عمران خان کو ایک نئے بیاینے کی ضرورت ہے ۔۔۔۔

aj ni gal new logo

عمران خان کی اس بات سے کوئی صاحبِ ہوش اختلاف نہیں کرسکتا کہ جس شخص میں خندہ پیشانی کے ساتھ ہار کا مقابلہ یا سامنا کرنے کی ہمت یا طاقت نہیں ، جیت ہمیشہ اس سے روٹھی رہتی ہے۔۔۔
کپتان نے یہ بات لودھراں میں جہانگیر ترین کے صاحبزادے علی ترین کی شکست کے حوالے سے کہی ہے۔۔۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ نون لیگ والے اپنی کامیابی پر شادیانے بجاتے وقت یہ حقیقت بھول گئے ہیں کہ ایک ناتجربہ کار نووارد نوجوان نے تقریباً بانوے ہزار ووٹ حاصل کرکے ثابت کردیا ہے کہ انتخابی عمل پر اپنے مکمل کنٹرول کے باوجود حکمران جماعت نون لیگ کو تحریک انصاف کی صورت میں ایک حقیقی اور بڑے خطرے یا چیلنج کا سامنا ہے۔۔۔
میں سمجھتا ہوں کہ بیان بازی سے ہٹ کر اب تحریک انصاف کو زمینی حقائق کا صحیح طور پر احاطہ کرنے کے لئے ایک سنجیدہ ” فکری عمل “ کا آغاز کرنا ہوگا۔۔۔
زمینی حقائق ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے ۔۔۔ 2016ءیا 2017ءکے وسط تک زمینی حقائق مختلف تھے۔۔۔ تب میاں نوازشریف ملک کے تاجدار تھے اور شاہی تخت پر براجمان تھے۔۔۔ ان کے خلاف ” کرپشن کا وہ بیانیہ “ بے حد موثر اور نتیجہ آفرین تھا جس پر عمران خان نے اپنی سیاسی جدوجہد کا سارا ڈھانچہ کھڑا کیا تھا۔۔۔ جب عدالت عالیہ نے میاں نوازشریف کو جھوٹا اور خائن قرار دے کر وزارت عظمیٰ سے ہٹا دیا تو زمینی حقائق میں یکایک تبدیلی کا عمل شروع ہوگیا۔۔۔
میاں صاحب اور ان کی جماعت نے جو حکمت عملی تیار کی وہ سب کے سامنے ہے۔۔۔ انہوں نے ایک ایسا بیانیہ تیار کیا جس کا ایک مقصدعدلیہ کو متنازع بنانا اور اسے دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور کرنا تھا۔۔۔ اور دوسرا مقصد اپنے حامیوں کو دل برداشتگی کے بھنور سے نکال کر ان میں امید کی ایک نئی کرن پیدا کرنا تھا۔۔۔
پاکستان میں سیاسی جماعتوں کی حمایت نظریاتی بنیادوں پر نہیں شخصی بنیادوں پر ہوا کرتی ہے۔۔۔ اس کا پہلا ثبوت لاہور120کے انتخابی معرکے میں سامنے آیا۔۔۔ اور دوسرا ثبوت اب لودھراں کے دنگل میں سامنے آیا ہے۔۔۔
میاں صاحب کے حامی یا ووٹر میاں صاحب کی کرپشن اور بدعنوانیوں کے باوجود اُن کے پیچھے کھڑے ہیں۔۔۔ اور اس حقیقت کے اسباب تقریباً وہی ہیں جو سرداران مکہ کی سیاسی اور عوامی حمایت کے پیچھے تھے۔۔۔ ہمارے اندر ” پولرائزیشن“ کے عوامل اس قدر گہرائی تک رچے بسے ہوتے ہیں کہ ان میں تبدیلی کسی بڑے واقعے کے بغیر نہیں آتی۔۔۔
ضرورت اس امر کی تھی کہ عمران خان عدالتی فیصلے کے فوراً بعد ایک نیا ” بیانیہ “ تیار کرتے ۔۔۔ اور عوام کے سامنے اُس نئے پاکستان کا نقشہ پوری وضاحت کے ساتھ رکھتے جس کا نعرہ وہ گزشتہ انتخابات سے لگا رہے ہیں۔۔۔
میں اپنے آپ کو کپتان کے حامیوں میں شمار کرتا ہوں۔۔۔ میں نے چند برس ان ے ساتھ مل کر اس فرسودہ نظام کے خلاف جدوجہد بھی کی ہے۔۔۔ مگر آج مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ میں اُس پاکستان کے خدوخال کے بارے میں زیادہ نہیں جانتا جس کی بات کپتان اکثر کیا کرتے ہیں۔۔۔ اُس پاکستان کا سیاسی نظام کیسا ہوگا ؟ اس پاکستان کا معاشی ڈھانچہ کیسا ہوگا ؟ اُس پاکستان کا تعلق آنحضرت ﷺ کی قائم کردہ ریاستِ مدینہ کے ساتھ کیسے قائم ہوگا۔۔۔؟
یہ وہ سوالات ہیں جو ایک نئے ” بیاینے “ کی تخلیق اور تشکیل کے متقاضی ہیں۔۔۔
جہاں تک کرپشن کے خلاف جنگ لڑنے کا تعلق ہے وہ ایک ایسا بیانیہ ہے جس کا ایک کلائمیکس میاں نوازشریف کی نا اہلی کی صورت میں سامنے آچکا ہے۔۔۔
ویسے بھی اب یہ بیانیہ ہماری عدلیہ اور نیب کے ہاتھوں میں جاچکا ہے ۔۔۔
عمران خان کو ایک نئے بیانیے کی ضرورت ہے ۔۔۔

Scroll To Top