ایک بیوروکریٹ کی گرفتاری: پوری پنجاب حکومت میں کھلبلی

  • افسران کا احد چیمہ کی گرفتاری کی آڑ میں اکٹھے ہونے کا مقصد اپنی بدعنوانی پر پردہ ڈالنے کے سوا کچھ نہیں ، انہیں خدشہ ہے کہ کہیں احد چیمہ وعدہ معاف گواہ بن کر ان کے کچھ بیورورکریٹس اور کچھ سیاست دانوں کےلئے مشکلات نہ پیدا کردے
  • شہباز شریف کو چاہیے تھاکہ احتجاج پر جانےوالے افسران کے خلاف سخت ایکشن لے کر ان کو فارغ کر دیتے، لیکن اس کے برعکس وہ خود اور ان کی حکومت خم ٹھونک کر احد چیمہ کی بدعنوانی کو بچانے کیلئے میدان میںکود پڑی

احد چیمہ ریمانڈ پر نیب کے سپرد

اسلام آباد(الاخبار نیوز)پنجاب حکومت کے چہیتے افسر احد چیمہ گریڈ 18 میں ہوتے ہوئے گریڈ 20 کے ڈی سی او لاہور اور ڈی جی لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی جیسے عہدوں پر فائز رہے، لیکن بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی، جوں جوں احد چیمہ جائز نا جائز کام بے چوں چرا کرتے گئے ان کو قانون بالائے طاق رکھ کر ترقی کی سیڑھیاں چڑھایا جاتا رہا۔حکومت احد چیمہ کی کارکردگی سے اتنا خوش ہوئی کہ ان کو پاور کمپنی کا سربراہ بنا کر 15 لاکھ روپے سے زائد تنخواہ کے علاوہ لاکھوں کی مراعات سے نواز دیا گیا۔وقت گزرنے کے ساتھ احد چیمہ کی بدعنوانی کی داستانیں بیورو کریسی میں افسران سے لے کر چپڑاسی تک ہر شخص کی زبان پر آنے لگیں لیکن حکومت پنجاب نے کان نہ دھرنے تھے اور نہ دھرے۔ لیکن وہ ہوگیا جس کا انہوں نے سوچا بھی نہیں تھا، آشیانہ ہاو¿سنگ اسکیم میں کروڑوں روپے کی کرپشن کے معاملات سامنے آنے پر نیب نے احد چیمہ کو گرفتار کرلیا۔ترجمان نیب کے مطابق احد چیمہ نے آشیانہ ہاو¿سنگ اسکیم کی الاٹمنٹ میں 32 کنال اراضی رشوت کے طور پر لی اور اس زمین کی قیمت ایک ہاو¿سنگ کمپنی کے اکاو¿نٹ سے ادا کی گئی۔ ڈائریکٹر جنرل لاہور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کی حیثیت سے احد چیمہ نے اربوں روپے کے ٹھیکے ایک کمپنی کو دے دیے۔ اب احد چیمہ عدالتی ریمانڈ پر نیب کے زیرتفتیش ہیں، دیکھتے ہیں کہ مزید کتنی بدعنوانی کی داستانیں نکلتی ہیں۔لیکن احد چیمہ کیا پکڑا گیا بیوروکریٹس کے تن بدن میں جیسے آگ لگ گئی اور ہر طرف کھلبلی سی مچ گئی۔ اعلیٰ افسران تمام کام چھوڑ کر حکمت عملی طے کرنے کے لیے اجلاسوں میں لگ گئے۔ احد چیمہ کے پکڑے جانے پر جن افسران کے سر شرم سے جھک جانے چاہیے تھے وہ اس کی بدعنوانیاں چھپانے کے لیے کمیٹیاں تشکیل دینے میں مصروف ہو گئے۔ شاید اب انہیں ڈر ہو کہ اگر انہوں نے شور نا ڈالا تو کہیں ان کی باری بھی نہ آجائے افسران کا احد چیمہ کی گرفتاری کی آڑ لے کر اکٹھے ہونے کا مقصد اپنی بدعنوانی کو بے نقاب ہونے سے بچانے اور اس پر پردہ ڈالنے کے سوا کچھ نہیں ہے۔اعلیٰ افسران کو احد چیمہ کے پکڑے جانے کی فکر کے بجائے مزید افسران کے نام سامنے آنے کا ڈر کھائے جا رہا ہے کیونکہ احد چیمہ کی آشیانہ ہاو¿سنگ اسکیم میں ہونے والی بدعنوانی کے الزامات کے علاوہ کرپشن کے مزید کیسز بے نقاب ہو سکتے ہیں۔ احد چیمہ کو رشوت میں دی جانے والی 32 کنال اراضی کا پیسہ ادا کرنے والی نجی ہاو¿سنگ اسکیم کے پس پردہ ایک معروف سیاستدان کا نام بھی سامنے آسکتا ہے، اسی کیس میں وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری فواد حسن فواد بھی نیب میں پیش ہوچکے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ بیوروکریٹس کو خدشہ ہے کہ کہیں احد چیمہ وعدہ معاف گواہ بن کر دوسرے افسران اور سیاست دانوں کے لیے مشکلات نہ پیدا کردیں۔شہباز شریف کو چاہیے کہ جو افسران کسی بدعنوان افسر کی حمایت میں اکٹھے ہوں، ان کے خلاف سخت ایکشن لے کر ان کو عہدوں سے فارغ کر دیں۔ کیا افسران کا یہ کام ہے کہ وہ کسی ایسے افسر کا ساتھ دیں جس پر کرپشن کے سنگین الزامات ہوں؟ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ چیف سیکریٹری سمیت دیگر افسران اپنے درمیان سے کرپٹ افسران کو خود نیب کے حوالے کردیتے نا کہ اس کو بچانے کے لیے خود میدان میں کود پڑیں۔

Scroll To Top