پولیس اصلاحات کے ذریعے عوام کو خوف کی فضا سے چھٹکارا دلادیا، پرویز خٹک

پشاور کو فاٹا سے ملانے والی سرحدوں کے ساتھ سیکیورٹی انتظامات کی مضبوطی کےلئے31پولیس چیک پوسٹس قائم کر دیں

دہشتگردی کے خلاف جنگ میں فوج اور عوام کی قربانیاں رنگ لا رہی ہیں ،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا تقریب سے خطاب

پشاور ، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نو تعمیر شدہ پولیس لائنز کا افتتاح کر رہے ہیں

پشاور ، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نو تعمیر شدہ پولیس لائنز کا افتتاح کر رہے ہیں

پشاور(این این آئی)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت دیگر شعبوں کی طرح پولیس میں واضح اصلاحات کے عزم کے ساتھ برسر اقتدار آئی تھی جسے ہم نے فوری عملی جامہ پہنایا ۔ہم نے پولیس کو غیر سیاسی بنایا اور اس کی بدولت نہ صرف صوبے میں امن و امان اور سکیورٹی کی صورتحال بہتر بنی بلکہ عوام کو خوف اور بے یقینی کے ماحول سے نکالنے میں بھی کامیاب ہوئے انہوںنے کہاکہ آج خیبر پختونخوا کی پولیس فورس آزاد اور انتظامی طور پر با اختیار بن کر حکومتی عزم اور عوامی خواہشات کے مطابق ڈیلیور کر رہی ہے اب ماضی کے تھانہ کلچراور تھانوں میں بے جا تشدد کا خاتمہ ہوچکا ہے اور پولیس پیشہ ورانہ طریقے سے اپنی حقیقی ذمہ داریوں کی اخلاص کے ساتھ انجام دہی میں مصروف ہے صوبے میں پولیس یکسر بدل چکی ہے جو جرائم کے خلاف لڑنے اور عوامی مشکلات و مسائل کے حل کےلئے ہر دم پر عزم ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیر اعلیٰ ہاو¿س پشاور میں امریکی ادارے بیورو آف انٹر نیشنل نارکاٹکس اینڈ لاءافیئرز(آئی این ایل) کی مالی معاونت سے پولیس پراجیکٹس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ڈائریکٹر آئی این ایل گریگری شیفل اور انسپکٹر جنرل پولیس خیبر پختونخوا صلاح الدین محسود نے بھی تقریب سے خطاب کیا ۔اس موقع پر خیبر پختونخوا میں خدمات کی بہتری، اداروں کی مضبوطی اور دیرپا سیکیورٹی کےلئے شعبہ پولیس میں آئی این ایل کی مالی معاونت سے منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی ۔ مذکورہ منصوبوں میں سے 70کنال اراضی پر محیط پولیس لائنز کبل سوات کا منصوبہ مکمل ہو چکا ہے جس پر 371ملین روپے لاگت آئی ہے سوات میں تین پولیس سٹیشنز کبل، رحیم آباد اورمینگورہ بھی مکمل ہو چکے ہیں جن کی لاگت 265ملین روپے ہے۔نوشہرہ میں657 ملین روپے کی لاگت سے چار سو کنال اراضی پر محیط جائنٹ پولیس ٹریننگ سنٹر بھی مکمل ہو چکا ہے جو پولیس کی تربیتی ضروریات پورا کرنے کےلئے بنایا گیا ہے ۔بونیر میں800ملین روپے کی لاگت سے 200کنال اراضی پر مشتمل پولیس لائنز ڈگر بھی مکمل ہے ۔ پشاور کو فاٹا سے ملانے والی سرحدوں کے ساتھ سیکیورٹی انتظامات کی مضبوطی کےلئے 800ملین روپے کی لاگت سے 31پولیس چیک پوسٹس مکمل کی جا چکی ہیں۔