توبہ اور اصلاح کے دروازے بند نہیں ہوتے لیکن۔۔۔ 21-11-2009

قوم کے لئے سب سے بڑا لمحہ فکریہ یہ ہے کہ ہماری ” جمہوری“ حکومت اپنی ایسی کامیابیوں پر نازکرتی نظرآتی ہے جو بظاہر زمین پر نظر نہیںآرہیں۔ جتنے بحرانوں نے یک مشت آج کے پاکستان پر یلغار کر رکھی ہے اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئی۔ خوراک ` صحت ` تعلیم اور انرجی ۔ تمام شعبوں میں جو صورتحال دیکھنے میں آرہی ہے وہ اگر کسی کی نیندیں حرام کرنے کے لئے ناکافی ہے تو وہ ہماری حکومت ہے۔ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ موجودہ حکومت کو ان چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا ہے جو گزشتہ حکومت کی دور نااندیشن پالیسیوں اور غلط کاریوں کی وجہ سے پیدا ہوئے ` تو بھی اسے یہ ادراک ضرور رکھناچاہئے۔ ساتھ ہی یہ احساس بھی کہ ” سب اچھا نہیں ہے۔“
صرف جمہوریت کے لئے ماضی کی قربانیوں کو یاد کرتے رہنا (اور یاد کراتے رہنا)کا فی نہیں ہوگا۔ اگر وہ قربانیاں دی گئیں تو اس کے صلے میں قوم نے پارٹی کو اقتدار سونپا۔ ایسے لوگوں کو بھی اقتدار ملا جو ماضی میں پارٹی کے لئے اجنبی تھے۔
بات اب ” قربانیوں“ سے بہت آگے نکل گئی ہے۔ اب عوام یہ سوچ رہے ہیں کہ ان سے اتنی بھاری بھر کم حکومت کا بوجھ اٹھانے کی قربانی کیوں لی جارہی ہے۔ اگر کرپشن کے الزامات کو ایک بڑی ” سازش“ بھی سمجھ لیا جائے تو بھی عوام کے ادا کردہ ٹیکسوں سے ” حواریوں وفادارو ں اور قصیدہ گوﺅں“ کی فوج ظفر موج کو نوازنے کے شواہد آنکھیں بند کرکے بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔ میرے علم میں متعدد ایسے ” خوش نصیب“ ہیں جن کی ” مارکیٹ ویلیو“ کبھی بھی دس پندرہ ہزار روپوں سے زیادہ نہیں تھی۔ اب انہیں دو دو تین تین اور چار چارلاکھ کے وظیفے دیئے جارہے ہیں ان میں سے ایک میرے دفتر میں چار ہزار روپے ماہانہ پر ملازم تھا۔ اور یہ بہت زیادہ پرانی بات نہیں۔ اب اس کے لئے ماہانہ پچیس لاکھ کی آمدنی کا پکا بندوبست کردیا گیا ہے۔
اس بھاری بھر کم حکومت کو قائم رکھنے کے لئے عوام کتنے ارب روپے ٹیکسوں کی صورت میں ادا کررہے ہیں میں اس کی تفصیلات میں نہیں جانا چاہتا۔۔۔ لیکن اس قوم کی تقدیر پر ترس کھانے میں تو کوئی ہرج نہیں۔
یہ درست ہے کہ توبہ اور اصلاح کے دروازے کبھی بند نہیں ہوتے مگر اس کے لئے جرم کا احساس پیدا ہونا ضروری ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ پی پی پی ایک ایسے شخص کی امانت ہے جو قوم کو ناقابل تسخیر بنانے کے جنون میں پھانسی پر چڑھ گیا ۔ کاش کہ اس پارٹی کا حشر وہ نہ ہو جو لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد مسلم لیگ کا ہوا۔ یوں بھی یہ پی پی پی وہ نہیں جس کے بانی کو امریکہ نے تختہ دار تک پہنچایا تھا۔ یہ پی پی پی وہ ہے جو امریکہ کی گود میں بیٹھ کر خود کو محفوظ تصور کررہی ہے۔

Scroll To Top