”آپ ہی عمران خان کو سمجھائیں کہ میں کیا کہہ رہا ہوں ۔۔۔ عورت سے یہاں میری مراد صرف اور صرف شریکِ حیات ہے۔۔۔“ ڈاکٹر خان

جن دو ملاقاتوں کے حوالے سے میں اپنی آج کی بات لکھ رہا ہوں وہ 2011ءمیں چند ہفتوں کے وقفے سے ہوئی تھیں۔۔۔ یہ ملاقاتیں ڈاکٹر اے کیو خان اور پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کے درمیان ہوئیں اور ان ملاقاتوں کا اہتمام میں نے اِس مقصد کے لئے کیا تھا کہ وطنِ عزیز کو جن مشکل حالات کا سامنا ہے ان میں اس کی اِن دو بڑی شخصیات کے درمیان رابطہ ضروری ہے۔۔۔
میں جانتا ہوں کہ ڈاکٹر اے کیو خان کو ایک متنازعہ شخصیت بنا دیا گیا ہے لیکن تاریخ میں ان کا جو مقام متعین ہوچکا ہے اسے کوئی ناقدیا بد خواہ تبدیل نہیں کرسکتا۔۔۔ اگرچہ پاکستان کا ایٹم بم ایک ایسی حسین و جمیل بیوی کا درجہ رکھتا ہے جس کا شو ہر ہونے کے دعویدار میاں نوازشریف بھی ہیں جنہوں نے مئی 1998ءمیں پوری کوشش کی تھی کہ پاکستان ایٹمی دھماکے نہ کرے۔۔۔ مگر تاریخ میں جب بھی پاکستان کے ایٹم بم کے خالق کاذکر ہوگا تو فوراً ڈاکٹر اے کیو خان کا نام ہی ذہن میں آئے گا۔۔۔ اِس میں کوئی شک نہیں کہ فیصلہ ذوالفقار علی بھٹو کا تھا۔۔۔ اس فیصلے کو صدقِ دل کے ساتھ غلام اسحاق خان اور جنرل ضیاءالحق نے اپنایا اور اسے ایک خواب سے حقیقت بنانے میں آئی ایس آئی نے سردھڑ کی بازی لگادی۔۔۔ لیکن ڈاکٹر ے کیو خان نہ ہوتے تو پاکستان کا ایٹمی قوت بننا ایک خواب ہی رہتا۔۔۔ جن لوگوں کو میری اس رائے سے اختلاف ہے وہ ایڈرین لیوی اورکیتھرین سکاٹ کلارک کی مشترکہ تصنیف Deception
(دھوکہ )پڑھیں جس میں کئی راز ہائے سربستہ سے پردہ اٹھایا گیا ہے۔۔۔
بات میں عمران خان اور ڈاکٹر خان کی دو ملاقاتوں کی کر رہا ہوں جو میری کوششوں سے میری موجودگی میں ہوئیں۔۔۔ اتنی بڑی شخصیات کے درمیان یقینا Egoکا مسئلہ ہوا کرتا ہے لیکن ملاقاتوں سے پہلے ہی میں نے عمران خان پر ایک حقیقت واضح کردی تھی۔۔۔ ” آپ کا مقام یقینا ایک بڑے قومی ہیرو کا ہے۔۔۔ تحریک انصاف بنا کر آپ نے قومی تاریخ کا دھارا موڑ دیا ہے۔۔ لیکن سو سال بعد جو تین نام زندہ ہوں گے ان میں دو تو یقینی طور پر علامہ اقبال ؒ اور قائداعظم ؒ کے نام ہوں گے ۔۔۔ پر تیسرا نام ڈاکٹر اے کیو خان کا ہوگا جن کے کارنامے نے پاکستان کو ناقابلِ تسخیر بنا دیاہے۔۔۔ اِس لئے اگر آپ کو ڈاکٹر خان کی کوئی بات نامناسب لگے تو برُا مت منایئے گا۔۔۔“
”میں بھی ڈاکٹر خان کو ایک عظیم قومی ہیرو سمجھتا ہوں اکبر صاحب ۔۔۔ “ عمران خان نے مسکرا کر کہا۔۔۔
بہرحال دونوں ملاقوتیں بڑی خوشگوار رہیں۔۔۔ دونوں کے درمیان اپنے اپنے ” پٹھان بیک گراﺅنڈ“ کے بارے میں معلومات کا تبادلہ ہوا۔۔۔ کچھ سیاسی گفتگو بھی ہوئی مگر ڈاکٹر خان کا دونوں مرتبہ زور ایک ہی بات پر تھا۔۔۔
” میں آپ سے بڑا ہوں اور اِس حیثیت سے میرا مشورہ آ پ کو یہ ہے کہ آپ نیا پاکستان ضرور بنائیں لیکن اس سے پہلے شادی کرکے اپنا گھر آباد کریں۔۔۔“
دونوں مرتبہ کپتان نے اِس موضوع سے بچنا چاہا۔۔۔ دوسری مرتبہ ڈاکٹر خان نے ذرا زیادہ زور دے کر کہا۔۔۔
” عورت کے بغیر گھر مکمل نہیں ہوتا عمران خان ۔۔۔ آپ کو بے شمار مسائل سے نجات حاصل ہوجائے گی۔۔۔“
کپتان نے جواب میں کہا۔۔۔ ” گھر میں میری بہنیں بھی ہیں۔۔۔“
اس بات پر ڈاکٹر خان نے میری طرف دیکھا اور کہا ۔۔۔ ” آپ ہی اسے سمجھائیں کہ میں کیا کہہ رہا ہوں۔۔۔ عورت سے یہاں میری مراد صرف اور صرف شریکِ حیات ہے۔۔۔“
آج مجھے یہ ملاقاتیں اور یہ باتیں اِس لئے یاد آرہی ہیں کہ بالآخر عمران خان نے اپنا گھر مکمل کرلیا ہے۔۔۔
آپ کے ذہن میں یہاں ریحام خان کا معاملہ آئے گا تو میں صرف یہ کہوں گا کہ زندگی میں ڈراﺅنے خواب بھی دیکھے جاتے ہیں۔۔۔
میری دعا ہے کہ عمران خان کی یہ شادی ان کی زندگی کا ایک مبارک موڑ ثابت ہو۔۔۔

aj ni gal new logo

Scroll To Top