شام میں مغرب سینکڑوں برس پرانے زخموں کا انتقام لے رہا ہے

aaj-ki-baat-new

جب امتِ محمد ﷺ کا عروج شروع ہوا تو دنیائے ہلال کا دل شام تھا۔۔۔ مدینہ سے عظمتوں کا جو قافلہ چلا تھا اس کا پڑاﺅ دمشق میں ہوا جہاں قائم ہونے والی خلافت نے اسلام کو دنیا کے کونے کونے میں فتوحات کے جھنڈے گاڑتے ہوئے دیکھا۔۔۔
خلافت راشدہ کے دور میں قیصر و کسریٰ کی سلطنتیں فرزندان اسلام کی یلغار کے سامنے ڈھیر ہوگئیں اور پھر اسلام کی سطوت کا ستارہ باقی دنیا میں چمکانے کا فریضہ خلافت اموی نے سنبھا ل لیا۔۔۔
خلیفہ ولید کے دور میں اسلام نے بیک وقت طارق بن زیاد ` محمد بن قاسم اور قتیبہ بن مسلم باہلی جیسے بے مثال جنرل پیدا کئے جن کی فتوحات نے دنیا کا نقشہ تبدیل کرکے رکھ دیا۔۔۔
خلیفہ ولید سے پہلے ان کے والد عبدالملک اور ان سے پہلے حضرت معاویہ ؓ ابن ابی سفیان مملکت اسلامیہ کی بنیادیں مضبوط کرچکے تھے۔۔۔
میں جب 2001ءمیں پہلی بار دمشق گیا تو سب سے پہلے مسجد اموی میں نماز ادا کرنے پہنچا۔۔۔ مسجد اموی ` اموی بازار کے دوسری جانب ہے اور قریب ہی سلطان صلاح الدین ایوبی ؒ اور سلطا بیبرسؒ کے مزار ہیں جن کی فتوحات کی بدولت اسلام کو بارہویں اور تیرہویں صدی میں نشاة ثانیہ کا حصول ہوا۔۔۔مسجد اموی میں حضرت ذکریا ؑ اور حضرت یحییٰ ؑ دونوں کے مزار ہیں۔۔۔
وہاں نماز پڑھتے ہوئے میری جو کیفیت تھی میں بیان نہیں کرسکتا۔۔۔
میری نظروں کے سامنے اسلام کی پوری تاریخ گھوم گئی۔۔۔
دمشق میں میں ابن اشیر اور ابن کثیر کے مزارات پر بھی گیا جو اسلام کے بہت بڑے مورخ تھے۔۔۔ اُس قبرستان میں جاکر فاتحہ بھی پڑھی جہاں کئی جلیل القدر صحابہ دفن ہیں ۔۔۔ حضرت بلال ؓ اور ام المومنین حضرت حفصہ ؓ کی قبریں بھی وہیں ہیں۔۔۔مضافات میں حضرت حسین ؓ کی ہمشیرہ حضرت زینب ؓ کا مزار بھی ہے۔۔۔وہیں مجھے پتہ چلا کہ شام کے موجودہ صدر بشارا کے والد حافظ الاسد نے 30 برس تک مسجد اموی کو تالے لگائے رکھے تھے اور وہاں نماز پڑھنے کی اجازت کسی کو نہیں تھی۔۔۔ یہ خبر میرے لئے حیران کن تھی۔۔۔ پھر بات تب سمجھ میں آئی جب پتہ چلا کہ حافظ الاسد کا اسلام کچھ ویسا ہی تھا جیسا پاکستان کے قادیانیوں کا ہے۔۔۔
میں نے یہ ساری تمہید یہ بتانے کے لئے باندھی ہے کہ شام کو تباہ کرکے مغرب نے امت محمدی ﷺ سے ان ہزیمتوں کا انتقام لیا ہے جن کا سامنا صلیب برداروں کو ساتویں اور آٹھویں صدی میں کرنا پڑا تھا۔۔۔اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ شام کے صدر بشارا کا قائم رہنا بھی اسی ” انتقام “ کا ایک حصہ ہے۔۔۔ اب یہ بات ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ مغرب نے عراق پر حملہ عرب دنیا کی تقسیم در تقسیم کرنے کے لئے کیا تھا۔۔۔ مغرب اس محاذ آرائی سے پورا پورا فائدہ اٹھانا چاہتا ہے جو اسلام کے دو بنیادی فرقوں میں ہوتی رہی ہے۔۔۔ میرا اندازہ ہے کہ نائن الیون کے بعد ایک کروڑ کے لگ بھگ عرب مسلمان مغرب کے بموں اور ایک دوسرے کی گولیوں کا نشانہ بنے ہیں۔۔۔
المناک بات یہ ہے کہ صدر بشارا نہایت بے دردی کے ساتھ ان مسلمانوں پر اپنے طیاروں سے موت برسا رہے ہیں جن کے عقائد ان سے مختلف ہیں۔۔۔شام کی تباہی کا سلسلہ کب اور کیسے رکے گا کوئی نہیں جانتا۔۔۔ اِسی تباہی کے پس منظر میں ” داعش “ کو جنم دیا گیا ۔۔۔ مقصد تباہی کے اس سکرپٹ کا جواز پیدا کرنا تھا جو بیک وقت واشنگٹن ماسکو اور تل ابیب میں لکھا گیا ۔۔۔ اس سکرپٹ کے مصنفین میں بشارا الاسد اور ان کے حامی بھی شامل ہیں۔۔۔

Scroll To Top