ذکر میری اُس نوک جھونک کا جو اپنے شفیق ماموں کے ساتھ کئی بار ہوئی

naseem-hijazi

2مارچ1996ءکو وطنِ عزیز کے ایک نامور سپوت اور علامہ اقبال ؒ کے بعد نظریہ پاکستان کے سب سے بڑے ” فکری سپاہی “ نسیم حجازی خالق حقیقی کو جاملے تھے۔۔۔ وہ کتنے بڑے مصنّف تھے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کتابوں کو چھوڑ کر الیکٹرونک اور انٹرنیٹ میڈیا کی طرف جانے والے اِس دور میں بھی نسیم حجازی کے ناول ماہانہ ہزاروں کی تعداد میں فروخت ہوتے ہیں۔۔۔ اس بات کا اندازہ مجھے رائلٹی کی اُس رقم سے ہوتا ہے جو نسیم حجازی کے پسماندگان کو ماہانہ ملتی ہے۔۔۔
یہ میرے لئے خوش قسمتی اور اعزاز کی بات ہے کہ نسیم حجازی میرے ماموں تھے ۔۔۔مجھے ان کے قریب رہنے اور ان کے ساتھ کام کرنے کی سعادت بھی حاصل ہوئی ۔۔۔ ایک اندازے کے مطابق نسیم حجازی کی کتابیں اب تک ڈھائی کروڑ کی تعداد میں فروخت ہوچکی ہیں ۔۔۔ اُن سے زیادہ صرف علامہ اقبال ؒ کی تصانیف کی فروخت ہوئی ہے۔۔۔
آج اُن کی بائیسویں برسی کے موقع پر میں اُن کی ذات پر ایک بڑے ہی مختلف انداز میں قلم اٹھا رہا ہوں۔۔۔ اُن کے بارے میں اتنا لکھا جاچکا ہے کہ میں دوبارہ سب کچھ دہرانا نہیں چاہتا۔۔۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کو میری آج کی یہ بات پسند آئے گی ۔۔۔

