اللہ کی حکمرانی سے انکار نہیں  لیکن اوپر اللہ نیچے نوازشریف!

aaj-ki-baat-newرانا ثناءاللہ نے 2018ءکے لئے نون لیگ کی منصوبہ بندی کی نشاندہی کردی ہے۔۔۔ انہوں نے کہا ہے کہ آئین میں دو تین شقوں کے اندرترامیم کی ضرورت ہوگی۔۔۔ پھر میاں نوازشریف چوتھی مرتبہ وزیراعظم بن جائیں گے۔۔۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ نون لیگ دوتہائی اکثریت حاصل کرنے کا مصّمم ارادہ رکھتی ہے۔۔۔ اتنی بڑی اکثریت ہی انہیں 1990-91ءاور1996-97ءکے انتخابات میں حاصل ہوئی تھی جس کے نتیجے میں میاں صاحب نے دو آرمی چیف فارغ کئے تھے۔۔۔اُن دنوں اُن کے اندر شی گویرا کی روح نہیں پھونکی گئی تھی اور وہ اسلام کو ہی اپنی فلاح و بہبود کا راستہ سمجھتے تھے۔۔۔ سعودی عرب کی سرزمین کی حد تک اسلام کے ساتھ اُن کا رشتہ اب بھی قائم ہے۔۔۔ لیکن خود ان کے اپنے بقول اب وہ زیادہ تر نظریاتی ہوچکے ہیں۔۔۔ اِسی ” نظریاتی پن “ میں انہوں نے ختم نبوت کے حلف نامے میں ” روا دارانہ “ ترمیم کرنے کی ناکام کوشش کی ۔۔۔
گزشتہ برسوں میں دوتہائی اکثریت حاصل کرنا اُن کے لئے اِس لئے مشکل نہیں تھا کہ اسٹیبلشمنٹ ان کے پیچھے کھڑی ہوتی تھی۔۔۔ پھر ” جاگ پنجابی جاگ۔۔۔ تیری پَگ نوں لگ گیا داغ “ کے نعرے میں بھی بے پناہ کشش تھی۔۔۔ بچاری بے نظیر بھٹو اپنی جغرافائی پہچان نہیں بدل سکتی تھیں۔۔۔ اُن کا تعلق بہرحال سندھ سے تھا۔۔۔
اب صورتحال بدل چکی ہے۔۔۔ 2013ءوالی بات بھی نہیں رہی ۔۔۔ 2013ءمیں بھی ” آر اوز“ کا الیکشن کرانے میں جسٹس چوہدری اور جنرل کیانی دونوں نے میاں صاحب کی خاصی معاونت کی۔۔۔ اب میاں صاحب کے پیچھے صرف پنجاب کی بیورو کریسی کھڑی ہے۔۔۔ اور وہ بھی براہ راست میاں صاحب کے پیچھے نہیں کھڑی۔۔۔ درمیان میں میاں شہبازشریف بھی ہیں۔۔۔ جہاں تک رانا ثناءاللہ کا تعلق ہے وہ خود ہی جانتے ہیں کہ اُن کا دل زیادہ بڑے میاں صاحب کے ساتھ ہے یا چھوٹے میاں صاحب کے ساتھ۔۔۔ ویسے رانا ثناءاللہ دل سے زیادہ دماغ سے کام لیتے ہیں۔۔۔ اور کبھی کبھی وہ بھی نہیں لیتے۔۔۔
اگر دوتہائی اکثریت حاصل کرنے کے ارادے میں نون لیگ کامیاب ہوجاتی ہے تو وہ یقینا آئین میں مختلف قسم کی ترامیم کرانے کے چکر میں پڑے گی۔۔۔
میرا مشورہ یہ ہے کہ بہت ساری شقوں میں بہت ساری ترامیم کرانے کی بجائے نون لیگ دیباچے میں ایک نئی شق کا اضافہ کرالے۔۔۔
” حاکمیت خدا کی سہی مگر زمین پر خدا کے نائب میاں نوازشریف ہیں۔۔۔اور جب تک وہ زندہ ہیں وہی وزیراعظم رہیں گے ۔۔۔ اگر خدانخواستہ وہ اللہ کو پیارے ہو جاتے ہیں تو وزارتِ عظمی ٰ خود بخود مریم نواز صفدر کے نام منتقل ہوجائے گی۔۔۔ بالکل اسی طرح جس حضرت امیر معاویہ ؓ کی وفات کے بعد خلافت یزید بن معاویہ کے حصے میں آگئی تھی ۔۔۔“
دوتہائی اکثریت کی موجودگی میں یہ قانون سازی زیادہ مشکل نہیں ہوگی۔۔۔ اس بات کا خطرہ بہرحال رہے گا کہ سپریم کورٹ اس قانون سازی کو کالعدم قرار دے کر میاں صاحب کے مقدر میں ایک اور نا اہلی لکھ دے۔۔۔
اس ضمن میں میرا مشورہ یہ ہے کہ میاں صاحب پہلے اپنے غیر ملکی دوستوں سے کہیں کہ اگر آپ حضرات میری نا اہلی دور کرنا چاہتے ہیں تو کسی طرح اس عدلیہ اور اس فوج سے میری جان چھڑادیں۔۔۔

Scroll To Top