زہر کون پیئے گا ۔۔۔؟

ڈاکوﺅں کے ہاتھوں لُٹ جانے کا خوف ہر آنے والی صبح کو بڑھ جاتا ہے۔۔۔ صبح صبح اٹھ کر ٹی وی پر ایسی خبروں سے سابقہ پڑتا ہے جن میں کبھی موٹر سوار ڈاکو راہ چلتے شہریوں کو روک کر اسلحے کے زور پر لوٹتے ہیںاور بڑے اطمینان کے ساتھ رفوچکر ہوجاتے ہیں۔۔۔ اور کبھی کوئی کار آکر کسی دوسری کا ریاموٹر سائیکل کے سامنے رکتی ہے ` اس میں سے ڈاکو برآمد ہوتے ہیں۔۔۔کسی کے ہاتھ میں پستول ہوتا ہے اور کسی کے ہاتھ میں کلاشنکوف ۔۔۔ لٹنے والا دو تین منٹ کے اندر ہرچیز سے محروم ہوچکاہوتا ہے ۔۔۔
جس طبقے سے مجھ جیسے لوگ تعلق رکھتے ہیں اُن کی ساری توجہ آج کل اُن لوگوں کی طرف ہے جن کے ہاتھوں ہمارا ملک لوٹا جاچکا ہے یا لٹ رہا ہے۔۔۔ ابھی اِس طبقے کو اُن ڈاکوﺅں کے بارے میں زیادہ پریشانی نہیں ہے جو سڑکوں ` گلیوں اور چوراہوں میں لوٹ مار کرتے ہیں۔۔۔ مجھ جیسے لوگوں کو کچھ یقین سا ہے کہ ایسے ڈاکوﺅں کے ہتھے چڑھنے کی نوبت اُن پر نہیں آئے گی۔۔۔ جیسے انہیں اس بات کا یقین رہا ہے کہ جو لوگ دو دو ہاتھوں سے قومی خزانے پر ہاتھ صاف کررہے ہیں اُن کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔۔۔ حالیہ حالات و واقعات سے البتہ یہ امید ہوچلی ہے کہ یہ سفید پوش ڈاکو شاید آنے والے وقتوں میں اپنے انجام کو پہنچ جائیں۔۔۔ امید بہرحال امید ہوتی ہے۔۔۔ اور ہم نے کئی بار امید کے چراغ جلائے ہیں او ر ہر بار انہیں بجھتے بھی دیکھا ہے۔۔۔
اگر آپ نے تاریخ پڑھی ہے تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ حکومتوں پر قبضے کیسے کئے جاتے تھے۔۔۔ منگولیا کا چنگیز خان کبھی صحرائے گوبی کا ایک چرواہا تموجن تھا۔۔۔ پہلے ایک ڈاکو بنا۔۔۔ پھر ڈاکوﺅںکا سردار۔۔۔ اور پھر خاقان اعظم بن گیا۔۔۔ ہم مملوکوں کی حکومت کے بارے میں بھی جانتے ہیں اور خاندان غلامان کے بارے میں بھی۔۔۔ ہم یورپ کے وائکنگز (Vikings)کے بارے میں بھی آگاہ ہیں او ر چین کے ہُنز(Huns) کے بارے میں بھی ۔۔۔
اگر اگلی چند صدیوں تک قیامت نہ آئی تو امکان ہے کہ آنے والے ادوار کے مورّخ پاکستان کی ابتدائی دہائیوں میں سے کچھ دہائیوں کو ڈاکوﺅں کا دور قرار دیں۔۔۔ یعنی ڈاکو شاہی کا وہ دور جس میں ڈاکو تو ڈاکو تھے ہی کوتوال بھی ڈاکو تھے۔۔۔
یہ یقین تو مجھے ہے کہ پاکستان نے صدیوں تک قائم رہناہے پر یہ نہیں جانتا کہ اُس باب کا آغاز کب ہوگا جس میں ڈاکو شاہی کے زوال اور خاتمے کا ذکر ہوگا۔۔۔
فی الحال تو شہزادی مریم یہ کہتی سنائی دیتی ہیں کہ ” ہم حکمران خاندان سے ہیں۔۔۔ کس کی مجال ہے کہ ہماری طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھے۔۔۔ ؟“
وہ تو یہ کہہ رہی ہیں مگر لگتا ہے کہ ہمارے جج اُن کی یہ بات نہیں سن رہے۔۔۔ جج اُن کے محلات کی طرف انگلیاں اٹھا کر یہ سوال کرتے سنائی دے رہے ہیں کہ ” اِن کی تعمیر اگر عوام کے خون پسینے او ر ہڈیوں پر نہیں ہوئی تو پھر کیسے ہوئی ۔۔۔؟“
ڈاکو جب پکڑا جاتا ہے تو اگر یہ نہ کہے تو اور کیا کہے۔۔۔ ” مجھے کیوں پکڑا۔۔۔؟“
پنجاب حکومت کے احد چیمہ کو جب سے پکڑا گیا ہے ان کے ساتھی اور خود پنجاب حکومت یہ سوال کرتی سنائی دے رہی ہے کہ ” اسے کیوں پکڑا۔۔۔؟“
ابھی یہ کہنا قبل ازو قت ہے کہ ڈاکو راج کب اور کیسے ختم ہوگا۔۔۔ لیکن چیف جسٹس کا یہ عزم خوش آئند ہے کہ ” قانون اور انصاف کی حکمرانی قائم کرنا ہمارا مصّمم عزم ہے۔۔۔“
رانا ثناءاللہ جیسے لوگ کہتے ہیں ” کیسا قانون اور کیسا انصاف ؟ کیا ہم انصاف اور قانون نہیں ؟ ہم تو خیر سے قائم ہیں ہی ۔۔۔!“
میرے گنہگار کانوں نے تخت نشینوں کے منہ سے یہ الفاظ نکلتے سنے ہیں۔۔۔“ یہ جرنیل اور یہ جج دوچار کروڑ کی مار ہوتے ہیں ۔۔۔“
اب انہیں اِس بات کا جواب مل رہا ہے۔۔۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ ” خوف مفاد اور مصلحت جج کے لئے زہرِ قاتل ہیں۔۔۔“
جج زہر پیتے نظر نہیں آرہے ۔۔
مگر زہر کسی نہ کسی نے پینا ہے۔۔۔
کون پیئے گا۔۔۔؟

aj ni gal new logo

Scroll To Top