّی بھی انہیں اس حقیقت کا احساس دلا رہی ہے کہ آزادی کی نعمت انہیں پلےٹ مےں رکھ کر پےش نہیں کی جائےگی انہیں اپنی آزادی کے اس آخری مرحلے کی تاریخ کواپنے خُون سے لکھنا ہو گا۔کشمیریوں کی اس نئی نسل کو نہ تو بھارت کا ناجائز قبضہ منظور ہے اور نہ ہی قابض افواج کی موجودگی اورانکے ہاتھوں ظلم و بربریّت کا شکار ہونا قبول ہے۔ اسلئے “گو انڈیا گو” آج کشمیری نوجوانوں کا مقبول نعرہ بن چکا ہے اور پوری وادی اس نعرے کی بازگشت سے گونج رہی ہے جس پر بھارت شدید بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔
مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پُتلی انتظامیہ اور بھارتی حکومت کو اس نئی صورتِ حال سے باہر نکلنے کا کوئی راستہ دکھائی نہیں دے رہا۔بھارت کیجانب سے وادی کے مظلوم باسیوں کو پُرامن اور خاموش رہنے کی اپیل تو کیجاتی ہے لےکن خود وہ انہی کشمیریوں پر گولیاں برساتی ان بندوقوں کو خاموش کرنے پر راضی نہیں جنہوں نے سےنکڑوں گھروں کے چراغ گُل کر دئےے ہےں۔ کشمیر کی نوجوان نسل نے آزادہ کی تحریک کی باگ ڈور سنبھال لی ہے۔ تحریک مےں شامل ہوتا نوجوان کشمیریوں کا خون اس تحریک کی مقبولیّت مےں روز بروز اضافہ کا سبب بن رہا ہے۔ دراصل مقبوضہ کشمیر کی ہر گلی کے نکُڑ پر کھڑے بھارتی قابض افواج کے مسلّح اہلکاروں کے مقابلے کےلئے کشمیریوںکی اےک اےسی فوج تےّار ہوچکی ہے جو نہتّی ہے اور جس مےں کم سن بچّوں ، اسکول و کالج کے نوجوانوں کے ہمراہ اب خواتین اور بچیّاں بھی شامل ہےں۔ وادی کی حالیہ صورتِ حال بھارت اور عالمی برادری پر یہ واضح کرنے کےلئے کافی ہے کہ کشمیر کے مسئلے اوراس انسانی المیے کا واحد حل یہی ہے کہ بھارت ان وعدوں کی پاسداری کرے جو اس نے کشمیریوں اور عالمی برادری کےساتھ کررکھے ہےں۔ کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ سمجھنے کی غلط فہمی کی بھی اصلاح کر لے کہ وقت نے خود یہ ثابت کر دیا ہے کہ کشمیر نہ تو کبھی بھارت کا حصّہ تھا اور نہ ہی بن سکتا ہے۔ اپنی فوج کے انخلاءاور کالے قوانین کی منسوخی کا اعلان کرے اور اس پر عمل درآمد ےقینی بنائے ، سب سے اہم یہ کہ وادی مےں اقوامِ متحّدہ کی قراردادوں کےمطابق استصوابِ رائے کروائے جو کشمیریوں کا بنیادی مطالبہ ہے اور جس سے انکار کرنے کے بعد بھارت کو “جمہوریت پسند” اور ” انسانی حقوق کے علمبردار” ہونے کا کوئی حق نہیں۔

Scroll To Top