”پارلیمنٹ نہیںآئین سپریم ہے “

zaheer-babar-logoچیف جسٹس آف پاکستان نے کہا ہے کہ بار بار کہہ چکا ہوں کہ پارلمینٹ سپریم ادارہ ہے لیکن پارلمینٹ کے اوپر بھی ایک چیز ہے اور وہ آئین ہے۔ بعض سیاسی جماعتوں کی جانب سے ردعمل کا جواب دیتے ہوئے جناب ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ ہم ریمارکس نہیں دیتے بلکہ سوال پوچھتے ہیں اور کیا سوال پوچھنا پارلیمنٹرینز کی تضحیک ہے۔“
دوسری جانب گذشتہ روز وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے پارلمینٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عدالتوں میں ممبران اسمبلی کو مافیا ، چور اور ڈاکو کہا جاتا ہے، سرکاری افسران کو بے عزت کیا جاتا ہے ،یہ باتیں کب تک چلیں گی ،کیا ایوان کو قانون سازی کا حق ہے ؟ادارے حدود میں رہیں ورنہ ملک کا نقصان ہوگا۔“
اسے ملک وقوم کی بدقسمتی سے ہی تعبیر کیا جانا چاہے کہ حکمران جماعت طے شدہ حکمت عملی کے تحت آئینی اداروں کی کردار کشی کی مرتکب ہورہی۔ میاں نوازشریف کی نااہلی کے بعد مسلم لیگ ن کے سخت گیر موقف کے حامل لوگ عدالت عظمی کو مختلف حیلے بہانوں سے نشانے بنانے میں مصروف عمل ہیں، اس میںدوآراءنہیں کہ سپریم کورٹ کے خلاف بیانیہ تشکیل دینے میں میاں نوازشریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز پیش پیش ہیں۔سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ باپ بیٹی کی خواہش اور کوشش یہی ہے کہ کسی نہ کسی طرح عدالتوں کو دباو میں لاکر اپنے حق میں فیصلے کروائے جائیں۔ بظاہر سابق وزیر اعظم یہ تسلیم کرنے کو تیار ہی نہیں کہ غیر قانونی طور پر مبینہ طور پر کروڈوں ہیں اربوں روپے لے جانا کسی طور پر جرم نہیں۔
پانامہ لیکس میں میاں نوازشریف اور ان کے بچوں کے کھاتے میں جو جو کروڈوں ڈالر پائے گے اس کے جواب میں میاں نوازشریف اور ان کے بچوںکے پاس سوائے قطری خط کے کوئی ثبوت پیش نہ کر سکے۔
اب صورت حال ہی ہے کہ میاں نوازشریف عدالتوں پر مختلف محاذوں پر لڑائی لڑ کر خود کو بے گناہ کہلاانے کے درپے ہیں۔ سابق وزیر اعظم اب تک ایک سے زائد بار کہہ چکے کہ ان کو عہدے سے محروم کرنا کسی جرم کی وجہ سے نہیں بلکہ جمہوریت پسندی کی سزا کے طور پر ہٹایا گیا۔ سابق وزیر اعظم دانستہ طور پر اس حقیقت کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ کئی دہائیوں سے قومی سیاست میں متحرک ہونے کے باعث میاں نوازشریف اور ان کی فیملی نے ملک کے اندار اور باہر بہت سار ا مال بنایا۔ سب جانتے ہیں کہ لندن سمیت دنیا کے کسی بھی ملک نے میاں نوازشریف اور ان کے اہل خانہ اپنی جائیدادیں تسلیم نہیں کیا۔ بدقسمتی کے ساتھ ملک میں سیاست اور جرم کے درمیان امتیاز کرنا مشکل ہوچکا۔ سیاسی جماعتیں یہ ”کارنامہ “ سرانجام دینے کو تیار نہیں نظر آتیںکہ وہ اپنے مالی معاملات صاف وشفاف رکھیں۔ وطن عزیز کوئی بھی باخبر شخص اس سے انکار نہیںکرسکتا کہ قومی سیاست کے نمایاں نام بلاواسطہ یا بلاواسطہ طور پر کاروبار کررہے ہیں۔ اقتدار کے کھیل میں رہنے کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ وہ اپنے برنس کی ترقی چاہتے ہیں۔ مخالفین کے بعقول میاں نوازشریف کاروباری طبقہ کو لیڈ کرتے نظر آتے ہیں۔سابق وزیر اعظم کے مخالفین کا کہنا ہے کہ میاں نوازشریف نے سیاست کو کاروبار بنا یا، افسوس کہ حرام اور حلال کے امتیاز سے قطع نظر آج سرکردہ سیاسی شخصیت حصول زر کے کھیل میں ملوث ہیں۔
حکمران جماعت کا سپریم کورٹ کے خلاف مورچہ زن ہونے کہ اہم وجہ ہی ہے کہ عدالت عظمی نے حالیہ مہینوں میں اپنے فیصلوں کے زریعہ واضح طور پر بتا دیا کہ اب بدعنوانی کو مذید برداشت نہیں کیا جائیگا۔ پانامہ لیکس میں پانچ ججوں کی جانب سے میاں نوازشریف کو وزات عظمی کے لیے نااہل قراردینے کی وجہ یہی ہے کہ ملک میںاعلی ترین منصب کا احتساب کیا جائے۔ عدالت عظمی کی جانب سے مافیا کا لفظ بلاوجہ استمال نہیں کیا گیا ، ہم باخوبی جانتے ہیں کہ سیاسی ومذہبی جماعتوں کی قابل زکر تعداد بدعنوان عناصر کو اپنی صفوں میںجگہ دینے سے کسی طور پر احتراز نہیں کرتی بلکہ ڈھونڈ ڈھونڈکر ان لوگوں کو پارٹیوں میں شامل کیا جاتا ہے جن کے مالی معاملات بے شک مشکوک ٹھریں مگر وہ ارب پتی ہوں۔
پاکستان یقینا بدل رہا ہے۔
تیزی سے باشعور ہوتی مڈل کلاس اب یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیںکہ ان کو تو بنیادی ضروریات زندگی میسر نہ ہوں مگر اشرافیہ ان کے ٹیکس کے پیسوں سے ملک کے اندار اور باہر وسیع عریض قیمتی جائیدادوں کی مالک قرار پائے۔ سمجھ لینا چاہے کہ بدعنوان عناصر فوری طور پر شکست نہیں کھانے والے، اس ضمن میں طویل لڑائی لڑنا ہوگی جو عدالت عظمی ، میڈیا اور سب سے بڑھ کر عوام کے تعاون سے ہی جیتی جاسکتی ہے۔
یہ امر یقینا تشویشناک ہے کہ مسلم لیگ ن پارلیمنٹ کے زریعہ ایسی قانون سازی کے لیے سوچ وبچار کررہی جس کے نتیجے میںعدالتوں کو قابو کیا جاسکے۔ مقام شکر ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی شکل میں ایسی سیاسی قوت موجود ہے جو کسی طور پر یہ منفی منصوبہ کامیاب نہیںہونے دیگی ۔ بادی النظر میں یہ کہنا بھی غلط نہیںکہ خود سپریم کورٹ بھی اپنی آزادی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریگی ۔ جان لینا چاہے کہ کسی بھی ادارے کو آزادی آسانی سے نہیںملا کرتی یہی سبب ہے کہ جب جب اسے یہ نعمت میسر آجائے تو پھر وہ کسی قیمت پر اس سے دستبردار نہیں ہوا۔ پاکستان میں دراصل آئین وقانون کی بالادستی کی جنگ جاری ہے جس کے اپنی منزل تک پہنچنے تک جاری وساری رہنے کے امکانات روشن ہیں۔

Scroll To Top