قائداعظم ؒ کا پاکستان ابوجہل کے نقشِ قدم پر !

aaj-ki-baat-newملت اسلامیہ میں الگ دینی جماعتوں کا کوئی نہ تو تصور ہے اور نہ ہی جواز۔ آنحضرت نے حج کے موقع پر اپنے آخری خطبے میں جس اجتماع سے خطاب فرمایا تھا وہ صرف اُس دور کے حاضر یا غیر حاضر دختران وفرزندانِ توحید و رسالت پر مشتمل نہیں تھا ` آپ زمان و مکان کی قید سے آزا د ملت اسلامیہ کی تمام نسلوں سے مخاطب تھے ۔ آپ اپنی امت سے کہہ رہے تھے کہ آج سے تمہارا دین اسلام ہے اور تم ایک امت ایک جماعت اور ایک قوم ہو۔
اس خطبے کو اگر ہم اپنے لئے روشنی کا مینار سمجھیں تو ایک دین ایک قوم اور ایک جماعت کے اندر ہم بہت ساری دینی جماعتوں کو کیسے جگہ دے سکتے ہیں ؟
ّقائداعظم ؒ نے جو پاکستان ایک عظیم نظریاتی اور سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں 14اگست 1947ءکو حاصل کیا تھا وہ ایک قوم ایک دین اور ایک جماعت کا پاکستان تھا۔ بدقسمتی سے یہ پاکستان مسلسل بٹتا چلا گیا ہے۔ ایک طرف دینی جماعتوں میں ` دوسری طرف سیاسی جماعتوں اور تیسری طرف لسانی و نسلی قومیتوں میں۔
اس امر میں کوئی شک نہیں کہ اسلام جمہوریت کے اصولوں کے علاوہ اور کسی نظام کے ساتھ مطابقت نہیںرکھتا۔ اس بات کا ثبوت خلافت راشدہ ہے۔ اس دور کے مروجہ اصولوں اور طریقوں کے مطابق تمام خلفاءکو خلقِ خدا نے اپنی قیادت کے لئے منتخب کیا تھا اور ایک ہی جماعت میں سے منتخب کیا تھا۔ وہ جماعت آنحضرت کی جماعت تھی۔صدیوں کے بعد جب دنیا میں نظریاتی مملکتیں قائم ہوئیں تو ثابت ہوا کہ اگر امورِ مملکت میں ایک نظریے کو ہی محور بنانا مقصود ہو تو مملکت میں کثیر الجماعتی نظام کی کوئی گنجائش نہیںرہتی ۔
یہی پاکستان کا پیراڈاکس ہے۔ پاکستان ایک نظریہ کی بنیاد پر بنا تھا۔ اسے بہت سارے نظریوں کی قوت سے مختلف سمتوں میں کھینچ کر کیسے قائم رکھا جاسکتا ہے؟
کتنا ہی اچھا ہوتا کہ قائداعظم ؒ کی مسلم لیگ ہی پاکستان کی واحد جماعت رہتی ۔ اور اس کے اندر جمہوری عمل اس طرح چلتا رہتا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ایک قیادت کی جگہ دوسری قیادت لے لیاکرتی !ہمارے سامنے چین کی مثال موجود ہے۔
ہمیںتاریخ سے بہت کچھ سیکھنا ہوگا ۔1973ءکے آئین کو ایک آسمانی صحیفہ سمجھ لینا میری حقیر رائے میں ابوجہل کے نقش قدم پر چلناہوگا۔ کیا امت محمدی ابوجہل کے نقش قدم پر چل سکتی ہے ؟
(یہ کالم اس سے پہلے 25-12-2012 کو بھی شائع ہوا تھا)

Scroll To Top