میں نشے میں ہوں ۔۔۔

محترمہ مریم اورنگ زیب نے مجھے امیرمینائی کا ایک شعر یاد دلادیا ہے۔۔۔ میرا خیال ہے کہ یہ شعر امیر مینائی کا ہی ہے ۔۔۔ یقین اس لئے نہیں کہ زمانہ ءطالب علمی میں نظر سے گزرا تھا ۔۔۔
شیشے میں مے ` مے میں نشہ ` میں نشے میں ہوں۔
مجھ کو نہ کوئی ہوش نہ غم میں نشے میں ہوں
مریم اورنگزیب نے بس ذرا سی ترمیم کی ہے۔۔۔
شیشے میں میاں ` میاں میں نشہ ` میں نشے میں ہوں۔۔۔
میری دعا ہے کہ وہ نشے میں ہی رہیں۔۔۔ جب نشہ کرنے والوں کا نشہ ٹوٹتا ہے تو اُن کی جو کیفیت ہوتی ہے وہ سب کو معلوم ہے ۔۔۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ نون لیگی اِس کیفیت کے قریب پہنچ چکے ہیں اور میں یہ بھی نہیں کہہ رہا کہ وہ تمام لوگ ” نون لیگی “ ہیں جو پاکستان مسلم لیگ (ن)کو ووٹ دیتے ہیں۔۔۔ ووٹر ہمیشہ اپنے خوابوں کو ووٹ دیا کرتے ہیں ۔۔۔ وہ کبھی یہ نہیں سوچا کرتے کہ وہ جن خوابوں کو ووٹ دے رہے ہیں اُن کے پیچھے چھپی حقیقتیںکس قدر تلخ اور بھیانک ہیں۔۔۔ وہ کبھی نہیں سوچتے کہ جو مریم صفدر انہیں اُن کی غربت سے نجات دلانے کے د عوے کرکے ان سے ووٹ مانگنے نکلی ہے ` وہ یہ بات بھی بڑے فخر سے کہتی ہے کہ میں اپنے داماد کے ہیلی کاپٹر میں سفر کرکے یہاں آئی ہوں۔۔۔
میں جن لوگوں کو ” نون لیگی “ کہہ رہا ہوں۔۔۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی زندگی میں ایسے ہی داماد ہیں جو ہیلی کاپٹر رکھتے ہیں۔۔۔
نشہ بھی اِن ہی ” نون لیگی خواص “ کا اتر رہا ہے ۔۔۔ عدلیہ سے یہ گلہ بھی اِن ہی نون لیگی خواص کو ہے کہ وہ انصاف کے نام پر انتقام لے رہی ہے۔۔۔ اِن ” نون لیگیوں “ کا بیانیہ یہ ہے کہ لندن میں قیمتی املاک رکھنا اور ایسے داماد رکھنا جو بیس بائیس برس کی عمر میں ہیلی کاپٹر رکھتے ہوں اُن کا حق ہے اور کسی کو یہ اختیار نہیں کہ وہ اُن کے اِس حق کو چیلنج کرے اور اُن سے پوچھے کہ دولت کے یہ پہاڑ جن پر کھڑے ہو کر آپ عوام سے والہانہ عشق رکھنے کے دعوے کرتے ہیں یہ کہاں اُگتے ہیں اور یہ آپ کے حصے میں کیسے آئے ہیں۔۔۔
عدلیہ کا بیانیہ اِس کے برعکس یہ ہے کہ ” آپ لوگوں کے سارے حقوق برحق ` مگر اس سوال کا جواب تو آپ کو دنیا ہی ہوگا کہ جن املاک کے بارے میں آپ کہتے ہیں کہ الحمد للہ آپ کی ہیں وہ آپ کی بنیں کیسے ؟ آپ کو کاﺅنٹ آف مونٹی کرسٹو جیسا خزانہ کہاں سے ملا کہ آپ لوگوں کو ٹائلیٹ بھی جانا ہوتو ہیلی کاپٹر میں جاتے ہیں ۔۔۔“
نون لیگیوں کے ” نون “ میاں نوازشریف ہیں۔۔۔ اور ” لیگی “ وہ ہیں جو ” نون “ سے عشق کرتے ہیں۔۔۔ اِس عشق کا نشہ مریم اورنگزیب کو بھی چڑھا ہوا ہے اور پرویز رشید اور کیپٹن صفدر وغیرہ وغیرہ کو بھی۔۔۔ وغیرہ وغیرہ میں عابد شیر علی ` اور طلال چوہدری جیسے ” مدح سرا “ شامل ہیں۔۔۔
اِن مدح سراﺅں میں سے کسی نے فرمایا ہے کہ میاں صاحب گدھے پر بھی ہاتھ رکھ دیں تو وہی نون لیگ کا صدر ہوگا۔۔۔
میرے خیال میں اس بات پر گدھوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہوگی۔۔۔
وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے لئے یہ بات وجہ ءفکریہ ہوسکتی ہے کیوںکہ ہاتھ ان پر بھی میاں صاحب نے ہی رکھا تھا۔۔۔
اس ضمن میں قارئین کے ذہن میں یہ خیال ضرور آتا ہوگا کہ نون لیگیوں کو عشق نون سے ہے یا ان خزانوں سے جن کے منہ ” نون“ کے ایک اشارے پر کھل جایا کرتے ہیں۔۔۔
” عاشقانِ نون“ میں سے مجھے آج دو اصحاب کے ” انکشافات “ سننے کا موقع ملا ہے۔۔۔
جناب پرویز رشید نے فرمایا ہے کہ قوم کو انجینئرڈ جمہوریت قبول نہیں۔۔۔
جناب یہی تو عوام کا مقدمہ ہے کہ اس ملک کی جمہوریت پر میاں نوازشریف اُن کے خاندان اور ان کے حواریوں کا قبضہ ختم کیا جائے۔۔۔
دوسرا انکشاف کیپٹن صفدر نے یہ کیا ہے کہ مولوی تمیز الدین کی اسمبلی ٹوٹنے کی وجہ سے بنگلہ دیش قائم ہوا۔۔۔
کیپٹن صفدر کی تاریخ دانی بالکل اُن کی اپنی ذات جیسی ہی ہے۔۔۔
انہیں یہ ضرور بتایا جانا چاہئے کہ مولوی تمیز الدین اور بنگلہ دیش کے قیام کے درمیان سترہ برس کا فاصلہ ہے اور ان سترہ برسوں میں وہ دور بھی شامل ہے جس میں پاکستان ایک نہایت ترقی یافتہ ملک بنا۔۔۔
کیپٹن صفدر کو اگر یہ امید ہے کہ اُن کے سسر کی ” بڑھتی “ ہوئی نا اہلی پنجاب کو بنگلہ دیش بنا دے گی تو بہتر ہے کہ وہ جلدازجلد نشے سے نکل آئیں۔۔۔۔

aj ni gal new logo

Scroll To Top