نواز واقعی شریف بھی ہے اور نشہ بھی

مریم اورنگ زیب نے جب قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران یہ کہا کہ نواز شریف ایک نشہ ہے، تو شائد اس وقت وہ خود بھی ہوش میں نہ تھیں، کیونکہ کوئی بھی باشعور انسان اپنے پورے ہوش و حواس میں تو کم از کم یہ بات نہیں کہہ سکتا۔
میاں صاحب کی دوسری بار نااہلی پہ سب سے زیادہ تکلیف ماروی سرمد، محمد تقی اور یاسر لطیف ہمدانی جیسے لبرلز اور دانشوروں کو ہوئی ہے کیونکہ ان کی دوکان میاں صاحب سے چلتی ہے شائد۔
کل شام سے یہ اور ان جیسے دوسرے لوگ کچھ عجیب سی گفتگو کر رہے ہیں۔جہاں ایک طرف محمد تقی صاحب جو کے پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں اور شوقیہ شائد کالم نگاری بھی کرتے ہیں، معزز جج صاحبان کو گالیوں سے نواز رہے ہیں اور ان کی ذہنی اور تعلیمی قابلیت پہ شک کر رہے ہیں،حالانکہ خود انہیں دماغی علاج کی سب سے زیادہ ضرورت ہے،تو دوسری طرف ماروی سرمد جو کہ خود کو مستقبل کی عاصمہ جہانگیر سمجھتی ہیں اس قسم کے معصومانہ سوالات کر رہی ہیں کہ اگر میاں صاحب کے کئے گئے تمام فیصلے کالعدم قرار دے دئیے گئے ہیں تو اس کا مطلب میاں صاحب کا آرمی چیف کی تقرری کا فیصلہ بھی کالعدم ہو گیا؟
اور یاسر ہمدانی، قائد اعظم کے خود ساختہ سپہ سالار نے تو حد ہی کر دی۔ موصوف عاصمہ جہانگیر کو یاد کر کے اتنا بہک گئے اور اتنا آبدیدہ ہو گئے کہ یہاں تک کہہ ڈالا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے سپریم کورٹ کو معلوم تھا کہ آپ دنیا سے جانے والی ہیں اور یہ فیصلہ سنانے کے لئے جج صاحبان اسی بات کا انتظار کر رہے تھے۔ ماشااللہ۔ سبحان اللہ۔ پاگل پن اور بیوقوفی کی شائد ہی کوئی حد ہو۔ ان صاحب کیلئے ایک ہی جملہ کافی ہے:
Stupid is as stupid does… The perks of being a Harvard graduate…
ان سب باتوں سے ایک بات تو سہی ثابت ہوئی کہ نواز شریف واقعی ایک نشہ ہے جب چڑھتا ہے تو مشکل سے ہی اترتا ہے۔ لوگ اپنے ہوش کھو دیتے ہیں اور ایسی ہی بہکی بہکی باتیں کرنے لگتے ہیں۔
٭٭٭٭٭

isma-tarar-logo

Scroll To Top