سینٹ الیکشن میں پھر ہارس ٹریڈنگ !

zaheer-babar-logoسینٹ انتخابات میں مسلم لیگ ن ایوان بالا کی سب سے زیادہ نشتیں حاصل کرنے کی جماعت بن کر ابھری ہے۔ غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی دوسرے اور پاکستان تحریک انصاف تیسرے نمبر پر آئی۔ حیرت انگیز طور پر سب ہی سیاسی پارٹیاں دہائی دے رہیں کہ سینٹ انتخابات میں پیسہ کے لین دین سے ان کے امیدوار ہارے۔ پہلی مرتبہ نہیں کہ سینٹ انتخابات میں کروڑوں روپے لیے دیئے گے ، سچ یہی ہے کہ ہماری قومی سیاست مال و زر کا کھیل ہی بن چکی، سینٹ ہی کیا قومی وصوبائی اسمبلی کے انتخاب میں بھی یہ تصور کرنا محال ہوچکا کہ کوئی ایسا امیدوار کامیاب ہوجائے جس نے محض چند لاکھ روپے خرچ کیے ہوں۔حقیقت تو یہ ہے کہ اب معاملہ کروڑوں سے ہوتا ہوا اربوں تک جاپہنچا مگر کہیں کوئی رکاوٹ نظر نہیں آتی۔ بادی النظر میں تاثر یہی ہے کہ الیکشن کمیشن اپنا کردار ادا کرنے کو تیار نہیں۔
یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ملک میں جمہوری قدروں کو فروغ دینے کے لیے دولت کا استمال ہرگز خیر کا باعث نہیں بن سکتا چنانچہ باشعور پاکستانی یہ سوال پوچھنے میںحق بجانب ہے کہ ایسا سیاسی نظام جس میں مال ودولت سے فیصلہ کن کردار ادا کررہا وہ کیوں اورکیسے غریب آدمی کے لیے سود مند ثابت ہوگا۔
سینٹ الیکشن کے بعد عام انتخابات جوں جوں قریب آ رہے ہیںسیاسی سرگرمیوں کے علاوہ پیسہ کا استمال بھی نظر آرہا۔ مخلتف سیاسی جماعتیں اپنے اپنے امید واروں کو کامیاب کرانے کے لیے مصروف ہوچکیں۔اب تک ہر انتخاب میں سیاسی جوڑ توڑ ہوتا ہے یعنی کوئی دھڑا دوسرے کے ساتھ مل جاتا ہے اور کوئی سیاسی جماعت کسی دوسری سیاسی جماعت کے ساتھ اتحاد یا سمجھوتہ کر لیتی ہے مگر محج دولت کے بے دریغ استمال کے نتیجے میں کسی الیکشن میں کوئی کامیابی حاصل کرلے تو یقینا یہ لمحہ فکریہ ہے
مملکت خداداد پاکستان میں جوڑ توڑ اور سیاسی سرگرمیوں میں کرپشن اور سودے بازی کا عمل دخل فروغ پذیر ہے۔ سینٹ کے الیکشن ہوں یا قومی اسمبلی کے ہارس ٹریڈنگ یا پیسے کے لین دین کی خبریں میڈیا کی زینت بنتی ہیں۔ عمران خان بھی برملا کہہ چکے کہ سینٹ الیکشن میں دولت کا استمال روکنا چاہے تھا مگر ایسا نہ ہوا۔ مستند زرائع سے ایسی خبریںآچکیں کہ سینیٹ کے انتخابات میں بھرپور ہارس ٹریڈنگ ہوئی۔
یقینا الیکشن میں ارکان اسمبلی کی ہارس ٹریڈنگ روکنے کے لیے آئینی ترمیم کا فیصلہ کی جانی چاہے۔اس ضمن میں سیاسی حمایت حاصل کرنے اور قانونی پہلو کا جائزہ لینے کے لیے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے دو کمیٹیاں تشکیل دے کر درست قدم اٹھایا مگر بہتر یہی ہے کہ ٹھوس اقدمات اٹھائے جائیں۔۔ اطلاعات کے مطابق وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ آیندہ سینٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ یا پیسے کے استعمال کے خاتمے اور ایوان بالا کے انتخابی عمل کو شفاف، منصفانہ اور جمہوری اقدار کے مطابق بنانے کے لیے فوری اقدامات کریں گے۔
