کیا آئین کو اس قدر شرمناک انداز میں توڑنے کے بعد شاہد خاقان عباسی وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز رہنے کے اہل رہے ہیں ؟

19فروری 2018ءکی شام کو پاکستان کی قومی اسمبلی ایک ایسی ” سوچ “ کے نعروں سے گونج اٹھی جس کی تعریف اگر نرم الفاظ میں کی جائے تو ” گمراہ کن “ اور اگر سخت انداز میں کی جائے تو ” تباہ کن “ ہے۔۔۔

یہ وہ ” سوچ “ ہے جسے لے کر اس ملک کی نام نہاد جمہوریت کے نام نہاد علمبردار اپنے مفادات کے قلعوں کا تحفظ کررہے ہیں اور ایک اسلامی فلاحی مملکت کے طور پر قائم ہونے والے اس ملک کو اپنی وسیع و عریض شکار گاہ بنائے رکھنا چاہتے ہیں۔۔۔
یہ سوچ جن الفاظ پر مشتمل ہے اُن کے پرُکشش ہونے میں کوئی شک نہیں۔۔۔
یہ الفاظ ہیں : پارلیمنٹ سپریم ہے۔۔۔
وقت آگیا ہے کہ اس گمراہ کن تصور کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دفن کردیا جائے۔۔۔ پاکستان میں پارلمینٹ سپریم نہیں۔۔۔ پاکستان میں اللہ تعالیٰ سپریم ہے۔۔۔ پاکستان میں وہ قوانین سپریم ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام میں امت محمدی ﷺ کی رہنمائی کے لئے واضح کردیئے ہیں۔۔۔ پاکستان میں عوام کی اکثریت ان قوانین کو تبدیل نہیں کرسکتی ۔۔۔
اگر ہمارے کٹھ پتلی وزیراعظم اوراپوزیشن لیڈر کے ذہن میں اس معاملے پر کوئی ابہام ہے تو وہ اپنے آئین کا دیباچہ پڑھ لیں۔۔۔ ہمارے آئین کے دیباچے کی ہماری قومی زندگی میں وہی حیثیت ہے جو نماز میں سورہ فاتحہ کی ہے۔۔۔
جس طرح قرآن کا آغاز سورہ فاتحہ سے ہوتا ہے اسی طرح ہمارے آئین کا آغاز بھی ان الفاظ کے ساتھ ہوتا ہے۔۔۔
” حاکمِ اعلیٰ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے قوانین کے مطابق معاملاتِ مملکت کو چلانا پاکستان کے عوام کا ایک مقدّس فرض ہے۔۔۔“
ان الفاظ کے فوراً ہی بعد یہ الفاظ آتے ہیں۔۔۔
” پاکستان میں مسلمان اپنی ذاتی اور اجتماعی زندگی میں اُن اصولوں اور تقاضوں کو مقدم رکھیں گے جو قرآن پاک اور سنت رسول ﷺ میں طے کردیئے گئے ہیں ۔۔۔“ ہمارے کٹھ پتلی وزیراعظم نے اپنے آقا کے احکامات کی تعمیل کرتے ہوئے 19فروری 2018 ءکو پاکستان کی عدلیہ کو جن شرمناک الزامات کا نشانہ بنایا اور ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے ججوں پر جو رکیک حملے کئے ان کی بنیاد بھی موصوف نے ” پارلیمنٹ سپریم ہے “ کے گمراہ کن تصور پر رکھی۔۔۔
کیا ایسی پارلیمنٹ سپریم ہوسکتی ہے جو ایک ایسا قانون بنائے جو ایک قانون شکن ` غیر صادق اور غیر امین شخص کو سربراہی کا حق دے ؟ ہماری سپریم کورٹ اسی سوال کا جواب تلاش کررہی ہے۔۔۔
چیف جسٹس نے کسی بھی شخص کو چور یا ڈاکو قرار نہیں دیا۔۔۔ چیف جسٹس نے تو دورانِ بحث ایک عمومی سوال پوچھا ہے کہ کیا ایک چور یا ایک ڈاکو اسلامی جمہوریہ پاکستان میں کسی سیاسی جماعت کا سربراہ بن سکتا ہے؟
یہ ایک اصولی سوال ہے جس پر نون لیگ کی اعلیٰ قیادت کا شدید ردعمل صرف اور صرف اس لئے سامنے آیا ہے کہ ” چور کی داڑھی میں تنکا“ کے مشہور محاورے کے پیچھے صدیوں کی دانش پنہاں ہے۔۔۔
اگر جناب شاہد خاقان عباسی سمجھتے ہیں کہ چور اور ڈاکو کو عوام کی نمائندگی اور قیادت کا حق حاصل ہونا چاہئے تو یہ اُن کا ذاتی معاملہ ہے۔۔۔ انہوں نے اپنی اِس سوچ کے لئے پارلیمنٹ کے ایوان کا انتخاب کیوں کیا ؟
انہوں نے ججوں کو شدید ” لعن طعن“ کا نشانہ بنا کر آئین کی شق 68کی دھجیاں کیوں اڑائیں ۔۔۔ آئین کی شق 68کہتی ہے کہ ججوں کا کردار یا رویہ کبھی پارلیمنٹ میں زیر بحث نہیں آئے گا۔۔۔
کیا آئین کو اس قدر شرمناک انداز میں توڑنے کے بعد شاہد خاقان عباسی وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز رہنے کے اہل رہے ہیں ؟

aj ni gal new logo

Scroll To Top