درجنوں معرکتہ الارا ناولوں کے مصنّف ہونے کے علاوہ نسیم حجازی روزنامہ کوہستان کے چیف ایڈیٹر بھی تھے۔۔۔ اپنے دور میں ملک کے اس دوسرے سب سے بڑے روزنامہ کا اجراءاپنے ایک دوست اوررفیق کار عنایت اللہ مرحوم کے ساتھ مل کر کیا تھا۔۔۔
اس اخبار کی مالک کمپنی کوہستان پرائیویٹ لمیٹڈ کے دوسرے ڈائریکٹر دونوں کے قریبی دوست تھے۔۔۔ ان میں مراد خان جمالی کا نام خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔۔۔
اگرچہ روزنامہ کوہستان سے میرا تعلق ماموں جان کی وجہ سے قائم ہوا مگر میرے حقیقی باس عنایت اللہ مرحوم تھے۔۔۔ جن سے میں نے صحافت کے ساتھ ساتھ انتظامی امور اور انتظامی امور کے ساتھ ساتھ مارکیٹنگ کے معاملات کی تربیت حاصل کی۔۔۔ اگر میں یہ کہوں تو غلط نہیں ہوگا کہ نسیم حجازی میری انسپریشن اور عنایت اللہ مرحوم میرے استاد تھے ۔۔۔
اس مختصر کالم میں میں ایک شفیق ماموں اور ایک ” خود آگاہ“ بھانجے کے درمیان تین چار دلچسپ ” جھگڑوں “ کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔۔۔
میرے پہلے جھگڑے کا پس منظر بڑا دلچسپ ہے۔۔۔ ماموں جان کا حقیقی نام محمد شریف تھا۔۔۔ نسیم حجازی کاقلمی نام انہوں نے علامہ اقبال ؒ کے ایک انسپریشنل ریمارک کی وجہ سے اختیار کیا۔۔۔ ایک مرتبہ علامہ اقبال ؒ اسلامیہ کالج آئے تو ماموں جان کی ایک تحریر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔” نوجوان تمہارے قلم سے حجاز کی خوشبو آتی ہے۔۔۔“
ماموں جان کی ابتدائی تمام تحریروں کا تعلق سرزمین حجاز سے تھا۔۔۔ یوں وہ پہلے نسیمِ حجاز اور پھر نسیم حجازی بنے۔۔۔
اسی زمانے میں میرے ایک چچا نے جو ماموں جان کے بہنوئی بھی تھے ماموں جان کے قلمی نام سے متاثر ہو کر اپنا نام محمد حسن حجازی رکھ لیا۔۔۔ میرے اِس چچا کے فرزندوں نے بعد میں ” حجازی“ لفظ کو اپنے نام کا حصہ بنا لیا ۔۔۔ میرے بہنوئی محمد امین بھی حجازی بنے اور ان کے چھوٹے بھائی عبدالقیوم بھی حجازی کہلائے۔۔۔
ماموں جان اس بات سے خاصے چڑا کرتے تھے۔۔۔ جب میں روزنامہ کوہستان کے ساتھ میگزین ایڈیٹر کے طور پر منسلک ہوا تو ماموں جان نے ایک روز ” حجازی “ نام کی (Proliferation)پھیلاﺅ(پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔۔۔
” اگر میرے نام کو آگے بڑھانے کا کسی کو حق ہے تو وہ تم ہو۔۔۔“ انہوں نے مجھ سے کہا۔۔۔” تم کیوں نہیں میرے نام کو اپنے نام کا حصہ بنا لیتے ۔۔۔؟“
” یہ میرے لئے اعزاز کی بات ہوگی ماموں جان ۔۔۔ لیکن ایسا ہو نہیں سکتا۔۔۔ ایک تو یہ آپ کا حقیقی نام نہیں ۔۔۔ آپ کی ادبی پہچان ہے۔۔۔ اگر حقیقی نام ہوتا تو بھی آپ میرے ماموں ہیں۔۔۔ میرے نانا کی اولاد۔۔۔ میرے دادا کی نہیں۔۔۔ آدمی کا صرف باپ دادا کے نام پر حق ہوتا ہے۔۔۔ اگر مجھے اپنی پہچان کرانے کی ضرورت محسوس ہوئی تو میں اپنے ہی نام سے کراﺅں گا۔۔۔ آپ میری انسپریشن ہیں۔۔۔ میری پہچان نہیں۔۔۔ “ میرے اِس جواب پر ماموں جان زیادہ خوش نہیں ہوئے تھے۔۔۔
” پھر تم انہیں روکو میرا نام استعمال کرنے سے ۔۔۔“ انہوں نے مجھ سے کہا ۔۔۔
