پاکستان میں خسرہ کا مرض بحرانی شکل اختیار کرگیا

sپاکستان کی ناقص منصوبہ بندی کے تحت ملک میں خسرہ کی وبا شدت اختیار کرتی جارہی ہے۔ فوٹو: فائل

 اسلام آباد: پاکستان کے ضلع موسیٰ خیل میں پانچ بچے خسرہ کی وجہ سے موت کے شکار ہوئے ہیں اور اس تناظر میں تازہ خبر یہ ہے کہ ملک میں یہ مرض تیزی سے بڑھ رہا جس سے اس بیماری کے انتظامات اور ویکسی نیشن پر کئی سوالیہ نشانات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق سال 2016 سے پاکستان میں خسرہ کے رپورٹ شدہ کیسز میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جس سے پاکستان میں اس مرض کی سنگین موجودگی ظاہر ہوئی ہے۔ اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ پورے خطے کے مقابلے میں پاکستان میں خسرہ کے واقعات زیادہ رونما ہورہے ہیں بلکہ 2017 کے مقابلے میں مریضوں کی تعداد میں 100 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

میزلز ریبیولا بلیٹن کی تازہ اشاعت میں کہا گیا ہے کہ 2016 میں پاکستان میں خسرہ کے 2,845 واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ 2017 میں ان کی تعداد 6,494 سے تجاوز کرچکی تھی۔  2017 کی یکم جنوری سے 31 دسمبر تک 10,540 کیسز لیبارٹری میں بھیجے گئے جن میں سے 6,494 نمونوں میں خسرہ کی تصدیق ہوئی۔

ڈبلیو ایچ او رپورٹ کے مطابق اگرچہ تمام کیسز تجربہ گاہوں میں ٹیسٹ کیے گئے تھے لیکن ان میں سے ایک کا بھی بعد میں جائزہ نہیں لیا گیا اور نہ کوئی منظم منصوبہ بندی کی گئی۔ اسی سال پورے ملک میں ریبیولا کے 367 کیس بھی رونما ہوئے۔ دوسری جانب جنگ زدہ افغانستان میں اسی عرصے میں 2321 مریضوں کا جائزہ لیا گیا تو 1,511 میں خسرہ کی تصدیق ہوئی۔

سال 2016 میں پاکستان میں 5,871 مریضوں کو ٹیسٹ کیا گیا تو ان میں سے 2,845 میں مرض کی تصدیق ہوئی۔ حکومتی منصوبے کے تحت 9 سے 15 ماہ تک کے بچوں کو خسرہ کی ویکسین پلانا لازمی ہے تاہم ویکسی نائزیشن کے توسیعی پروگرام (ای پی آئی) کے تحت اس میں شدید ناکامی دیکھی گئی ہے۔ پاکستانی ماہرین نہ صرف خسرہ کی وبا کو روکنے میں ناکام رہے بلکہ پھوٹ پڑنے کے بعد انہوں نے اس کی کوئی روک تھام نہیں کی۔

گزشتہ برس صحت اور بہبود آبادی کے ایک فورم کی صدارت وفاقی وزیر صحت سائرہ افضل تارڑ نے کی اور خسرہ کا نوٹس لیا تھا۔ انہوں نے متاثرہ علاقوں میں خسرہ کے خلاف ویکسین مہم پر بھی رضامندی ظاہر کی تھی جو اپریل 2017 میں ہونا تھی اور پورے پاکستان میں اکتوبر 2018 میں ملک گیر ویکسی نیشن شروع کرنے کا عندیہ بھی دیا گیا تھا۔ علاوہ ازیں صوبوں کے درمیان باہمی رابطوں کی حکمتِ عملی بھی طے کی گئی تھی۔

تاہم صحت کے دیگر ماہرین کا اصرار ہے کہ پورے ملک میں خسرہ کے خلاف مہم 2016 کے نصف اور 2017 کی پہلی سہ ماہی میں کی جانی چاہیے تھی تاہم سوائے پنجاب کے بقیہ تمام صوبوں کے درمیان ناقص انتظامات سے یہ ممکن نہ ہوسکا۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق خسرہ کی روک تھام کےلیے ضروری ہے کہ مخصوص عمروں کی 95 فیصد آبادی کو ویکسین پلائی جائے، یہاں تک کہ 80 فیصد آبادی کو احاطہ ویکسین میں لانے کے بعد بھی خسرہ کا خطرہ سر اٹھاسکتا ہے۔ ان میں سے پنجاب اور آزاد جموں و کشمیر کو چھوڑ کر باقی تمام صوبوں نے صرف 50 فیصد ویکسی نیشن کا ہدف حاصل کیا ہے۔

Scroll To Top