”فیصلہ غیر متوقع نہ تھا “

بظاہر انتخابی اصلاحات ایکٹ کے خلاف سپریم کورٹ کا فیصلہ حیران کن نہیں ۔ اس اہم مقدمہ کی سماعت کے دوران فاضل جج صاحبان کی جانب سے جو ریمارکس سامنے آتے رہے وہ اس بات کا ثبوت دے رہے تھے کہ عدالت عظمی اس قانون کو سختی سے مسترد کرسکتی ہے جس میں آئین کی شکل 62اور63پر پورے نہ اترنے والے شخص کو پارٹی سربراہ بنا دیا گیا۔ آئینی اور قانونی لحاظ سے حکمران جماعت کے اس اقدام کو کسی طور پر پسند نہ کیا گیا جس میں عدالت کی جانب سے نااہل قرار پانے والے شخص کو پارٹی سربراہی سونپ دی گی۔ سیاسی اور قانونی ماہرین کی اکثریت کا موقف ہے کہ جس انداز میں ایک شخص کو بچانے کے مسلمہ سیاسی اور اخلاقی ضابطوں کو پامال کیا گیا اس کی ہرگز تعریف نہیں کی جاسکتی۔
وطن عزیز میں جرم اور سیاست کے امتزاج سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ خیبر تا کراچی ایسے سیاسی گروہ موجود ہیں جو سیاست کی آڈ میں مال بنانے میں بھرپور انداز میںمصروف عمل ہیں۔ یہ یقینا بدقسمتی ہے کہ ملکی سیاسی ومذہبی قیادت اپنے ہاں احتساب کا ایسا نظام وضع کرنے میںکامیاب نہ ہوسکی جس پررشک کیا جاسکے۔بادی النظر میں یہ کہنا بھی غلط نہیںکہ سیاسی جماعتوں کے اندر احتساب کا کڑا نظام نہ ہونے کے باعث ہی اصلاح احوال میں خاطر خواہ بہتری سامنے نہیں آسکی۔
ادھر الیکشن کمیشن نے حکمراں جماعت مسلم لیگ ن کے سربراہ کی نااہلی کے بعد اس کے چیئرمین کی جانب سے سینیٹ انتخابات کے لیے جاری کیے گئے ٹکٹس کو مسترد کر دیا ۔ واضح رہے کہ
جمعرات کو مسلم لیگ ن کے چیئرمین راجہ ظفر الحق نے سینیٹ کے انتخابات کے لیے پارٹی ارکان کو نئے ٹکٹ جاری کیے اور پھر یہ ٹکٹ الیکشن کمیشن میں جمع کرائے ۔تاہم الیکشن کمیشن نے مسلم لیگ ن کے ارکان کو سینیٹ کے جاری کردہ نئے ٹکٹس کو نظرانداز کرتے ہوئے انھیں آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دے ڈالی۔دراصل آئین وقانون کے اعتبار سے سچ یہی ہے کہ ایک بار سینٹ انتخابات کے شیڈول کا اعلان ہوجائے تو اس کے بعدکسی طور پر کاغذات نامزدگی کسی کے بھی منظور نہیں کیے جاسکتے۔ یہی وہ نقطہ ہے جسے الیکشن کمیشن نے یوں بیان کیا کہ سینیٹ کے انتخابات کے شیڈول کے مطابق اب کسی سیاسی جماعت کی جانب سے نئے ٹکٹس جاری نہیں کیے جا سکتے ۔اب صورت حال یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کے انکار کے بعد مسلم لیگ ن بطور جماعت سینیٹ کے انتخابات سے باہر ہو چکی لہذا اب اس کے ارکان آزاد حیثیت میں انتخاب میں حصہ لے سکتے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے بعقول سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد چار راستے تھے جن میں سینیٹ اور آئندہ سرگودھا اور گھوٹکی میں ہونے والے ضمنی انتخابات کو ملتوی کر دینا، مسلم لیگ ن کی جانب سے نامزد کردہ امیدواروں کے بغیر سینیٹ کا الیکشن کرانا، انتخابات کو ملتوی کر کے نئے ٹکٹ جاری کرنے کا موقع دینا اور چوتھا راستہ تھا کہ انھیں آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن میں حصہ لینے دیا جائے۔بعض آئینی ماہرین کے مطابق الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد درمیانی راستہ اپناتے ہوئے مسلم لیگ نون کے نامزد امیداروں کو آزاد حیثیت سے انتخاب میں حصہ لینے کی اجازت دی ہے۔ یعنی اس کا مطلب یہ لیا جاسکتا ہے کہ الیکشن کمیشن نے مسلم لیگ نون کے امیدواروں کی پارٹی سے وابستگی کو ختم کرچکی لہذا سینیٹ انتخابات میں کامیاب ہونے کے بعد یہ امیدواروں کی صوابدید پر ہو گا کہ وہ جس مرضی پارٹی میں شمولیت اختیار کریں یا آزاد رکن کی حیثیت سے سینیٹ کے رکن رہیں۔سابق وزیر اعظم نواز شریف نے سینٹ انتخاب کے لیے جو لوگ نامزد کیے ان کی نامزدگی واپس لے لی گئی لہذا اب وہ آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخاب میں حصہ لے سکیں گے، اور کامیاب ہونے کی صورت میں ان امیدواروں کی صوابدید پر ہو گا کہ وہ کس جماعت میں شمولیت اختیار کرتے ہیں۔کہا جارہا ہے کہ اگر الیکشن کمیشن یہ ردمیانی راستہ نہ اپناتا تو سینیٹ کے انتخابات التوا کا شکار ہو جاتے۔
ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ 28جولائی 2017 میں سپریم کورٹ کی جانب سے میاں نوازشریف کو نااہل قرار دیے جانے کے باوجود حکمران جماعت کی جانب سے جماعت کی قیادت سابق وزیر اعظم کے سپرد کرکے رسک لیا گیا جس کا انجام سب کے سامنے ہے۔بظاہر پی ایم ایل این قومی اداروںکے ساتھ محاذآرائی کے راستے پر گامزن ہے جس کا انجام کسی طور پر بہتر نہیںہونے والا ۔ مسلم لیگ ن سے یہ توقع رکھنا غلط نہیں کہ وہ اب بھی محاذآرائی کی بجائے آئین اور قانون کا راستہ اختیار کرے، قومی اداروںکو ہدف بنانا، انھیں متازعہ سمجھناکسی صورت خیر کا باعث نہیں بن سکتا۔
ملک میںعام انتخابات میں اب زیادہ دن نہیں رہ گے ، یہی وجہ ہے کہ سیاسی پنڈت خیال ظاہر کررہے کہ آنے والے دنوںمیںپی ایم ایل این کی جانب سے قومی اداروں کو ہدف تنقید بنانے کا سلسلہ زور پکڑ سکتا ہے جو ہرگز خوش آئند نہیں۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ تیزی سے تبدیل ہوتی علاقائی اور عالمی صورت حال میں پاکستان میں سیاسی استحکام کی اشد ضرورت محسوس کی جارہی جو حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے زمہ دارنہ طرزعمل کے بغیر ممکن نہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اب ان کا نام ہی باقی بچا ہے اور ‘میرا نام محمد نواز شریف ہے۔ اس کو بھی چھیننا ہے تو چھین لیں۔’

zaheer-babar-logo

Scroll To Top