ملک کے باشعور حلقوں کی جانب سے سینٹ انتخابات کے لیے پیسے یا اثرورسوخ کے مبینہ استعمال کی خبروں پر مسلسل گہری تشویش اور افسوس کا اظہار کیا جارہا ہے۔ اہل سیاست کے ان دعووں پر عام آدمی یقین کرنے کو تیار نہیں کہ وہ قومی اداروں کے تقدس پر یقین رکھتے ہیں۔
بظاہر یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ قومی سیاست کی نمایاں خامی یہ ہے کہ ہمارے ارکان پارلیمنٹ بھی سیاسی دبا یا پیسے کے لین دین سے متاثر ہوکر فیصلے کرتے ہیں۔ بعض حلقوں کے خیال میں پاکستان میں جمہوریت کی ناکامی کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے کہ عوام کی نمایندگی کا دعوی کرنے والے اصول پسندی اور جمہوری اصولوں سے انحراف کرتے ہیں۔
آج پاکستان جس انتظامی ابتری اور کرپشن کا شکار ہے اس میں جہاں حکومتوں کی کمزوری ہے وہی بیوروکریسی کی نااہلی وخود غرضی بھی نمایاں ہے۔سینیٹ موجودہ سسٹم میں انتہائی باوقار ادارہ ہے ۔اگر اس ادارے کا کوئی رکن پیسے دے کر منتخب ہوا تو وہ جمہوریت اور قوم کی کیا خدمت کرے گا یہ بتانے کی ضرورت نہیں۔پوچھا جاناچاہے کہ جو رکن اسمبلی پیسے لے کر ووٹ دے گا ان سے ایمانداری اور جمہوریت پسندی کی توقع کیونکر کی جائے۔
دراصل سیاسی جوڑ توڑ جمہوری قدروں کے خلاف ہے ۔ حقیقی جمہوری ملکوںمیں یہ سوچا بھی نہیں جاسکتا۔ تادم تحریر ہماری جمہوری حکومتیں عوام کے مسائل حل کرنے میں اسی وجہ سے ناکام رہی ہیں کہ جو شخص پارلیمنٹ کا رکن بنتا ہے ، اس کی ساری توجہ ترقیاتی فنڈز حاصل کرنے ،نوکریوں کا کوٹہ لینے مراعات کو بڑھانے اور بیوروکریسی پر اپنا استحقاق ثابت کرنے پررہتی ہے۔ یعنی جمہوریت کس بلا کا نام ہے ، اس سے اسے کوئی غرض نہیں ہوتی۔
سیاست دانوں کی جمہوریت کے ساتھ وابستگی کا اندازہ یوں بھی کیا جاسکتا ہے کہ جب جب یہاں فوجی حکمران آئے ۔ اہل سیاست نے آگے بڑھ کر ان کا استبقال کیا۔ مثلا جنرل ضیا الحق نے جو غیر جماعتی الیکشن کرائے اس میں بھی سیاستدانوں نے حصہ لیا اور پھر جب جنرل پرویز مشرف نے الیکشن کرائے اس میں بھی بیشتر سیاستدان نمایاں ہوئے۔وطن عزیز میں اس وقت تک جمہوری نظام قوت نہیں پکڑ سکتا جب تک اہل سیاست اپنے انفرادی اور گروہی مفاد کو قومی مفاد پر بالاتر نہیں بنا لیتے۔ بلاشبہ آئین اور قانون کو سب سے پہلے اپنے آپ پر نافذ کرنا ہو گا اس کے بعد دوسروں کی باری آئے گی۔ یاد رکھنا ہوگا کہ اگر ہماری سیاست میں ہارس ٹریڈنگ اور کرپشن جاری رہی تو جمہوریت ہرگز ہرگز کامیاب نہیں ہونے والی۔

Scroll To Top