کیا شاہد خاقان عباسی وزیر اعظم رہیں گے؟ نا اہل نواز شریف پارٹی صدارت سے بھی فارغ

  • آرٹیکل 62 ، 63 پر پورا نہ اترنے والا یا نااہل شخص پارٹی صدارت کا عہدہ نہیں رکھ سکتا،28جولائی کے بعد نواز شریف کے بطور پارٹی صدر اٹھائے گئے تمام اقدامات کالعدم،سینیٹ کے امیدواروں کی نامزدگی بھی کالعدم ، ٹکٹ منسوخ
  • انتخابی اصلاحات ایکٹ 2017 کے خلاف دائر درخواستوں کے کیس کی سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی،مختصر متفقہ فیصلہ چیف جسٹس نے خود پڑھ کر سنایا،پیٹیشنرز کی طرف سے بیرسٹرفروغ نسیم اور معروف قانون دان بابراعوان پیش ہوئے

نا اہل نواز شریف پارٹی صدارت سے بھی فارغ

اسلام آباد(الاخبار نیوز) سپریم کورٹ نے انتخابی اصلاحات ایکٹ کیس 2017 کے خلاف دائر درخواستوں کا فیصلہ سنا دیا جس کے نتیجے میں سابق وزیر اعظم نواز شریف مسلم لیگ (ن) کی صدارت کے لیے بھی نااہل ہوگئے۔انتخابی اصلاحات ایکٹ کیس کا متفقہ فیصلہ چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے سنایا۔چیف جسٹس نے کیس کا مختصر فیصلہ پڑھ کر سناتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 پر پورا نہ اترنے والا یا نااہل شخص پارٹی صدارت کا عہدہ نہیں رکھ سکتا۔فیصلے میں نواز شریف کے بطور پارٹی صدر اٹھائے گئے تمام اقدامات کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ نواز شریف فیصلے کے بعد جب سے پارٹی صدر بنے تب سے نااہل سمجھے جائیں گے۔عدالتی فیصلے کے بعد نواز شریف کے بطور پارٹی صدر سینیٹ انتخابات کے امیدواروں کی نامزدگی بھی کالعدم ہوگئی اور مسلم لیگ (ن) کے تمام امیدواروں کے ٹکٹ منسوخ ہوگئے۔قبل ازیں سپریم کورٹ الیکشن ایکٹ 2017 کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا وقار نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعت بنانے کا حق آئین فراہم کرتا ہے، آئین کے کسی دوسرے آرٹیکل سے اس بنیادی حق کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ان کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی انتخابی اصلاحات کمیٹی میں تمام سیاسی جماعتیں متفق تھیں تاہم صدر سے منظوری کے بعد قانون کا جائزہ مختلف تین بنیادوں پر لیا جاتا ہے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ قانون سازی بنیادی حقوق کے منافی ہو تو جوڈیشل نظر ثانی ہوسکتی ہے۔رانا وقار کا کہنا تھا کہ آئین کی بنیاد جمہوریت ہے، آئین کے آرٹیکل 17 کے آگے کسی دوسرے آئینی آرٹیکل کی رکاوٹ نہیں لگائی جاسکتی۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ آپ کا مطلب ہے عدالت صرف آرٹیکل 17 کو مدنظر رکھے جس پر رانا وقار نے کہا کہ آرٹیکل 17 کا سب سیکشن سیاسی جماعت بنانے کی اجازت دیتا ہے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 17 کےسب آرٹیکل 2 پر کسی قسم کی کوئی قدغن نہیں ہے۔شیخ رشید احمد کے وکیل فروغ نسیم نے اپنے جواب الجواب دلائل میں کہا کہ آئین میں لکھا ہے کہ تمام بنیادی حقوق اخلاقیات کے خلاف نہیں ہونے چاہیں، ایسا شخص جو آرٹیکل 62 اور 63 پر پورا نہیں اترتا تو یہ معاملہ عوامی اقتدار کا معاملہ ہے۔فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ اپنے بنیادی حقوق کے لیے غلط کام کرنا بھی جائز نہیں، کوئی ایسا شخص جس کے خلاف بدعنوانی، ڈرگ مافیا یا چوری کا ڈکلئیریشن ہو وہ کیسے پارٹی سربراہ بن سکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پارٹی سربراہ کوئی ربڑ اسٹمپ یا پوسٹ آفس نہیں بلکہ وہ ہدایات دینے کا اختیار رکھتا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ میں صرف اس کیس کے لیے خصوصی طور پر بات نہیں کر رہا، تمام چیزیں پارٹی سربراہ کے گرد گھومتی ہیں، لوگ پارٹی سربراہ کے کہنے پر چلتے ہیں اورپارٹی سربراہ پر لوگ جان دینے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارا نظام امریکا سے مکمل طور پر مختلف ہے۔وکیل بابر اعوان نے کہا کہ ہمارا سیاسی نظام کئی سیاسی جماعتوں پر مشتمل ہے، سینیٹ ٹکٹ کے اس شخص نے جاری کیے جو نااہل ہیں۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کسی پارلیمینٹیرین کوچور اچکا نہیں کہا بلکہ مفروضے پرمبنی سوالات کررہے تھے، الحمداللہ اور ماشااللہ کے لفظ اپنی لیڈر شپ کے لیے استعمال کیے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے کہا تھا کہ ہماری لیڈر شپ اچھی ہے، ہم اپنے لیڈرزکے لیے چور کا لفظ کیوں استعمال کرسکتے ہیں، ہم تو قانونی سوالات پوچھ رہے تھے لیکن کسی وضاحت کی ضرورت نہیں اور وضاحت دینے کا پابند نہیں ہوں۔چیف جسٹس نے کہا کہ ان سوالات پر جو ردعمل آیا وہ قابل قبول نہیں۔پیپلز پارٹی کے وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ بنیادی حقوق کے تحفظ کا اختیار عدالت کوعوام نے دیا، نواز شریف کی نااہلی کا فیصلہ عدالت کا نہیں بلکہ عوام کا تھا۔جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ سیاسی جماعت بنانے کا مقصد حکومت بنانا ہوتا ہے۔اس موقع پر چیف جسٹس نے لطیف کھوسہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ لاہور میں جلسہ کریں گے تو کتنے لوگ آئیں گے اور آپ کی سیاسی جماعت کا لیڈر جلسہ کرے تو لوگ زیادہ آئیں گے۔جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ سیاسی جماعتوں میں ون مین شو ہوتا جبکہ چیف جسٹس نے کہا کہ عام لیڈر اور پارٹی سربراہ کے جلسے میں فرق ہوتا ہے، جس کے بعد بنچ نے سماعت مکمل کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔ دریں اثناء سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق اس فیصلے کی روشنی میں دیکھنا ہوگا کہ نااہل نواز شریف کے نامزد کردہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی بھی اپنے عہدے پر برقرا ررہ سکیں گے یا نہیں؟

Scroll To Top