لکشمی دیوی کا پجاری یا میاں صاحب کا پرستار ؟

حفیظ اللہ خان نیازی کو میں زیادہ نہیں جانتا۔۔۔ ان کے ساتھ میرا پہلا آمنا سامنا پی ٹی آئی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے ایک اجلاس میں ہوا تھا۔۔۔ ان کی نشست میر ی نشست کے عین سامنے تھی۔۔۔ اِس سے پہلے وہ مجھے پی اٹی آئی کے کسی اجلاس میں نظر نہیں آئے تھے۔۔۔

بعد میں مجھے پتہ چلا کہ عمران خان نے اپنے اس نہایت قریبی رشتہ دار کی خدمات اپنے ” میڈیا ونگ “ کو مضبوط تر بنانے کے لئے حاصل کی تھیں۔۔۔ اُن ہی دنوں عمران خان کے دوسرے کزن انعام اللہ خان نیازی بھی (ن)لیگ سے اپنا تعلق توڑ کر پی ٹی آئی میںآگئے۔۔۔
مجھے اپنی ایک ایسی ملاقات یاد ہے جو عمران خان کے لاہور والے گھر میں اِن دو بھائیوں کے ساتھ ہوئی تھی۔۔۔ ایجنڈا یہی تھا کہ پی ٹی آئی کے میڈیا ونگ کو مضبوط تر کیسے بنایا جائے۔۔۔ ظاہر ہے کہ میری یہ ملاقات عمران خان کے ایماءپر ہوئی تھی۔۔۔
کہنا میں یہ چاہ رہا ہوں کہ عمران خان کے دشمنوں کے بس کی بات نہیں کہ ان کا کچھ بگاڑ سکیں۔۔۔ عمرا ن خان کو ہمیشہ ان کے ” ساتھی“ ڈستے رہے ہیں۔۔۔ میں یہاں اکبر ایس بابر کی مثال بھی دوں گا۔۔۔ عائشہ گلالئی کا ذکر اس لئے نہیں کروں گا کہ وہ محض ایک عام کارکن تھیں۔۔۔
حفیظ اللہ خان نیازی کو گزشتہ شب میں نے ایک ٹی وی ٹاک شو میں عدلیہ کے خلاف نون لیگ کی گولہ باری کا دفاع نہایت شرمناک انداز میں کرتے سنا۔۔۔
مجھے یوں لگا کہ اُن کے اندر سے مریم نوازشریف کی رو ح بول رہی ہے۔۔۔۔ مجھے یہ سوچ کر بڑا دکھ ہوا کہ عمران خان کا اتنا قریبی عزیزبھی میاں نوازشریف کے پریم میں مبتلا ہو کر لکشمی دیوی کے مندر کی یاترا کرنے پر مجبور ہے۔۔۔ کشش زیادہ میاں نوازشریف کی ذات میں ہے یا لکشمی دیوی میں۔۔۔ میں یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتا۔۔۔ ہوسکتا ہے کہ حفیظ اللہ خان نیازی سچ مچ میاں نوازشریف کو پاکستان کا رہبرِ اول محسنِ عظیم اور حقیقی نجات دہندہ سمجھتے ہوں۔۔۔ آدمی اپنے ہیروز کا انتخاب اپنی سوچ کے مطابق کرتا ہے۔۔۔
یہاں البتہ میں حفیظ اللہ خان نیازی کی ایک نہایت مضحکہ خیز دلیل کا جواب دینا چاہوں گا ۔۔۔نیازی صاحب نے فرمایا کہ عدلیہ کے بغض اور اس کی جانبداری کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس نے نہال ہاشمی کے خلاف اقدام ایک ایسی ویڈیو پر کیا جو کسی پریس کانفرنس یا ٹی وی ٹاک کا حصہ نہیں تھی بلکہ نجی طور پر ایک بندکمرے میں تیار کی گئی تھی ۔۔۔ اور اتفاق سے وہ ” وائرل“ ہوگئی۔۔۔
جناب نیازی صاحب ۔۔۔ اس قدر بھولے نہ بنیں۔۔۔ وہ ویڈیو کسی فلمی ریہرسل کا حصہ نہیں تھی۔۔۔ خاص طور پر اس مقصد کے لئے تیار کی گئی تھی کہ جے آئی ٹی ممبران کا ” خون خشک کیا جائے ۔۔۔“ وہ اتفاق سے وائرل نہیں ہوئی تھی۔۔۔ قصداً کی گئی تھی تاکہ جے آئی ٹی ممبران کو اپنا انجام یاد رکھنے کا پیغام پہنچ جائے۔۔۔
یہ جرم توہین عدالت سے بھی بڑا تھا۔۔۔ یہ ریاستِ پاکستان کے لئے کام کرنے والے ” اہلکاروں “ کو ” جہنم واصل “ کرنے کی دھمکی تھی۔۔۔

aj ni gal new logo

Scroll To Top