پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی وزیراعظم سے بھی بالا تر ہے، سید خورشید شاہ

  • شاہد خاقان عباسی پی اے سی کو سبوتاژ کرنے پر تلے ہوئے ہیں، وزیراعظم ہاو¿س نے اجلاس شروع ہونے سے محض آدھا گھنٹہ پہلے سیکرٹری خزانہ کو کیوں طلب کیا ؟
  • معاملے پر وزیراعظم کو خط لکھوں گا، یہ پارلیمانی روایات کے خلاف ورزی ہے، وزیراعظم کو پارلیمانی کمیٹی کے اہمیت کو سمجھنا ہوگا

خورشید شاہ

اسلام آباد(این این آئی)قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی پبلک اکاو¿نٹس کمیٹی کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں حالانکہ پی اے سی وزیراعظم سے بھی بالا تر ہے۔پارلیمنٹ ہاو¿س اسلام آباد میں پبلک اکاو¿نٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین خورشید شاہ کی سربراہی میں ہوا، انہوں نے سیکرٹری خزانہ کی غیر حاضری پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم ہاو¿س نے اجلاس شروع ہونے سے محض آدھے گھنٹے پہلے سیکرٹری خزانہ کو کیوں طلب کیا ؟ کیا وزیراعظم پی اے سی کو غیر فعال کرنا چاہتے ہیں؟ اور خود کو پبلک اکاو¿نٹس کمیٹی سے بالا تر سمجھتے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو انہیں اپنی غلط فہمی دور کرلینی چاہیے۔سید خورشید شاہ نے کہا کہ وزیراعظم ہاو¿س کی جانب سے سیکرٹری خزانہ کو اجلاس سے قبل واپس بلوانے کے معاملے پر وزیراعظم سے باز پرس کے لیے خط لکھوں گا، یہ پارلیمانی روایات کے خلاف ورزی ہے، وزیراعظم کو پارلیمانی کمیٹی کے اہمیت کو سمجھنا ہوگا اور قواعد وضوابط کی پابندی کرنی ہوگی۔چیئرمین پی اے سی کی برہمی پر حکومتی رکن شیخ روحیل اصغر نے وزیراعظم کا دفاع کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ آج کے اجلاس سے متعلق وزیراعظم کو کوئی خواب تو نہیں آیا تھا جو جانتے بوجھتے وزیراعظم نے سیکرٹری خزانہ کو طلب کرلیا ہو البتہ یہ ضرور ہے کہ سیکرٹری خزانہ کو پبلک اکاو¿نٹس کمیٹی میں اپنی مصروفیت سے متعلق وزیراعظم ہاو¿س کو مطلع کرنا چاہیے تھا تو عین ممکن ہے انہیں طلب نہیں کیا جاتا۔

Scroll To Top