یہ مافیا اگر فوج اور عدلیہ کو نہیں للکار رہی تو پھر کس سے مخاطب ہے؟

جسٹس آصف سعید کھوسہ کا نام ملک کے ایسے اہلِ دانش میں لکھا جائے گا جنہوں نے ایک پورے دور کے المیے اور مرض کی تشخیص ایک تشبیہ کے ذریعے کر دی۔یہ تشبیہ انہوں نے پاناماکیس کے تاریخی فیصلے میں ماریوپیوزو کے مشہور ناول ”گاڈفادر“ کے مرکزی کردار کا حوالہ دے کر کی۔
مجھے یقین ہے کہ اگر جسٹس کھوسہ کے بس میں ہوتا تو وہ بات صرف مرض کی تشخیص تک محدود نہ رکھتے، اس کا علاج بھی تجویز کر دیتے۔ دیکھا جائے تو انہوں نے علاج تجویز کرنے کی کوشش کی تھی لیکن یہ مرض ایسا تھا کہ اس کے علاج کے لئے فوری سرجری درکار تھی۔ اگر جسم کے کسی سرطان زدہ حصے کو فوراً کاٹ کر پھینک نہ دیا جائے تو سرطان پورے جسم میں پھیل جاتاہے۔
گاڈ فادر کا نام لیا جائے تو ذہن مافیا کی طرف جاتا ہے۔ اور مافیا کا ذکر ہو تو ذہن پالرمو کی طرف جاتا ہے۔
پاکستان کا پالر مو جاتی عمرہ ہے۔۔
پاکستان کی مافیا وہ جماعت ہے جس کے شکنجے میں دنیا کی سب سے بڑی اسلامی مملکت ایک ”بناناری پبلک“ بن جانے کے خطرے سے دوچار ہے۔
آمریت کو گالی دی جاتی ہے مگر آمریت کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں۔
فاشزم کو لعن طعن ہوتی ہے لیکن فاشزم بھی ایسے اہداف کے دائرے میں رہتی ہے جو سارے کے سارے قابلِ مذمت نہیں ہوتے۔
جنرل پارک کی آمریت نے جنوبی کوریا کو ایک بڑی ایشیائی طاقت بننے کے راستے پر ڈال دیا۔
ہٹلر کے فاشزم نے جرمنی کو ایک ایسی طاقت میں تبدیل کر کے رکھ دیا جس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی۔ ہٹلر کے ظہور سے پہلے پہلی جنگِ عظیم کی تباہ کاریوں نے جرمنی کو ایسی حالت تک پہنچا دیا تھا کہ مارکس کی بھری ہوئی بوری کے عوض ایک ڈالر ملتا تھا۔ اور ہٹلر کی فسطانیت نے1933سے لے کر 1936کے عرصے تک جرمنی کو نہ صرف یہ کہ کھڑاکر دیا بلکہ اسے اِس قابل بنا دیا کہ دنیا کو للکار سکے۔
پاکستان میں آمریت کے چار ادوار آئے ہیں لیکن اسے بربادی کے راستے پر اُس ”جمہوریت “ نے ڈالا جو قائم تو عوام کی حکمرانی کے نام پر ہوئی لیکن جس پر شکنجہ فوجی آمریت کی کوکھ سے جنم لینے والے ایک خاندان نے کسا۔
پاکستان میں ” شریف شاہی“ نے جو نظام قائم کیا ہے وہ ظاہری طور پر جمہوریت ہے لیکن عملاً انڈرورلڈ پر راج کرنے والی مافیا کی یاد دلاتا ہے۔
آج کے پاکستان میں میاں نواز شریف کو بجا طور پر اپنے عہد کا گاڈ فادر کہا جا سکتا ہے۔ عدلیہ سے ملنے والی نا اہلی بھی اِس گاڈ فادر کا کچھ نہیں بگاڑ سکی۔
28جولائی 2017ءکو نا اہل قرار پانے والے میاںنواز شریف سات ماہ بعد بھی ملک کے حقیقی وزیر اعظم ہیں۔
ان کے ارادے کیا ہیں اس کا اندازہ ڈان احسن اقبال اور ڈان ثناءاللہ کے تازہ ترین بیانات سے لگایا جا سکتا ہے۔
ڈان احسن اقبال نے فرمایا ہے کہ عدلیہ کے ایک فیصلے نے ملک کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں لیکن مسلم لیگ (ن) اپنے خلاف ہونے والی سازشوں کے ذمہ داروں کو کچل کر رکھ دے گی۔
اور ڈان ثناءاللہ کا کہنا ہے۔ ”جن سازشیوں نے ایک کٹھ پتلی وزیر اعظم کے تحت ایک کنٹرولڈ(Controlled) جمہوریت قائم کر کے اپنا سکہ چلانا چاہا ہے سینٹ کے انتخابات نے اُن کی ناکامی کی گھنٹی بجا دی ہے۔۔
یہ مافیا اگر ہمارے ملک کی فوج اور عدلیہ کو نہیں للکار رہی اور بالواسطہ طور پر انہیں سازشی اور عوام دشمن قرار نہیں دے رہی تو پھر کس سے مخاطب ہے۔؟میرا خیال ہے کہ اس سوال کا جواب ہمارے آرمی چیف اور ہماری عدلیہ کو ضرور دینا چاہیئے۔
اگر مافیا کو ڈھیل صرف جمہوریت کی سر بلندی کے لئے دی جا رہی ہے تو پھر پہلے یہ طے ہو جائے کہ کیا اس قسم کی جمہوریت کسی بھی ملک کو راس آسکتی ہے۔۔۔؟
ہمارے ایک ممتاز اینکر پرسن کاشف عباسی گذشتہ روز کہہ رہے تھے کہ” خرابی جمہوریت میں نہیں حکمرانوں میں ہے۔ آخر دوسرے ملک بھی تو اسی جمہوریت میں ترقی کر رہے ہیں۔“
کاشف عباسی صاحب۔ کیا امریکہ میں ایسی جمہوریت ہے۔؟امریکہ میں تو حکومت میں صدر کے علاوہ اور کوئی منتخب نمائندہ ہے ہی نہیں۔۔کیا فرانس میں ایسی جمہوریت ہے؟کیا جرمنی میں ایسی جمہوریت ہے؟
کیا جاپان میں ایسی جمہوریت ہے؟
جمہوریت کا یہ ماڈل دنیا بھر میں ترک کیا جاچکا ہے۔صرف پاکستان اور بھارت اس کے ساتھ چمٹے ہوئے ہیں۔
اور پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ اس جمہوریت کی آڑ میں مافیا راج قائم ہو چکا ہے۔۔۔۔ ویسے ایک سوال یہ بھی ہے کہ” ترقی کے تمام ریکارڈ توڑنے والے چین میں کون سا نظام ہے؟“

aaj-ki-baat-new

Scroll To Top