” میں کیسے روک سکتا ہوں ماموں جان ۔۔۔ ویسے ہمارے ایک سب ایڈیٹر کا نام بھی تو مسکین حجازی ہے۔۔۔“
یہی مسکین حجازی بعد میں پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ ءصحافت کے ہیڈ بنے تھے۔۔۔
ماموں جان کے ساتھ میری دوسری نوک جھونک صدارتی انتخابات میںایک امیدوار کے طور پر مادرِ ملت فاطمہ جناح ؒ کی نامزدگی کے معاملے پر ہوئی۔۔۔ ماموں جان نے ہمارے لیڈر رائٹر عالی رضوی کو ہدایت دی کہ وہ اس بات پر سخت تنقیدی تبصرہ کریں۔۔۔ میں اُس وقت روزنامہ کوہستان کا ایگزیکٹو ایڈیٹر تھا اور عالی رضوی صاحب کو بتا چکا تھا کہ ہم پورے جوش و خروش کے ساتھ مادرِ ملت کے انتخابی کا رواں کے سپاہی بنیں گے۔۔۔
” پہلے اپنے ماموں کو قائل کرو۔۔۔ “ عالی رضوی نے مجھ سے کہا۔۔۔
ماموںجان کی مخالفت کی وجہ مولانا مودودی کا ایک ابتدائی فتویٰ تھا کہ عورت حکمران نہیں ہوسکتی۔۔۔ اس بات پر ماموں جان کے ساتھ میری سخت بحث ہوئی۔۔۔ انہوں نے کئی مرتبہ مجھے ڈانٹا بھی مگر میں اس دلیل پر اڑا رہا کہ محترمہ فاطمہ جناح ؒ عورت نہیں ایک ادارہ ہیں۔۔۔ اس بطل ِ جلیل کی توسیع ہیں جس نے اِ س ملک کو بنایا۔۔۔
بالآخر ماموں جان ڈھیلے پڑ گئے اور بولے ” میں نے کب کہا کہ مادرِ ملت کا کوئی مقابلہ ہے ایوب خان سے ۔۔۔ ؟ ایوب صرف ایک فیلڈ مارشل ہے اور مادرِ ملت بہرحال مادرِ ملت ہیں۔۔۔“ ماموں جان نے کہا۔۔۔
میری تیسری نوک جھونک تب ہوئی جب میں روزنامہ کوہستان چھوڑ چکا تھا اور روزنامہ مشرق کراچی کا ایڈیٹر تھا۔۔۔
یہ وہ زمانہ تھا جب پاکستان کی سیاست ” بھٹو بمقابل مولانا مودودی “ کے منظر نامے میں تبدیل ہوچکی تھی۔۔۔
” مولانا مودودی عصرِ حاضر کے ایک امام کا درجہ رکھتے ہیں ۔۔۔ “ ماموں جان نے کہا ۔۔۔ ” ان کا ایوب خان کے اُس ٹوڈی سے کیا موازنہ جس کی پارٹی کے تم مدح سرا بن گئے ہو۔۔۔ ؟“
” آپ برا نہ منائیں تو ایک بات کہوں۔۔۔؟“ میں نے کہا۔۔۔
” کہو۔۔۔“ انہوں نے جواب دیا۔۔۔
” مورخ جب بھی ہماری فکری تاریخ لکھیں گے تو علامہ اقبال ؒ کے بعد مولانا مودودی کا نہیں نسیم حجازی کا نام آئے گا۔۔۔ آپ نے جتنے بڑے پیمانے پر پوری دونسلوں کی سوچ کو متاثر کیا ہے اتنے بڑے پیمانے پر مولانا مودودی نے نہیں کیا۔۔۔ مجھے انکار نہیں کہ وہ ایک بڑے عالم ہیں۔۔۔ مگربھٹو اِس دور کی آواز ہے۔۔۔“
” پھر اُس سے جاکر کہو کہ اپنے مشاغل کو ذراشریفنہ حدود میں رکھے۔۔۔ “ مامو ں جان نے کہا۔۔۔
ماموں جان پر میں پوری کتاب لکھ سکتا ہوں۔۔۔ مگر اِس کالم کا اختتام اِس آبزرویشن کے ساتھ کروں گا کہ اِس قبیل کے بڑے مفکرانہ ادیب دراصل اپنی ایک الگ دنیا میں زندگی بسر کیا کرتے ہیں۔۔۔ نسیم حجازی محض ایک فرد نہیں تھے۔۔۔ اپنی ذات میں ایک تحریک تھے۔۔۔ ایک دور تھے اور روشنی کا ایک ایسا منیار تھے جو آنے والی نسلوں کو بھی نظر آئے گا۔۔۔
مجھے دکھ ہے کہ میں ماموں جان کے پیغام کو آگے نہیں بڑھا سکا۔۔۔ اگر ایک ادیب بننا میری منزل ہوتی تب بھی شاید میں ایسا نہ کر پاتا۔۔۔

aaj-ki-baat-new

Scroll To Top