ہمارا جمہوری عمل کہیں پاکستان کو ایک بارپھر تاریک راہوں پر نہ ڈال دے ! 06-12-2012

kal-ki-baat

4دسمبر2012ءکو جو ضمنی انتخابات ہوئے ہیں ان کے نتائج کی یوں تو اس لئے کوئی اہمیت نہیں کہ جو ضمنی انتخابات عام انتخابات سے چند ہفتے قبل ہورہے ہوںوہ یا تو صرف خانہ پُری کے لئے ہوتے ہیں یا پھر حکمران جماعت کا ” گراف “ بلند دکھانے کے لئے ۔ لیکن میں پھر بھی یہ کہوں گا کہ پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ )ق(کے لئے 4دسمبر کادن ایک پیغام چھوڑ گیا ہے۔ تیل اور پانی کے ملاپ سے کوئی مرکب تیار نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ کیمیائی اصولوں کے مطابق تیل اور پانی مِکس نہیں ہوتے۔ اِن انتخابات سے ایک سبق یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ہم صرف اپنی کھیتی کا ہی پھل کاٹ سکتے ہیں۔ اگر ایک بیج بوئیںگے تو فصل دوسرے بیج کی نہیں اُگے گی۔میں نے اوپر ” حکمران جماعت “ کی ترکیب استعمال کی ہے۔ سندھ میں حکمران جماعت پی پی پی ہے چنانچہ وہاں کے واحد انتخاب میں پی پی پی کا ہی امیدوار جیتاہے۔ پنجاب میں حکومت مسلم لیگ )ن(کی ہے اس لئے میدان بھی اسی نے مارا ہے۔ جو حکمران جماعت ضمنی انتخاب جیتنے کی بھی اہلیت نہ رکھتی ہو اسے ویسے بھی سیاست چھوڑ دینی چاہئے۔ )ن(لیگ بجا طور پر جشنِ فتح منا رہی ہے لیکن وہ نشست جس میں ” ق لیگ“ کا امیدوار کامیاب ہوا ہے اسے )ن(لیگ کو اپنے لئے لمحہءفکریہ سمجھنا چاہئے۔” ق لیگ “ والوں کے پاس یہ سمجھنے کا وافر جواز موجود ہے کہ ان کی ایک نشست ” ن لیگ “ کی تمام نشستوں پر بھاری ہے۔
جس نشست پر سابق پی پی پی اور حالیہ ” ن لیگ “ کے امیدوار چوہدری زاہد اقبال نے آزاد امیدوار رائے حسن نواز کو سخت مقابلے کے بعد ہرایا ہے اسے بھی ایک پیغام ہی سمجھا جاناچاہئے۔66ہزار کے لگ بھگ جوووٹ رائے حسن نواز کو ملے وہ دراصل تحریک انصاف کو ملے۔ تحریک انصاف نے اگرچہ ضمنی انتخابات کا بائیکاٹ کررکھا ہے مگر رائے حسن نواز نے اپنی وفاداریاں تحریک انصاف کے ساتھ ظاہر کیں۔ مطلب اس بات کا یہ لیا جانا چاہئے کہ تحریک انصاف کاووٹ بنک اپنا شمار انتخابی عمل میں کرانے کا آغاز کرچکاہے۔ ابتداءبہت حوصلہ افزا ہوئی ہے ¾ اور اس سے تاثر یہ ملتاہے کہ پنجاب میں اصل مقابلہ ” ن لیگ “ اور ” تحریک انصاف “ کے درمیان ہی ہوگا۔
” کچھ بھی ہوسکتاہے “ کی فضا میں میرے لئے یہ خیال سوہان روح ہے کہ ہمارا ” جمہوری عمل “ ایک بار پھر پاکستان کوکہیں تاریک راہوں پر نہ ڈال !

Scroll To Top