ضمیروں کے سوداگرو ں سے آباد پارلیمنٹ اب بھی اگر آخری سانسیں نہیں لے رہی تو پھر اگلی نسل کو ایک بہتر پاکستان کب اور کیسے ملے گا۔۔۔؟

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے ٹھیک کہا ہے کہ جو لوگ ضمیروں کے سودے کرکے وفاداریوں کی خرید و فروخت کے ذریعے پارلیمنٹ میں پہنچتے ہیں ان کے خلاف جہاد کرنا ہر محب وطن پاکستانی کا فرض ہے۔۔۔
لیکن اس بڑی سچائی کے ساتھ وزیراعظم کو اس سے بھی بڑ ی سچائی کا ببانگ ِ دہل اظہار کرنا چاہئے کہ جو لوگ پارلیمنٹ اور اقتدار کے ایوانوں میں پہنچ کر اپنے اختیارات ملک کی بہتری یا قوم کی فلاح کی بجائے اپنی مالی حیثیت میں تحیرخیز اضافے اور اپنی املاک اور اپنے خزانوں میں ناقابلِ تصور پھیلاﺅ کے لئے استعمال کرتے ہیں ان کے خلاف جہاد کرنا نہ صرف یہ کہ ہر محب وطن پاکستانی کا فرض ہے بلکہ بہت بڑا کارِثواب بھی ہے۔۔۔
ان دونوں قسموں کے لوگوں نے مل کر پاکستان کو جتنا نقصان پہنچایا ہے اس کا ازالہ کرنے کے لئے قوم کو برسہا برس تک انتھک جدوجہد کرنی پڑے گی۔۔۔
اس ساری صورتحال کا المناک پہلو یہ ہے کہ قوم کے ان مجرموں نے عوام کے عتاب سے بچنے کے لئے ” سلطانی ءجمہور“ کے آفاقی تصور میں اپنے آپ کو قلعہ بند کررکھا ہے۔۔۔
اور یہاں جو بات قوم کے دلوں میں امید کی ایک روشن کرن پیدا کررہی ہے وہ یہ ہے کہ ملک کے دو بڑے ادارے اپنے اپنے انداز میں اصلاحِ احوال کے لئے کمربستہ ہوچکے ہیں۔۔۔
ہماری عدلیہ نے قوم کے متذکرہ مجرموں کی بے پناہ طاقت کے سامنے اپنے آپ کو سینہ سپر کرلیا ہے۔۔۔ اس ضمن میں چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب کا یہ فرمانا نہایت خوش آئند ہے کہ وہ اور ان کے ساتھی اگلی نسل کو ایک بہتر پاکستان دے کر جانے کا تہیہ کرچکے ہیں۔۔۔
جس بہتر پاکستان کی نوید چیف جسٹس صاحب سنا رہے ہیں وہ یقینا اس بوسیدہ نظام کے کھنڈرات پر ہی تعمیر ہوگا جس نے قوم کے بدترین مجرموں کو ملک کی تقدیر کا مالک بنا رکھا ہے۔۔۔
ضمیروں کے سوداگرو ں سے آباد پارلیمنٹ اب بھی اگر آخری سانسیں نہیں لے رہی تو پھر اگلی نسل کو ایک بہتر پاکستان کب اور کیسے ملے گا۔۔۔؟

Image may contain: one or more people, eyeglasses and text

Scroll To Top