جنرل قمر جاوید باجوہ کا بھرپور عزم

zaheer-babar-logo

ایک بار چیف آف آرمی سٹاف نے ایک بار پھر افغانستان میںقیام امن کے لیے اپنے بھرپور عزم کا اظہار کیا ۔ کابل میں چیفس آف ڈیفنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جنر ل قمر جاوید باجوہ نے غیر مبہم الفاظ میں کہا کہ امن کا راستہ افغانستان سے گزرتا ہے، اپنی سرزمین کسی کے خلاف استمال نہیں ہونے دینگے۔پاکستان امن کے لیے بھرپور کردار ادا کرنے کو تیار ہے دیگر ملکوںکو بھی تعاون کرنا ہوگا۔“
یقینا یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ پاکستان کی اعلی ترین عسکری قیادت نے امریکہ اوراففانستان سمیت دیگر اتحادی افواج کو یہ یقین دلایا ہو کہ پاکستان پڑوسی ملک میں کسی قسم کی بدامنی نہیں چاہتا، یہ سمجھنے کے کیے بقراط ہونا لازم نہیں کہ اگر ہمسایہ ملک میں آگ وخون کا کھیل جاری رہے گا تو اس کے لامحالہ اثرات پاکستان پر مرتب ہونگے ۔
پاک افغان تعلقات کی تاریخ سے شناسا ہر شخص جانتا ہے کہ دونوں ملک سماجی اور مذہبی اعتبار سے کئی رشتوں میں بندھے ہیں۔ قیام پاکستان سے لے کر اب تک کسی بھی دور میں ایسا نہ ہوا کہ سرحد پر آنے جانے والوں کے چیک اینڈ بیلنس کا مربوط نظام قائم کیا جائے۔ یہی ہوا کہ بعض ناخوشگوار واقعات کے رونما ہونے پر ایک دوسرے سے گلے شکوے تو ہوتے رہے مگر کسی طور پر لاتعلقی کی نوبت نہ آئی۔ روس اور افغانستان کی جنگ کے دوران پاکستان کا کردارکلیدی نوعیت کا رہا۔ ایک طرف پاکستان نے لاکھوں افغان مہاجرین کو اپنے ہاں خوش آمدید کہا تو دوسری طرف افغان جنگجووں کی بھی پوری طرح مدد کی، یہ تسلیم کرنے میں حرج نہیں کہ اگر ان دنوں امریکہ روس کے خلاف نبردآزما گروہوں کی کھل کر مدد نہ کرتا تو شائد روس کو ایسی تاریخی شکست نہ ہوتی۔
تاریخ کا ہر طالب علم آگاہ ہے کہ روس افغانستان جنگ میں پاکستان سے ایسی غلطیاں ہوئیں جن کا خمیازہ ملک وملت کو اب بھی برداشت کرنا پڑ رہا ہے،کسی بھی قوم کی زندگی میں اتار چڑھا آنا حیران کن نہیں، جو چیز قابل توجہ ہے وہ یہ اس نے اپنی غلطیوں سے کس حد تک سیکھا۔ روس کی شکست کے بعد جس انداز میں امریکہ اور دیگر بین الاقوامی طاقتوں نے پاکستان اور اففانستان دونوں کو اپنے حال پر چھوڈ دیا وہ تباہ کن غلطی کہلائی ،مقام شکر ہے کہ سابق امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کا یہ بیا ن ریکارڈ پر موجود ہے کہ روس کی شکست کے بعد دنیا بھر کے جنگجو گروہوں کو ان کے حال پر چھوڈ دینا تباہ کن غلطی تھی۔ “
