وہ زمانہ گیا جب سپہ سالار اپنی بقاءکے لئے شاہی نظرٍ عنایت کے محتاج ہوا کرتے تھے ۔۔۔

دنیا میں ہر جگہ سے بادشاہت ختم ہورہی ہے۔ بادشاہتوں کی جگہ آمریتوں نے ضرور لی ہے مگر سعودی عرب اب غالباً آخری روایتی بادشاہت ہے اور لگتا یوں ہے کہ وہاں بھی آدابِ شہنشاہی تبدیل ہوجائیں گے۔
پاکستان کو یہ منفرد مقام حاصل ہے کہ یہاں بادشاہت نے قدم جمانے شروع کردیئے ہیں۔ رائے ونڈ میں باقی پاکستان سے الگ تھلگ اپنی شاہی اقامت گاہ تعمیر کرا کے شریف خاندان نے قائداعظم محمد علی جناح ؒ کے پاکستان کے خدوخال تبدیل کرنے کی طرف پہلا بڑا قدم اٹھایا ۔
اور اب تو ولی عہد بھی تیار ہوچکے ہیں۔ ایک شہزادی اور تین شہزادے اعلیٰ منصب پر رونق افروز ہونے کے لئے بے چین ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہ لیا جائے کہ ا ن کے کسی بھی فرمان کی بجا آوری میں کبھی کوئی تاخیر ہوتی ہے یاہوسکتی ہے ۔ لیکن سر پر جب تک تاج نہ سجا ہو ` دل و دماغ کو سکون کب ملتا ہے۔؟ لیکن تاج ایک ہے جو شہنشاہ نے اپنے سر پر سجا رکھا ہے۔ وہ اسے شہزادی کے سر پر سجانے کے لئے بے چین تو ہیں مگر شاہی گھرانوں میں ایک تاج کے متعدد دعویدار صدیوں سے رہے ہیں۔
بہرحال اگلے دو ماہ کے اندر فیصلہ ہوجائے گا کہ وطن ِعزیز میں شہنشاہی کی جڑیں کتنی مضبوط ہیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ ہر شہنشاہ کے پہلو میں ایک سپہ سالار بھی کھڑا ہوتا ہے اور شہنشاہ ہمیشہ چور نظروں سے اپنے اس سپہ سالار کی حرکات و سکنات کا جائزہ لے رہا ہوتا ہے۔
وہ زمانہ گیا جب سپہ سالار اپنی بقاءکے لئے شاہی نظرِ عنایت کے محتاج ہوا کرتے تھے۔۔۔

Scroll To Top