90ملین روپے کی لاگت سے جائنٹ پولیس ٹریننگ سنٹرز کے اضافی کام بھی مکمل کئے گئے ہیں۔پروگرام کے دوسرے مرحلے کے تحت آئندہ تعمیر کئے جانے والے منصوبوں میں تربیتی مراکز کی ضروریات کو پورا کرنے کےلئے 800ملین روپے کی اضافی رقم رکھی گئی ہے ۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جب خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت آئی تو دوسرے اداروں کی طرح پولیس کا شعبہ بھی سیاست زدہ تھا اور سیاستدانوں کے مفادات کا محافظ تھا پولیس میں سیاسی مداخلت اپنے عروج پر تھی پولیس جرائم کے خلاف لڑنے کی بجائے جرائم کو فروغ دینے کا ذریعہ بن چکی تھی عوام پولیس کے کردار اور اسکی مجموعی کارکردگی کے حوالے سے شکوک و شبہات کا شکار تھے استعداد کی کمی، تربیت کے فقدان اور حکمران طبقے کی چاکری کی وجہ سے آپریشنل اور تحقیقی دونوں سطح پر پولیس ناکام ہو چکی تھی جس کی وجہ سے معاشرہ برائیوں اور خلفشار کا شکار تھا انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کے پاس شعبہ پولیس میں وسیع پیمانے پر اصلاحات کے بغیر کوئی دوسرا راستہ موجود نہیں تھا صوبائی حکومت کا بنیادی مقصد بھی یہی تھا کہ صوبے کی پولیس کو جرائم سے لڑنے ، امن عامہ کی بہتری اور حکومت کی رٹ بحال کرنے کے قابل بنایا جائے انہوں نے کہا کہ یہ صوبہ ملک بھر میں دہشتگردی کے براہ راست نشانے پر تھا دوسری طرف دہشتگردی کے خلاف جنگ کی وجہ سے صوبے میں دہشتگردی کی نت نئی لہرپیدا ہوتی گئی وسیع پیمانے پر افغان مہاجرین کی وجہ سے بھی جرائم کی شرح میں اضافہ ہوا جو صوبے میں دہشتگردی کی وجوہات میں سے ایک وجہ ہے پرویز خٹک نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہماری افواج اور عوام نے بے تحاشا قربانیاں دی ہیں چند ایسے ہوش ربا واقعات رونما ہوئے جو ویک اپ کال ثابت ہوئے جن میں دہشتگردی کی بے قابو سرگرمیاں اور بڑھتے ہوئے جرائم شامل ہیں انہوں نے کہا کہ ماضی میں پولیس کی کارکردگی کبھی بھی ٹھیک نہیں رہی۔ پرویز خٹک نے کہاکہ امن ترقی کےلئے نا گزیر ہے پورا معاشرتی ڈھانچہ امن پرکھڑا رہتا ہے ۔اگر امن نہ ہو تو یہ ڈھانچہ دھڑام سے گر جاتا ہے اور حکمرانی برائے نام رہ جاتی ہے ۔انہوںنے کہاکہ انہوںنے اپنے اختیار ات پولیس کو دیئے تاکہ پولیس بغیر کسی اثر و رسوخ کے پیشہ وارانہ انداز میں اپنی ذمہ داریاں پوری کر سکے ۔میں نے آغاز میں ازخود اپنے اختیارات چھوڑ کر پولیس کو بااختیار بنایا لیکن بعدازاں اس عمل کو کل وقتی بنانے کیلئے ہم نے قانون سازی کی تاکہ مستقبل میں پولیس کو کوئی اپنے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال نہ کر سکے ۔ایسا کرنے سے تھانہ کلچر میں بہتری آئی ، تھانے میں مار پیٹ ختم ہوئی ، یوں پولیس ایک تبدیل شدہ ماحول میں اپنے لئے ایک تبدیل شدہ رول بنانے میں کامیاب ہوئی اور یہ رول جرائم کی بیخ کنی اور غریب عوام کی مشکلات کا مداواثابت ہو رہی ہے ۔انہوںنے کہاکہ یہ حقیقت ہے کہ ماضی میں ہماری پولیس سے متعلق اختیارات کے غلط اورذاتی مقاصد کیلئے استعمال کی شکایات عام تھیں ۔