اگر روایتی دواﺅں سے علاج ممکن نہ ہو تو۔۔۔؟ 26-12-2012

اگلے عام انتخابات کے آزادانہ اور شفاف ہونے کے لئے عدلیہ اور فوج کا غیر جانبدارہونا مناسب نہیں ہوگا۔ اِن دو قومی اداروں کے غیرجانبدار ہونے کا واضح طور پر مطلب یہ ہوگا کہ موجودہ نظام کو جو سیاستدان چلا رہے ہیں وہی سیاستدان اپنی مرضی کی نگران حکومت قائم کرکے اپنی مرضی کے نتائج حاصل کریں گے۔ ایسی نگران حکومت کے تحت ہونے والے عام انتخابات کا شفاف اور آزادانہ ہونا بالکل ایسی ہی بات ہوگی جیسی یہ بات کہ بلی کو دودھ کی رکھوالی پر مامور کردیا جائے یا بھیڑوں کی رکھوالی کی ذمہ داری بھیڑیوں کو سونپ دی جائے۔
اِس وقت حکمران سیٹ اپ پر دو بڑی جماعتوں کا قبضہ ہے۔ پنجاب پاکستان مسلم لیگ (ن)کے کنٹرول میں ہے۔ اور اِس کی وجہ اس جماعت کی اپنی سیاسی قوت نہیں بلکہ پی پی پی کی در پردہ حمایت ہے ۔ صدر زرداری اِس انتظام کو اپنے حق میں مفید سمجھتے ہیں کہ اگر ان کی جماعت پنجاب میں حکومت قائم کرنے کی پوزیشن میں نہیں تو موجودہ ” ورکنگ ریلیشن شپ “ ہی چلتی رہے۔ اب اس ” درپردہ “ ورکنگ ریلیشن شپ “ میں نئے گورنر پنجاب مخدوم احمد محمود کا عنصر داخل ہوگیا ہے جو اگرچہ نامزد صدر زرداری کی طرف سے ہوئے ہیںمگر دیرینہ تعلقات مسلم لیگ (ن)سے رکھتے ہیں۔
یہ قدم لازمی طور پر آنے والے عام انتخابات کو سامنے رکھ کر اٹھایا گیا ہے۔ دونوں بڑی جماعتوں کی قیادتیں اس بات پر متفق ہیں کہ ” امور ِ حکمرانی “ میں کسی تیسری قوت کی شرکت کے دروازے بہرحال بندرکھے جائیں۔
اگر یہی خفیہ معاہدہ چلتا ہے تو میں اسے پاکستان کی بدقسمتی سمجھوں گا۔ عوام کو حقیقی معنوں میں موقع ملناچاہئے کہ وہ دونوں بڑی جماعتوں کی پانچ سالہ کارکردگی پر اپنی رائے کا اظہار اس انداز میں کرسکیں کہ قوم کے اگلے پانچ برس بھی بیتے ہوئے پانچ برس کا تسلسل بن کر نہ رہ جائیں ۔یہ ملک چند خاندانوں کی ملکیت یا میراث نہیںکہ اس کے اگلے حاکم مریم نواز اور بلال بھٹو قرار دے دیئے جائیں۔
ہم قرون وسطیٰ میں نہیں رہ رہے عہد ِ جدید میں رہ رہے ہیں۔ اور جو ” اسلام “ قیام ِ پاکستان کی وجہ بنا تھا اس میں قیصر و کسریٰ طرز کی موروثی حکومتوں کی کوئی گنجائش نہیں۔
ہمارا ملک شدید طور پر علیل ہے۔ اس کی علالت کا علاج اگر روایتی دواﺅں کے ذریعے ممکن نہیں تو اس کی جان بچانے کے لئے اسے تھوڑی دیر کے لئے آپریشن تھیٹر بھیجنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔

kal-ki-baat

Scroll To Top