پاک امریکہ تعلقات میں تناو کم ہوا !

zaheer-babar-logoکالعدم تحریک طالبان پاکستان نے اپنے نائب امیر خالد محسود عرف سید سجنا کی امریکی ڈورن حملے میں مارے جانے کی تصدیق کردی ۔ یہ حملہ آٹھ فروری کو شمالی وزیر ستان کے علاقے میں گیا مگر حملے کے فورا بعد خود سجنا گروپ نے ایسی کسی بھی کاروائی کی تردید کی تھی۔ خالد محسود سجنا کو امریکہ نے 2014 میں دہشت گرد قرار دیا تھا۔
یادرہے کہ یہ پہلی بار نہیں 2007 میں بنے والی کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی سرکردہ شخصیات امریکی ڈرون حملے کا نشان بنی۔ تنظیم کے بانی اور پہلے امیر بیت اللہ محسود اور پھر ان کے جانشین حکیم اللہ محسود بھی امریکی جاسوس طیارے کے حملے میں مارا گیا۔
انتہاپسندی کے خلاف لڑی جانے والی لڑائی میں ریاستوں کے درمیان باہم اتفاق واتحاد کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا مگر نائن الیون کے بعد پاکستان ، امریکہ اور افغانستان میں ایسا مثالی تعاون دیکھنے میں نہ آیا جو اس خطے میں امن وسلامتی کا ماحول پیدا کرنے میں معاون بنتا۔ شبہ نہیں کہ عالمی تعلقات سے واقف ہر شخص آگاہ ہے کہ ہر ریاست کا اپنا مفاد ہوا کرتا ہے۔ ملکوں کے درمیان باہم تعلقات میں اتار چڑھا آنا خلاف معمول نہیں مگر مسقل مفادات ہی ہیں، اس پس منظر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ شائد مشترکہ دشمن پر فریقین کا اتفاق نہ ہوسکا۔ گڈ اور بیڈ طالبان کی اصطلاح اسی بنا پر معروف ہوئی کہ برسر پیکار درجنوں گروہوں مختلف اہداف اور مقاصد کے حامل سمجھے گے۔
دہشت گردی کے خلاف لڑائی میںجس قدر جانی ومالی قربانیاں پاکستان نے دیں وہ شائد ہی کسی اور ملک کے حصہ میں آئیں۔ ہزاروں شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی شہادت اس کا واضح ثبوت ہے۔ پاکستان کا شائد ہی کوئی اہم شہر بچا ہو جہاں کشت وخون کا بازار نہ گرم کیا گیا۔غیر یقینی صورت حال ہی تھی جس نے ملکی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ صورت حال کی سنگنی کا اندازہ یوں بھی لگایا جاسکتا کہ دوہزار تیرہ کے عام انتخابات کے بعد بنی والی مسلم لیگ ن کی حکومت نے ان مسلح گروہوں سے بات چیت کرنے لگی جو ہزاروں نہتے افراد کو نشانہ بنانے کا برملا اعتراف کرچکے تھے۔ ستم ظریفی یہ تھی کہ حکومت کے علاوہ حزب اختلاف کی سب ہی سیاسی جماعتیں اس عمل میں حکمران جماعت کی ہمنوا قرار پائیں۔
ضرب عضب اور اب ردالفساد کے نتیجے میں خبیر تا کراچی امن وامان بہتر بنانے میں خاصی مدد ملی۔ سیکورٹی فورسز کی بھرپور کاروائیوں ہی کا نتیجہ ہے کہ آج ہمارے قومی اور مذہبی تہوار بڑی حد تک باخوبی سرانجام پاتے ہیں۔ بہتری کی گنجائش بہرکیف موجود ہے، یقینا ایسانہیںکہ اب دہشت گردی کی کوئی بھی کاروائی رونما نہیں ہوتی مگر خون ریزی واقعات میں اب تسلسل نہیں رہا۔
اس سوال کو جواب دینا آسان نہیںکہ امریکہ کی افغانستان میں موجودگی خطے میں قیام امن میں کس حد تک مددگار ثابت ہورہی ہے۔ امریکہ بہادر جس تواتر کے ساتھ پاکستان پر مسلح گروہوں کی سرپرستی کرنے کا الزام عائد کرتا ہے وہ یقینا پاکستانیوںکے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے ۔اپنی ناکامی کا جواز تلاش کرنا ہوں یا کوئی اور وجہ حقیقت یہی ہے کہ واشنگٹن کی مذکورہ پالیسی کو کسی طور پر سراہا نہیں جاسکتا۔ عالمی اور علاقائی میڈیا میں آنے والی خبروں سے یہ ثابت کرنا مشکل نہیں رہا کہ سالوں گزرنے کے باوجود امریکہ افغانستان میں اپنے حریف گروہوں پر سبقت حاصل نہیں کرسکا۔ چند روز قبل ہی معروف برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے اپنی تحقیقی رپورٹ میں یہ انکشاف کیا کہ افغانستان کے بیشتر حصہ پر نہ صرف طالبان کا قبضہ ہے بلکہ وہ وہاں سے ٹیکس بھی وصول کرتے ہیں۔ پڑوسی ملک میں افغان طالبان کے علاوہ جو گروہ تیزی کے ساتھ پڑوسی ملک میں اپنا اثر رسوخ بڑھا رہا وہ دولت اسلامیہ ہے جس کے بارے خیال کیا جاتا ہے کہ وہ امریکی سرپرستی میں اپنے قدم جمانے میں مصروف ہے۔
امریکہ کے جنوبی ایشیاءسے متعلق عزائم میں بڑی حد تک ابہام ہے۔ حال ہی میں امریکی کی سرکردہ شخصیات یہ دعوی کرچکیں کہ اب دہشت گردی نہیں چین اور روس پر نظر رکھنا ان کا ہدف ہے۔ سوال یہ ہے کہ امریکہ بہادر اپنے پہلے ہدف یعنی طالبان پر فتح پانے میں کہاں تک کامیاب رہا جو اب وہ دوسرے ٹارگٹ کی جانب توجہ مبذول کی جارہی ۔
سید سجنا کا امریکی ڈورن حملے میں مارا جانا یہ تاثر دے رہا کہ ایک بار پھر پاکستان اور امریکہ کے درمیان کسی نہ کسی سطح پر روابط کو فروغ ملا ہے۔ چند ہفتے قبل تک جس طرح اعلی امریکی عہدیدار پاکستان بارے الزام تراشی کررہے تھے اب اس میں کمی آتی دکھائی دے رہی۔
امر خوش آئند ہے کہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے آنکھیں بند کرکے امریکی مطالبات کے سامنے سر تسلیم خم کرنے سے انکار کردیا ۔ پاکستان نے واشنگٹن کو واضح پیغام دیا کہ دونوں ملکوںکے معاملات اسی صورت آگے بڑھ سکتے ہیں جب ایک دوسرے کے مفادات کا خیال رکھا جائے۔ یقینا پاکستان امریکہ جیسی طاقت سے محاذآرائی کرنے کے کا خواہشمند نہیں ، ملک کی معاشی ، سیاسی حالت کسی طور پر ایسی نہیں کہ دنیا کی اکلوتی سپرپاور ہونے کی دعویدار ریاست کو اپنا دشمن بنا لیا جائے۔
اطمینان بخش ہے کہ پاک امریکہ تعلقات میں ایک بار پھر ٹھیرار پیدا ہورہا جو آنے والے دنوں میں ایک دوسرے کے موقف کو سمجھنے میں بڑی حد تک مدد گار ثابت ہوسکتا ہے۔

Scroll To Top