پانامہ لیکس ٹیسٹ کیس بن چکا

پانامہ لیکس کا معاملہ اب سپریم کورٹ میں ہے۔ عدالت عظمی نے پہلی سماعت میں کے بعد وزیراعظم نوازشریف، وزیر خزانہ اسحاق ڈار،وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز، داماد کپٹن صفدر،بیٹوں حسن نواز،حسین نواز، ڈی جی ایف آئی اے، چیرمین ایف بی آر اور اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمہ کی سماعت دوہفتوں کے لیے ملتوی کردی گی تاہم تازہ پیش رفت میں سپریم کورٹ نے دھرنے سے ایک دن قبل یعنی یکم نومبر کو اس اہم مقدمہ کے لیے تاریخ مقرر کی ہے۔ مقدمہ کی سماعت چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ سماعت کریگا۔
ادھر وزیراعظم نوازشریف نے سپریم کورٹ میں پانامہ لیکس کے مقدمہ کی سماعت پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ آئین کی پاسدای ، قانون کی حکمرانی اور مکمل شفافیت پر کامل یقین رکھتے ہیں۔“
ملکی سیاست میں پانامہ لیکس پر پاکستان تحریک ہی وہ واحد سیاسی جماعت ہے جو پوری قوت سے سامنے آئی ۔گذشتہ روز سپریم کورٹ میں اس اہم مقدمہ کی سماعت کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ ان کا احتجاج عدالت میں اس اہم مقدمہ کی سماعت کے باوجود جاری رہیگا۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت کی جانب سے کیس کی سماعت احتساب کی جانب پہلاقدم ہے“
اہل پاکستان اس لحاظ سے یقینا بدقسمت واقعہ ہوئے کہ ملکی سیاسی رہمناوں کی شکل میں بعض ایسے افراد بھی قومی سیاسی افق پر چھائے ہوئے ہیں جن کے پر مالی بدعنوانیوں کے سنگین الزمات کئی دہائیوں سے چلے آتے ہیں۔ دوسری وطن عزیز میں ایسا تاحال نہیں ہوسکا کہ کسی بھی بدعنوانی کے الزام میں ملوث اہم شخصیت کے خلاف ٹھوس قانونی کاروائی کی گی ہو۔اس کا نتیجہ نکلا ہے کہ ارض وطن کا کوئی بھی باشعور شہری مسقبل قریب میں ایسی امید لگانے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہے کہ وہ طاقت ور حضرات قانون کے دائرے میں آئیں جو تاحال اس کی گرفت سے دور ہیں۔
یقینا زمہ دار حلقوں کو محض زبانی جمع خرچ کرنے کی بجائے عملا ایسے اقدمات اٹھانے ہونگے جو موجودہ نظام کو خواص کے ہاتھوں میں کھلونا بنے کے تاثر کو ختم کرڈالیں۔اگر مگر کے باوجود سچ یہی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کو قومی سیاست میں بجا طور پر اس کا کریڈٹ جاتا ہے کہ اس نے پانامہ لیکس کے معاملہ کو پوری طرح زندہ رکھا۔ وزیراعظم اور ان کے بچوں سے منسوب اکاونٹس میں اربوں روپے کیسے آگے اس کی وضاحت عمران خان ہی طلب کررہے ہیں۔ افسوس ان دانشوروں کی فہم وبصیرت پر جو احتساب کے مطالبہ پر رائج نظام کی بساط لپیٹنے کی دہائی دے رہے ۔بظاہر اس تاثر کو جھٹلایا نہیں جاسکتا کہ بدعنوانی اور کرپشن کے ماحول سے سیاسی ،مذہبی اور لسانی قوتوں کا مفاد وابستہ ہوچکا ۔روایتی بااثر حلقے باخوبی جانتے ہیں کہ جب تک بدعنوانی کا کھیل جاری وساری رہیگا اس وقت تک ان کے مفادات کی تکمیل بھی ہوتی رہیگی۔
دراصل ملک میں گورنس نہ ہونے کی کلیدی وجہ کرپشن ہے۔ بشیتر سرکاری محکموں میں افسران و اہکاروں کی قابل زکر تعداد جائز کاموں کے لیے بھی پیسے لینے کو کسی طور پر معیوب نہیں سمجھتی۔
چین کی اس مشہور کہاوت کو ایک بار پھر دہرانے میں حرج نہیں کہ مچھلی ہمیشہ سر سے گلنا شروع کرتی ہے آسان الفاظ میں مطلب یہ کہ اگر کسی ملک کا حکمران طبقہ ہی بدعنوانی میں پوری طرح ملوث ہوجائے تو ماتحت اداروں کو اس خرابی سے کسی طور پر دور نہیں رکھا جاسکتا۔ مملکت خداداد پاکستان کے رائج نظام میں حالات اس نہج کو پہنچ چکے کہ اب قائد حزب اختلاف برملاطور پر کہتے ہیں کہ وہ کسی طور پر سسٹم کے خلاف نہیں جانا چاہتے ۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان مفاہمت کا نتیجہ ہے کہ اپوزیشن کسی طور پر آئینی ، قانونی اور اخلاقی کردار ادا کرنے کو تیار نہیں۔ پی پی پی کے کرتا دھرتا مسلسل اس حقیقت کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ ”مفاہمتی سیاست “ایک طرف پی پی پی کو بطور سیاسی جماعت کے سنگین مسائل سے دوچار کرچکی تو دوسری جانب عوام کے بنیادی مسائل بری طر ح نظرانداز ہورہے۔ سیاست میں پختگی یا بالغ نظری کی اہمیت سے انکار نہیں مگر ایسی پالیسی بھی تباہ کن ہے کہ ایسے کاموں پر بھی خاموشی سے کام لیا جائے جو ملک وملت کے مفاد میںہرگز نہیں۔
پانامہ لیکس پر سپریم کورٹ کا آگے بڑھنا حوصلہ افزاءہے مگر پی پی پی سمیت بیشتر سیاسی جماعتیں حکومت کی جس طرح درپردہ حمایت کررہی وہ جمہوریت کی بقا وسلامتی کے خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں رہا کہ گذشتہ چھ ماہ سے حکمران جماعت پانامہ لیکس کے معاملے کو لٹکانے کی حکمت عملی پر کاربند ہے۔ ٹی او آرز کا معاملہ ہو یا ایسی قانون سازی جو مسقبل میںپاکستان سے رقم باہر لے جانے میں رکاوٹ بنے کسی طور پر ہوتی نظر نہیں آئی۔ بلاشبہ پانامہ لیکس کے ظاہر ہونے کی صورت میں ملکی اشرافیہ کو یقینا ایک موقعہ ملا جب وہ پاکستان سے غیر قانونی طور پر بیرون ملک رقم منقتل کرنے کے رججان کو مسقل طور پر روک دے۔ افسوس کہ اس سچائی سے صرف نظر کرنا ممکن نہیں رہا کہ سندھ ہی نہیں دیگر صوبوں میں بھی جرم اور سیاست کا امتزاج اس طرح پروان چڑھ چکا کہ دونوں کو ایک دوسرے سے الگ کرنا مشکل ہوچک۔ جمہوریت کے نام پر یہ کھیل رکنے کا نام نہیں لے رہا کہ عوا م کی بجائے مخصوص افراد اور خاندانوں کو ہی مضبوط کیا جائے ۔

Scroll To Top