پاکستان” گرے لسٹ “ میں شامل ہوگیا

zaheer-babar-logo

وزارت خارجہ کی جانب سے دہشت گردوں کے معاون مملک سے متعلق فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی گرے لسٹ میں پاکستان کا نام شامل کرنے کی تصدیق کردی گی ۔دفتر خارجہ کے ترجمان نے ہفتہ وار بریفینگ میں بتایا کہ اب پاکستان کا نام گرے لسٹ سے بلیک لسٹ میں شامل کیے جانے کی خبریں درست نہیں ۔“
یاد رہے کہ گذشتہ ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں امریکہ اور اس کے پوری اتحادیوںنے پاکستان کا نام دہشت گردوں تنظیموں کے مالی معاملات پر کڑی نظر نہ رکھنے والے اور ان کی مالی معاونت روکنے میں ناکام رہنے والے ممالک کو واچ لسٹ میں شامل کرنے کی تجویز دی تھی، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ایک بین الاحکومتی ادارہ ہے جس کا قیام 1989میں عمل میںلایا گیا ،اس ادارے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی نظام کو دہشت گردی ، کالے دھن کو سفید کرنے کے خطرات سے محفوظ کیا جائے اور اس مقصد کے لیے قانونی ، انضباطی اور عملی اقدمات کیے جائیں۔“
ملک کو درپیش موجودہ خطرات سے آگاہ حضرات باخوبی جانتے ہیں کہ ایف اے ٹی ایف کی جانب سے پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنا کس قدر مضر اثرات کا حامل ہوسکتا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نمایاں اقدامات اٹھانے کے باوجود کسی طور پر بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف نہیں کیا جارہا۔ ہونا تو یہ چاہے تھا اعلی ترین حکومتی سطح پر اس بات کا جائزہ لینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ آخر کیوں ہماری قربانیوں سے یہ بے اعتنائی کیونکر برتی جارہی یعنی امریکہ ، بھارت اور افغانستان کا بیانیہ آخر کیونکر شرف قبولیت حاصل کررہا۔
حیرت انگیز ہے کہ ہمارے زمہ دارنہ عالمی سطح پر اٹھائے جانے والے اقدمات کا بروقت ادراک کرنے میںکامیاب نہ ہوسکے، ایسے عوامل کواہمیت نہیں دی گی جو اب پاکستان کے لیے مشکلات پیدا کررہے۔
حقیقت یہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں ہی اپنے عمل سے یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے کہ وہ بحرانوں میں گھرے پاکستان کو بچانے کے لیے درکار بصیرت واخلاص سے مذین ہیں،کون انکار کرسکتا ہے کہ نریندر مودی خارجہ محاذ پر پاکستان کو گھیرے میں لینے کے حوالے سے کسی نہ کسی شکل میں کامیاب ہوچکا۔اس سارے ماحول میں حکمران جماعت کی سنجیدگی کا اندازہ لگانے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ چار سال تک وزیر خارجہ کا تقرر نہ کرسکی۔
وزیر خارجہ خواجہ آصف کی اب تک کی کارکردگی کو مدنظر رکھتے یہ خوش فہمی نہیں پالی جاسکتی کہ وہ عالمی سطح پر پاکستان کے گرد گھیرا تنگ ہونے کی منعظم کوششوں کو یکسر ناکام بنا ڈالیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے مخالفین یہ دعوے رکھتے ہیں کہ پی ایم ایل این خارجہ محاذ پر مسائل کو ہرگز اہمیت دینے کو تیار نہیں۔ آج حکمران جماعت کے لیے بڑا چیلنج ایک ہی ہے اور وہ یہ کہ کس طرح میاں نوازشریف کو مظلوم ثابت کیا جائے۔ شریف فیملی کی نظر اب آنے والے عام انتخابات پر مرکوز ہے، حکمرانوں کی کوشش یہی ہے کہ وہ کب اور کیسے الیکشن میں کامیابی حاصل کرکے اپنے ادھورے ایجنڈے کی تکمیل کرڈالیں۔
پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ایسے موقعہ پر ڈالا گیا کہ جب عام انتخاب کے انعقاد میں زیادہ عرصہ نہیں رہ گیا ، سب ہی سیاسی جماعتیں عام انتخابات میں کامیابی کے لیے اپنی اپنی حکمت عملی تشکیل دے رہیں، چنانچہ اس ماحول میں پاکستان کے بین الاقوامی محاذ پر درپیش مسائل پر توجہ کی دینے کے امکانات روشن نہیں۔کہتے ہیںکہ رہنما اور سیاست دان میں بنیادی فرق یہی ہے کہ سیاست دان کی نظر آنے والے الیکشن پر ہوا کرتی ہے جبکہ قائد آنے والے نسلوں کے متعلق سوچ وبچار کرتا ہے۔ بدقسمتی کے ہمارے حصہ میں سیاست دان تو بہت آئے مگر رہنما نہیں یہی سبب ہے کہ مسائل ہیں کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے۔
پاکستان کے لیے مہلت ابھی بھی ختم نہیں ہوئی، عالمی برداری کے تحفظات کو دور کرتے ہوئے ہم اس غیر یقینی صورت حال سے کامیابی سے نکل سکتے ہیں جو ہم پر مسلط ہوچکی۔ رائے عامہ بیدار کرنے والے اداروں کی بجا طور پر زمہ داری ہے کہ وہ متعلقہ حضرات کو باور کروائیں کہ اگر ٹھوس اقدامات نہ اٹھائے گے تو مسائل میں افافہ یقینی ہے۔ فرد ہو یا قوم کامیابی کی منازل تب ہی آتی ہے جب خوداحتسابی کو شعار بنایا جائے ۔ناکامیوں کو محض یہود ہنود کی سازش کہہ کر مسترد کردینا کسی طور سودمند نہیں، ان عوامل کا تفصیل سے جائزہ لینا ہوگا جس کی بدولت حالات یہاں تک پہنچے۔
نائن الیون کے بعد سے لے کر اب تک بین الاقوامی سطح پر ہم پر بداعتمادی کا اظہار کیا جاتا رہا۔
امریکہ ہم پر اعلانیہ الزام لگاتا رہا کہ اس کے ساتھ کیے گے وعدے وفا نہیں ہورہے۔ واشنگٹن کے خدشات کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے بھارت سالوں سے کوشاں رہے، بالاآخر نئی دہلی انکل سام کو اس پر قائل کرنے میں کامیاب ہوگیا کہ پاکستان ہی خطے میں خرابیوں کی واحد وجہ ہے ، مودی سرکار نے تسلیم کروالیا کہ افغانستان میں حقانی نیٹ ورک اور کشمیر میں جماعت الدعوتہ کی شکل میں پاکستان مداخلت کا مرتکب ہورہا ہے۔ افسوس کہ ہماری حکومت بھارتی کی اس بھرپور مہم کا جواب نہ دی سکی جس کا نتیجہ فرانس میں پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کرنے کے لیے تشویشناک فیصلے کی صورت میں سامنے آیا۔

Scroll To Top