شادی عمران خان کی پریشانی نون خاندان کی

عمران خان کی شادی پر پچھلے چند دن جس طرح شور مچایا گیا یوں لگ رہا تھا کہ شائد اس سے زیادہ ضروری اور اہم مسئلہ پاکستان میں اور کوئی ہے ہی نہیں۔اور ایک بات اور بھی سمجھ میں آئی کہ اس معاشرے میں اب نکاح ایک جرم ایک گناہ اور ایک گندہ اور گھٹیا فعل تصور کیا جانے لگ گیا ہے،جبکہ ناجائز تعلقات ایک عام اور فطری بات سمجھا جانے لگا ہے۔ شادی ہر ایک انسان کا ذاتی فعل اور حق ہے اور دوسروں کو اس میں تنقید کرنے کا کوئی حق نہیں۔
کون کب کس وقت کس عمر میں کس سے شادی کرے یا نہ کرے یہ اس کی مرضی۔
دوسرے لوگ کون ہوتے ہیں اس میں بولنے والے ۔
اور غلط کام کرنے سے تو بہتر ہے کہ انسان شادی کر لے۔ جو کہ معاشرتی اور شرعی ہر لحاظ سے بہتر ہے۔
اور اس شوروغوغا میں سب سے مضائقہ خیز بات یہ ہے کہ سب سے زیادہ تنقید اور مذاق ان نام نہاد لبرلز نے کیا ہے جو کہ ہر وقت برداشت اور لوگوں کو دوسروں کی بات سننے کا درس دیتے رہتے ہیں۔
ان کے دوہرے معیار کا عالم یہ ہے کہ یہ لوگوں کو تو تنقید برداشت کرنے کا پاٹ پڑھاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہر وہ شخص جو ان سے اختلاف رکھتا ہے وہ یا تو مذہبی انتہا پسند ہے، کوئی مولانا یا مولوی ہے اور تنگ نظر ہے یا پھر وہ عمران خان کا سپورٹر اوراس میں حوصلہ نہیں اور بس وہ صرف گالم گلوچ ہی کر سکتا ہے۔
مگر خود ان میں تنقید برداشت کرنے کا حوصلہ اورظرف نہیں۔ اور جوں ہی کوئی ان کی بات سے اختلاف کرتا ہے یہ اسی انداز اور شدومد کے ساتھ اس کا مذاق اڑاتے ہیں جس کا گلہ یہ اور لوگوں سے کرتے ہیں اور کبھی کبھار توشائد اس سے بھی زیادہ گھٹیا زبان اور گالم گلوچ کرتے ہیں جس کا شکوہ یہ دوسروں سے کرتے ہیں جو بقول ان کے قدامت پسند اور تنگ نظر ہیں ۔

isma-tarar-logo

Scroll To Top