درجہ حرارت میں تبدیلی سے بجلی بنانے والا آلہ تیار

gاس عمل کو پائرو الیکٹرک ایفیکٹ کہا جاتا ہے جس سے دن اور رات گرمی کے اتار چڑھاؤ سے بجلی بنانا ممکن ہے۔ فوٹو: بشکریہ ایم آئی ٹی

بوسٹن: امریکی ماہرین نے درجہ حرارت کی تبدیلی سے بجلی تیار کرنے کا حیرت انگیز آلہ بنالیا ہے۔

میساچیوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کے ماہرین نے ایک نیا آلہ بنایا ہے جسے تھرمل ریزونیٹر کا نام دیا گیا ہے۔ یہ آلہ ہوا میں درجہ حرارت کی تبدیلی سے بجلی تیار کرتا ہے۔ قبل ازیں ماہرین درجہ حرارت میں اتار چڑھاؤ سے بجلی بنانے کے کئی نظاموں پر کام کرتے رہتے ہیں۔

ان کی اکثریت تھرمو الیکٹرک (حرکی برقی) کے اصول پر کام کرتی ہے یعنی دھات کے دو کناروں پر حرارت کے فرق سے وہ بجلی تیار کرتے ہیں۔ جیسے ہی حرارت گرم سطح سے ٹھنڈے کنارے جاتی ہے تو چارج کے فرق سے وہاں ہونے والے وولٹیج کے فرق سے بجلی بننا شروع ہوجاتی ہے۔

قبل ازیں کپڑوں، رنگ و روغن اور کھانا پکانے والے برتنوں میں تھرمو الیکٹرک اثرات دیکھے گئے ہیں۔ ان کے استعمال سے کارخانوں اور پاور پلانٹ سے فالتو حرارت سے بجلی بنائی جاسکتی ہے لیکن ان ایجادات میں درجہ حرارت میں بہت زیادہ فرق درکار ہوتا ہے ورنہ خاطر خواہ بجلی نہیں بنتی۔

ایم آئی ٹی کے ماہرین نے ایک بہت مختلف نظام بنایا ہے جس میں زیادہ دیر تک درجہ حرارت میں معمولی تبدیلی سے بھی بجلی تیار کی جاسکتی ہے۔ اس عمل کو پائرو الیکٹرک ایفیکٹ کہا جاتا ہے جس سے دن اور رات گرمی کے اتار چڑھاؤ سے بجلی بنانا ممکن ہے۔

ایجاد کے ایک موجد مائیکل اسٹرینو نے کہا کہ ہم نے ایک مکمل نظام پر کام کیا ہے، پہلا تھرمل ریزونیٹر ایک میز پر رکھے رکھے بجلی بناتا ہے کیونکہ ہم ہر وقت درجہ حرارت میں تبدیلی کے عمل سے گزر رہے ہوتے ہیں۔ اب تک توانائی کے اس ذریعے کو استعمال نہیں کیا گیا تھا۔

تھرمل ریزونیٹر میں اصل شے ایک فوم ہے جسے تانبے اور جست سے بنایا گیا ہے اور اس میں ایک طرح کی فیز بدلنے والی گوند لگائی گئی ہے جسے ’اوکٹا ڈیکین‘ کا نام دیا گیا ہے۔

یہ گوند درجہ حرارت بدلنے پر کبھی ٹھوس اور کبھی مائع ہوجاتی ہے۔ اس فوم والے مکسچر پر گرافین کی ایک تہہ بچھائی گئی ہے جو اسے بہترین کنڈکٹر بناتی ہے۔ اس کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ ایک جانب تو یہ ماحول سے گرمی جذب کرتا ہے تو دوسری جانب اسے ماحول میں دوبارہ خارج بھی کرتا ہے۔

حرارت ایک جانب سے اندر جاتی ہے اور دوسری جانب سے خارج ہوتی ہے۔  چونکہ ایک سرا دوسرے کے مقابلے میں سرد ہوتا ہے یوں حرارت بار بار آگے پیچھے حرکت کرتی ہے اور مستقل طور پر بجلی بنتی رہتی ہے۔

اس کا ایک نمونہ بنا کر اسے 16 دن تک آزمایا گیا۔ ہر روز درجہ حرارت میں 10 دن کا فرق دیکھا گیا جس سے 350 ملی وولٹ اور 1.3 ملی واٹ بجلی پیدا ہوئی جو اس سائز کے کسی بھی نظام کے مقابلے میں بہت بہتر کارکردگی ہے۔

اگرچہ بجلی کی یہ انتہائی کم مقدار ہے لیکن اس سے چھوٹے سینسر چلائے جاسکتے ہیں اور ہوا یا سورج کی توانائی کی فکر کے بغیر وہ درجہ حرارت کی تبدیلی سے کام کرتے رہیں گے۔

تاہم ماہرین نے کہا ہے کہ مزید تحقیق سے اس عمل کو مزید بہتر بنایا جاسکتا ہے جس سے چھوٹے آلات توانائی کے معاملے میں خود مختار بنائے جاسکیں گے۔

Scroll To Top