نہ تو مکہ کے ووٹوں نے ابو جہل کا ساتھ دیا اور نہ ہی اس کے جھوٹے خداوں نے انگلی اٹھی تو کس کی اٹھی؟

میاں نواز شر یف فرما رہے ہیں کہ پاکستان کی تقدیر کا فیصلہ امپائر کی انگلی نہیں لوگوں کے انگوٹھے کریں گے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ فیصلہ کرنے والے ”انگوٹھوں“ پرمیاں نواز شریف کا کنٹرول بڑا پُرانا ہے۔ ایسے انگھوٹھے بھی انہیں وزیر اعظم بنانے کی دوڑ میں شام ہوتے رہے ہیں جنہیں بہت پہلے قبروں میں کیڑے کھا چکے ہوتے ہیں۔یہ امر واقعہ ہے کہ میاں نواز شریف کی وفاداری میںاپنا شمار کرانے والے انگوٹھوں کو ہرانا کسی معجزے سے کم نہیں ہوتا۔ جب گنتی کرنے والے اُن کے وفادار انگوٹھوں کا شمار شروع کرتے ہیں تو ایک انگھوٹھے پر کبھی دو کا اور کبھی تین کا گمان ہوتا ہے۔ اور کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ اگر اتفاق سے تحقیقات کی نوبت آجا ئے تو کاغذ کورے ملتے ہیں انگوٹھوں کے نشان غائب ہو چکے ہوتے ہیں۔
میاں نواز شریف چند ماہ قبل داستانِ پارینہ بن چکے تھے۔ انہیں دوبارہ ہماری اُس عدلیہ نے اِس قابل بنایا ہے کہ ”انگوٹھوں“ کی طاقت کا ذکر کریں جس عدلیہ کو وہ شب و روز تضحیک و تمسخر کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہ عدلیہ اگر انصاف کی ترسیل میں میاںصاحب کے بلند مرتبے اور اُن کے خاندان کی قدرومنزلت کو ملحوظِ خاطر نہ رکھتی اور انہیں بھی باقی عوام کے برابر سمجھ کر انصاف کے عمل کو آگے بڑھاتی تو چیف جسٹس صاحب کو یہ کہنے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی کہ ”ایک چورکو ایک پارٹی کا سربراہ کیسے بنایا جا سکتا ہے۔“؟
پاک فوج کی تذلیل اور پاک عدلیہ کی تضحیک ہوئی ہی صرف اِس لئے ہے کہ پاکستان کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے والے اِس خاندان کو ایسی غیر معمولی مراعات سے نوازا گیا ہے جیسی مراعات دنیا کے کسی بھی مہذب ملک میں اس نوعیت کے الزامات میں ملوث اشخاص کو نہیں دی جاتیں۔
مگر میاں صاحب جس امپائر کی انگلی سے ڈرتے ہیں وہ اٹھ چکی ہے۔ پہلے اُن کا اشارہ جنرل راحیل شریف کی طرف تھا۔ اور اب جنرل قمر جاوید باجوہ کی طرف ہے۔ مگروہ بھول گئے ہیں کہ اصل اور آخری امپائر وہ ذات ہے جس کی انگلی اسی روز اٹھ گئی تھی جس روز اُن کے صاحبزادے حسین نواز نے کہا تھا۔ ” الحمدوللہ سب کچھ ہمارا ہے۔۔۔“
اب آپ کا جانا ٹھہر چکا ہے۔ میاں صاحب
کس قدر عجیب اتفاق ہے میاں صاحب کہ آپ جتنا ہی طاقتور ایک اور وزیر اعظم عنقریب یہ سوال فضاو¿ں میں اچھالنے والا ہے کہ’ ’مجھے کیوں نکالا۔“؟
اسرائیل کے وزیر اعظم بنجا من نیتن یاہو کے خلاف کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات کی تحقیقات کے بعد وہاں کے پولیس چیف نے ان کے خلاف مقدمات قائم کرنے کی سفارش کر دی ہے۔ جو کام ہمارے ملک کے سب سے بڑے اور طاقتور ادارے کو کرنا پڑا وہ کام اسرائیل میں ایک عام پولیس افسر نے کر دکھایا ہے۔۔۔
کتنا بڑا فرق ہے ہماری جمہوریت اور وہاں کی جمہوریت میں۔۔؟
ایک اور فرق بھی ہے ۔۔ نیتن یاہو پر الزام تقریباًتین کروڑ روپے کے تحائف وصول کر کے مراعات دینے کا ہے۔۔
اور میاں صاحب کے تو خُدام نے اربوں کھربوں کمائے ہیں!
ویسے عجیب اتفاق یہ ہے کہ نیتن یاہو بھی اُسی بیانیے پر کام کرنے والے ہیں جو بیانیہ لے کر میاںصاحب اپنی صاحبزادی کے ہمراہ سڑکوں پر آئے ہیں۔
”کیا تم اپنے ووٹ کی حرمت پامال ہونے دوگے۔۔؟“
ابو جہل نے ووٹ کی حرمت کی بات نہیں کی تھی۔۔ اپنے خداو¿ں کی حرمت کی بات کی تھی۔۔۔
نہ ووٹوں نے ابو جہل کا ساتھ دیا اور نہ ہی اس کے خداو¿ں نے۔۔
انگلی اٹھی تو کسی کی اٹھی۔۔؟
عبداللہ بن عبدالمطلب کے جلیل القدر فرزند اور فخرِانسانیت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اُس ربّ کی جس کے علاوہ کوئی ربّ نہیں!

aj ni gal new logo

Scroll To Top