حکمرانوں نے پولیس کو اپنے ذاتی اور سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا۔ ہم نے یہ ذہنیت تبدیل کرنے کی کوشش کی اور کامیاب رہے ۔ہم نے پولیس کو مالی اور انتظامی خود مختاری دی اور اُن پر مختلف سطحوں پر جوابدہی کا عنصر متعارف کرایا تاکہ اختیارات کا غلط استعمال نہ ہو نے پائے۔ہمارے اقدامات کے نتیجے میں جرائم اور دہشت گردی کے واقعات میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ۔وجہ صرف یہ ہے کہ پولیس نے پیشہ وارانہ انداز سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی شروع کیں۔دہشت گردی کے واقعات میں 51 فیصدکمی آئی ۔ فاٹا کے ساتھ بہتر بارڈر مینجمنٹ اور مشترکہ سرچ آپریشنزکی وجہ سے اب صوبے میں دہشت گردی اور جرائم پر خاطر خواہ قابو پالیا گیا ہے ۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ اُن کی حکومت نے بہتر نتائج کیلئے پولیس کو جدید ٹیکنالوجی کی سہولیات مہیا کیں۔ ہم نے پولیس میں سزا وجزا کی پالیسی بھی متعارف کی جبکہ صوبائی حکومت کی معاونت سے پولیس نے 41 مصالحتی کونسلیں قائم کی جنہوںنے 17 ہزار سے زائد چھوٹے موٹے مقدمات نمٹائے جبکہ 26 پولیس اسسٹنٹس لائنز قائم کئے جن سے 4 لاکھ سے زائد شہری مستفید ہوئے اسی طرح صوبے میں 4 سال قبل انسدادی دہشت گردی کا شعبہ قائم کیا گیا اور اس کے ساتھ ہی کینائن یونٹ ، بم ڈسپوزل یونٹ، سپیشل کمبیٹ یونٹ، ریپڈ ریسپانس فورس، ایلیف ویمن کمانڈوز، ٹریفک وارڈن ، سٹی پٹرول اور پولیس ایکسس سروس سمیت کئی دوسرے شعبوں اور خدمات کا آغاز کیا گیا ۔پرویز خٹک نے کہا کہ صوبائی حکومت نے پولیس کے کئی خصوصی تربیتی ادارے بھی قائم کئے جن میں سکول آف انوسٹی گیشن، سکول آف ٹیکٹکس، سکول آف ٹریفک مینجمنٹ، سکول آف انٹیلی جنس، سکول آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، سکول آف پبلک ڈس آرڈر اینڈ رائٹ مینجمنٹ، سکول آف ایکسپلوسیو ہینڈلنگ اور سکول آف ایلیٹ ٹریننگ شامل ہیں۔ ان تربیتی اداروں میں 17 ہزار سے زائد پولیس افسران کو تربیتی سہولیات مہیا کی گئیں اور یہ سلسلہ بدستور جاری ہے ۔انہوںنے کہاکہ صوبے میں پولیس کے کئی دیگر تربیتی و تحقیقی ادارے قائم اور فعال بنائے گئے جن میں پولیس ٹریننگ کالج ہنگو، پولیس ٹریننگ سکول صوابی(2015) ، پولیس ٹریننگ سکول سوات(2016) ، پولیس ٹریننگ سکول مانسہرہ اور پولیس ٹریننگ سکول کوہاٹ شامل ہیں۔انہوںنے کہاکہ پولیس اصلاحات کی وجہ سے صوبے میں جرائم اور بدامنی پر قابو پانے کیلئے ہماری کامیابیوں کی فہرست کافی طویل ہے انہوںنے اُمید ظاہر کی کہ ہماری پولیس فورس مزید اختیارات اور خودمختار بننے کے بعد اپنی کارکردگی اور امن وامان کی بہتری کے ضمن میں زیادہ حسن کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی بالخصوص صوبے سے دہشت گردی، بدامنی اورجرائم کی مکمل بیخ کنی کرنے میں کامیاب ہو گی ۔

Scroll To Top