موازنہ سردارانِ قریش اور اکابرین پی ایم ایل این کے درمیان۔۔۔۔

میں اپنے آپ سے یہ سوال کئے بغیر نہیں رہ پا رہا کہ رسول اکرم ﷺ کے قیامِ مکہ کے دوران قریش کا ” قائدِ تاحیات“ کون تھا۔۔۔ میرے ذہن میں بہت سارے نام آرہے ہیں ۔۔۔ ابوجہل کا نام تو آتا ہی ہے۔۔۔ ابو لہب کا نام بھی آتا ہے۔۔۔ ابوسفیان کا نام بھی آتاہے عتبہ شیبہ اور امیہ کے نام بھی آتے ہیں۔۔۔ یہ سب بڑے جیّد سردار تھے۔۔۔ ان میں ابو سفیان کا مقام ذرا افضل تھا مگر ” قائدِ تاحیات“ ان میں کوئی نہیں تھا۔۔۔کسی کو قریش میں وہ مقام و مرتبہ نہ ملا جو پاکستان مسلم لیگ نون میں میاں نوازشریف کو حاصل ہے۔۔۔ اس ضمن میں آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ایسا ہونا ایک فطری امر ہے ۔۔۔ وہ اس لئے کہ پاکستان مسلم لیگ نون اس لئے نون کہلاتی ہے کہ نوازشریف ” نون“ ہیں یعنی اُن کے نام کا پہلا حرف ” ن“ ہے۔۔۔ یہ عجیب اتفاق ہے کہ ” نا اہل کا پہلا حرف بھی ” ن“ ہے۔۔۔ یہ نہیں کہہ رہا کہ پاکستان مسلم لیگ ” ن“ بھی میاں نوازشریف کے ” نا اہل “ ہونے کے بعد پاکستان مسلم لیگ نااہل ہوگئی ہے۔۔۔ لیکن ایسا ہو بھی سکتا ہے۔۔۔ اگر مخالفین نے یہ قانونی دباﺅ ڈالا کہ نوازشریف کے نا اہل ہونے کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ن)کی قانونی حیثیت ختم ہوگئی ہے اور اب اسے نئے نام سے رجسٹر کرانے کی ضرورت ہے ` تو ” اکابرین ِ پی ایم ایل این “ کہہ سکتے ہیں کہ پی ایم ایل این کو اب پی ایم ایل نواز کی بجائے پی ایم ایل نا اہل سمجھا جائے۔۔۔ اس صورت میں نام سے ” ن“ نکالنے کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔۔۔
بہرحال یہ بات برسبیل تذکرہ ہوگئی ۔۔۔ کہنا میں یہ چاہ رہا ہوں کہ میاں نوازشریف کو ” سردارانِ مکہ “ پر واضح فضلیت حاصل ہے جن میں سے کوئی ایک دوسروں کو کورنش بجالانے پر مجبور کرنے کا اختیار نہیں رکھتا تھا۔۔۔ سارے سردار اپنی اپنی جگہ قائدِ تاحیات تھے۔۔۔ اور قریش کی طاقت کا راز سرداران کی اجتماعیت میں تھا۔۔۔ اس بات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتاہے کہ جب قریش نے آنحضرت ﷺ کو شہید کرنے کی ناپاک سازش کی تو تمام سرداران نے یہ فیصلہ مل کر کیا اور اِس فیصلے میں بنی ہاشم کی نمائندگی آنحضرت ﷺ کے چچا ابولہب نے کی۔۔۔
جہاں تک پی ایم ایل این کا تعلق ہے ` اس میں عدلیہ اور فوج وغیرہ جیسے اداروں کو ” فارغ“ کرنے کا بیڑہ اکیلے میاں نوازشریف اور اُن کی صاحبزادی مریم نے اٹھایا ہے۔۔۔دوسرے اکابرین صرف تالیاں بجانے اور ” بالکل بالکل۔۔۔ ایسا ہی ہے “ کہتے رہنے کا فریضہ ادا کرتے ہیں۔۔۔ اس لحاظ سے شریف فیملی کی تشبیہہ اگر” کسریٰ “ سے دی جائے تو زیادہ مناسب ہوگا۔۔۔ میاں نوازشریف جاہ و جلال کے لحاظ سے خسرو پرویز سے کم حیثیت ہر گز نہیں رکھتے۔۔۔ ساسانی خاندان کا آخری فرمان روا البتہ یزدگرد تھا۔۔۔ یزدگرد کے سپہ سالار کا نام رستم تھا۔۔۔ میاں نوازشریف کے ” رستم “ شاہد خاقان عباسی ہیں۔۔۔ ان کے نام میں ” خاقان“ قبلائی خان وغیرہ کی یاد دلاتا ہے۔۔۔ اگر ہمارے وزیراعظم اپنے نام کی لاج رکھ لیتے تو حکومتِ پاکستان پر کسی”کامیڈی“ کا گمان نہ ہوتا۔۔۔آپ نے دیکھا ہوگا کہ 27فروری کو مسلم لیگیوں کے جس اجلاس میں میاں شہبازشریف کو قائم مقامی عطا کی گئی اس میں ” دربارِ نواز “ میں وزیراعظم پاکستان` وزیراعظم کم اور ” دس ہزاری “ زیادہ نظر آرہے تھے ۔۔۔ مغل بادشاہوں کے درباریوں کا مرتبہ اسی پیمانے پر پرکھا جاتا تھا۔۔۔ کوئی ایک ہزاری کوئی دو ہزاری ` کوئی پانچ ہزاری تو کوئی دس ہزاری ہوا کرتا تھا۔۔۔
میں سمجھتا ہوں کہ شاہد خاقان عباسی اگر دس ہزاری بھی بن کر دکھا دیں تو آج کا پاکستان ایک ” کامیڈی“ نہیں لگے گا۔۔۔
مسلم لیگی صفوں میں وہی مناسب ترین آدمی دکھائی دیتے ہیں۔۔۔ باقی تو سارے سعد رفیق ` طلال چوہدری اور احسن اقبال ہیں۔۔۔

aaj-ki-baat-new

Scroll To Top