نائن الیون کے بعد امریکہ سمیت ایک بار پھر عالمی برداری کی توجہ افغانستان کی جانب مبذول ہوئی ۔ ورلڈ ٹریڈ سینٹرزکی تباہی کے نتیجے میں پیدا ہونے والا غم وغصہ مغربی قوتوں کو طالبان حکومت ختم کرکے کابل پر قبضہ کرنے پر مجبور کرگیا۔ ملاعمر کا اسامہ بن لادن اور ان کے ساتھیون کو امریکہ کے حوالے نہ کرنا کتنی بڑی غلطی تھی اس بارے کچھ نہیں کیا جاسکتا البتہ حقیقت یہی ہے کہ امریکہ اور طالبان دونوں ہی کوتاہیوں کے مرتکب ہوئے۔
ضرب عضب اور اب ردالفساد کے زریعہ پاکستان بڑی حد تک ان گروہوں کی طاقت ختم کرنے میں کامیاب ہوچکا ہے جنھوں نے خبیر سے کراچی تک اس سرزمین کو آگ وخون میں نہلا دیا۔ ہزاروں پاکستانی عوام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اپنی جانوں کی قربانی دے کر ارض وطن کو ان مسلح جھتوں سے آزاد کروایا جو مخصوص اہداف رکھتے تھے ۔ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی لڑائی ایک طرف خود اس کی بقا وسلامتی کی جنگ ہے جبکہ دوسری جانب اس کے نتیجے میں علاقائی اور عالمی سطح پر وہ مسلح گروہ بڑی حد تک کمزور ہوئے ہیں جو دنیا بھر میں اپنی کاروائیاں جاری وساری رکھنے کا عزم رکھتے ہیں۔
امریکہ اور افغانستان کو بھارت کے اثر سے آزاد ہونے کی ضرورت ہے۔نریندر مودی کا پاکستان اسلام اور مسلمانوں بارے بغض کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔بھارتیہ جتنا پارٹی افغانستان کی آڈ میں پاکستان سے حساب کتاب بے باک کرنے میںکوشاں ہے، مودی سرکار پوری قوت سے کوشاں ہے کہ مقبوضہ وادی میں جاری تحریک آزادی کو دہشت گردی کا نام لے کر ختم کردیا جائے۔ بھارتی وزیر اعظم آئے روز پاکستان بارے وہی لب ولہجہ اختیار کرتے ہیں جو امریکہ اور افغانستان کا ہے۔
جنرل قمر جاوید باجوہ نے کابل میں خطاب کرتے ہوئے غلط نہیںکہا کہ انتہاپسندقوتوں پر قابو پانے کے لیے باہم اتفاق اتحاد کو فروغ دینا ہوگا“۔دراصل ممکن حد تک ایسا ماحول تشکیل دینا چاہے جس کے نتیجے میں حقیقی معنوں میں قیام امن کا خواب شرمندہ تعبیر ہو۔ امریکہ اور افغانستان کا پاکستان پر دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی کرنے کا الزام ان تمام کاوشوں پر سوالات اٹھاتا ہے جو پاکستان مسلسل کررہا ۔ انکل سام کو نہیں بھولنا چاہے کہ پاکستان میںطویل عرصہ تک اس نقطہ نظر کے حامی بڑی تعداد میں موجود رہے کہ ہمیں امریکہ جنگ میں ہرگز نہیں گھسنا چاہے۔
(ڈیک) امریکہ کو سمجھ لینا چاہے کہ وہ جتنی دیر چاہے حقائق سے نظریں چرا لے وہ کسی طور پر تبدیل نہیں ہونے والے۔ افغانستان میں قیام امن کی بنیادی شرط ہے کہ واشنگٹن افغانستان سے نکلنے کی واضح طور پر ڈیڈ لائن دے ، پھر طالبان کو قومی دھارے میں لانے کے لیے ٹھوس اقدمات اٹھائے جائیں۔ افغانستان میں طالبان کے بعد داعش کا پھلنا پھولنا نیک شگون نہیں۔ اس کھیل کے پچھے جو کوئی ہے سمجھ لے کہ ایک خرابی کو دور کرنے کے دوسری خرابی پیدا کرنا کسی طور پر دانشمندی نہیں۔(ڈیک)

Scroll To Top