اس منظر پر ہٹلر اور سٹالن بھی رشک کرتے 4-12-2012

2دسمبر کو جس قدر برق رفتاری کے ساتھ کراچی میں ایم کیو ایم کے ایک بڑے اجتماع کا اہتمام کیا گیا جس سے جماعت کے قائد جناب الطاف حسین نے لندن سے خطاب فرمایا اس کی نظیر تلاش کرنا کسی جمہوری نظام میں ممکن نہیں۔ صرف ایسی مطلق العنان بادشاہتوں میں ایسا ہوتا ہوگا جن میں فرمان ِ شاہی کی تعمیل میں کوتاہی کرنا موت کو دعوت دینے کے مترادف سمجھا جاتا تھا۔ بیسویںصدی میں نظریات کی بنیاد پر جو مطلق العنان نظام وجود میں آئے اُن میں سٹالن کا سوویت یونین اور ہٹلر کا نازی جرمنی سرفہرست تھا وہاں تو ایساہوتا ہی تھا۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ جو رُعب و دبدبہ الطاف بھائی کو اپنی ”دو کروڑ “رعایا پر ہے اس پر ہٹلر اورسٹالن بھی رشک کرتے۔
یہ” دوکروڑ “کی تعداد میں نے الطاف بھائی کی اس تقریر سے لی ہے جو انہوں نے لندن میں کی اور جسے کراچی میں جس انہماک کے ساتھ سنا گیا وہ حج کے خطبے میںبھی نظر نہیں آتا۔
الطاف بھائی نے کہا کہ ایم کیو ایم کے”دو کروڑ “عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی سازش ہورہی ہے۔ اگرچہ کراچی کی آبادی کے بارے میں تخمینہ یہی لگایا جاتا ہے کہ” دو کروڑ “کو چھونے والی ہے ` مگر اس آبادی میں لاکھوںعوام ایسے بھی ہیں جنہیں ایم کیو ایم ” اپنا “ نہیں سمجھتی اور جو ایم کیو ایم کو اپنا نہیں سمجھتے۔ظاہر ہے کہ اِن عوام کے بھی کچھ نہ کچھ حقوق ہوںگے جن کے تحفظ کے لئے کراچی میں نئی حلقہ بندیوںکا مطالبہ سامنے آیا ہے۔ اگرالطاف بھائی اس مطالبے کو ایم کیو ایم کے ” َعوام “ کے خلاف سازش سمجھتے ہیں تو انہیں چاہئے کہ سازشیوں کی نشاندہی کھل کر کریں۔ ساتھ ہی وہ یہ وضاحت بھی کریںکہ ” دس بارہ برس میں کراچی کے اندر جو demographic )عمرانیاتی(تبدیلیاں ہوئی ہیں ان کی روشنی میں نئی حلقہ بندیاں کرنے کا مطلب ایم کیو ایم کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنا کیسے ہے ؟“

kal-ki-baat

Scroll To Top