سینٹ انتخابات ن لیگ کو ایک اوردھچکا: اسحاق ڈار کے کاغذات نامزدگی مسترد

  • اسحاق ڈار اپنے بینک اکاو¿نٹس کی مصدقہ کاپیاں جمع کرانے میں ناکام دستخط بھی جعلی،الیکشن کمیشن نے اسحاق ڈار کے وکیل کو اکاؤنٹس کی مصدقہ کاپیاں جمع کرانے کے لیے وقت دیا تاہم وہ ناکام رہے
  • کاغذات نامزدگی منظور یا مسترد ہونے کےخلاف اپیلیں 15 فروری تک دائر کی جا سکیں گی،اپیلوں پر فیصلہ 17فروری تک کیا جائے گا ،حتمی فہرست 18فروری کو شائع کی جائے گی ، کاغذات نامزدگی واپس لینے کی آخری تاریخ 19فروری ہے

احتساب عدالت نے اسحاق ڈار کو مفرور قرار دیدیا

لاہور ( الاخبار نیوز+این این آئی )الیکشن کمیشن نے سینیٹ انتخابات کے لیے مسلم لیگ (ن) کے رہنما اسحاق ڈار کے کاغذات نامزدگی مسترد کردیے۔الیکشن کمیشن نے سینیٹ انتخابات کیلئے سابق وزیر خزانہ اور نیب ریفرنسز میں اشتہاری ملزم اسحاق ڈار کے کاغذات نامزدگی پر پاکستان تحریک انصاف کے اعتراضات سے متعلق درخواست کی سماعت کی۔ تحریک انصاف نے موقف اپنایا کہ جو بینک اکاو¿نٹ کھلوایا گیا تھا، اسحاق ڈار نے اس کی مصدقہ کاپیاں جمع نہیں کرائیں جب کہ دوسرے اکاو¿نٹ میں اسحاق ڈار کے جعلی دستخط ہیں۔ الیکشن کمیشن نے اسحاق ڈار کے وکیل کو اکاو¿نٹ کی مصدقہ کاپیاں جمع کرانے کے لیے وقت دیا تاہم مقررہ وقت ختم ہونے پر اسحاق ڈار کے وکیل نے اکاو¿نٹ کی مصدقہ کاپیاں جمع نہیں کرائیں جس پر الیکشن کمیشن نے اسحاق ڈار کے کاغذات نامزدگی کو مسترد کردیا۔ اسحاق ڈار نے مسلم لیگ ن کی جانب سے سینیٹ میں ٹیکنو کریٹ کی سیٹ پر کاغذات جمع کروائے تھے۔واضح رہے کہ تحریک انصاف نے اسحاق ڈار کی سینیٹ میں نامزدگی کو الیکشن کمیشن میں چیلنج کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ اسحاق ڈار اشتہاری اور بددیانت ہیں جب کہ سینیٹ کے امیدوار کا دیانتدار ہونا ضروری ہے۔ اسحاق ڈار بیرون ملک ہیں جبکہ ان کے کاغذات نامزدگی پر دستخط اور ان کے ہمراہ جمع کرائی جانے والی دستاویزات بھی جعلی ہیں۔ نیز اسحاق ڈار نے ایک ہی بینک اکاو¿نٹ پر دو کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں جو غلط ہیں۔۔۔۔الیکشن کمیشن پنجاب نے سینیٹ انتخابات کےلئے مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور وفاقی وزیر حافظ عبدالکریم سمیت 5 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے جبکہ جانچ پڑتال کے بعد 24 امیدواروں کے کاغذات منظور کرلئے گئے، کاغذات کی سکروٹنی کے عمل کے دوران اسحاق ڈار اور تحریک انصاف کے وکلاءکے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی جبکہ اسحاق ڈار کے وکلاءنے فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا ۔ تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے رہنما و سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی جانب سے سینیٹ انتخابات میں جنرل نشست اور ٹیکنو کریٹ کی نشست پر علیحدہ علیحدہ کاغذاتِ نامزدگی جمع کروائے گئے تھے۔اسحاق ڈار نے نامزد نمائندے کے ذریعے کاغذات کی جانچ پڑتال کی استدعا کی تھی جسے الیکشن کمیشن نے مسترد کرتے ہوئے ان کے کاغذات کی جانچ پڑتال کا عمل پیر کی دوپہر تک ملتوی کردیا تھا۔اسحاق ڈار کے وکیل نصیر بھٹہ ان کے نمائندے کے طور پر الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے تاہم صوبائی الیکشن کمیشن نے کہا کہ اسحاق ڈار کے تجویز اور تائید کنندہ کی موجودگی ضروری ہے۔الیکشن کمیشن نے اسحاق ڈار کے تائید کنندہ غزالی سلیم بٹ اور تجویز کنندہ منشااللہ بٹ کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کی بھی ہدایت کی تھی۔پی ٹی آئی کی جانب سے اعتراض اٹھایا گیا تھا کہ اسحاق ڈار ملک سے باہر ہیں اور اپنے اقرار نامے پر خود دستخط نہیں کر سکتے جبکہ اسلام آباد کی احتساب عدالت انہیں اشتہاری بھی قرار دے چکی ہے لہٰذا ان کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جائیں۔تاہم ریٹرنگ افسر نے اپنے فیصلے میں اشتہاری ہونے کو بنیاد نہیں بنایا صرف اقرار نامے کے معاملے پر اسحاق ڈار کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے ۔ سینیٹ انتخابات کی ضابطے کے مطابق امید وار کو ہر نشست کے لیے علیحدہ اکاﺅنٹ کھلوانا لازمی ہے۔تاہم ریٹرنگ افسر کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ اسحاق ڈار نے صرف ایک نشست کے لیے بینک اکاﺅنٹ کھلوایا جو سینیٹ انتخابات کے ضابطے کی خلاف ورزی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ سابق وزیر خزانہ کے وکلاءکی جانب سے جو دلائل پیش کیے گئے ہیں ان میں کہا گیا تھا کہ اسحاق ڈار نے ایک بینک اکاﺅنٹ کھلوایا ہے جس سے وہ دونوں نشستوں پر انتخابی مہم کے حوالے سے اخراجات کریں گے۔ اسحاق ڈار کے وکلاءکی جانب سے بینک سرٹیفکیٹ بھی پیش کیا تاہم ریٹرنگ افسر نے ان کے دلائل اور سرٹیفکیٹ کو مسترد کردیا اور پی ٹی آئی کے اعتراضات کو قبول کرتے ہوئے سابق وزیر خزانہ کے کاغذات نامزدگی کو مسترد کردیا۔سکروٹنی کے عمل کے دوران اسحاق ڈار اور تحریک انصاف کے وکلاءکے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی ۔ جبکہ اسحاق ڈار کے وکیل نے میڈیا نمائندوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ ریٹرنگ افسر کے اس فیصلے کو چیلنج کریں گے۔دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے رہنما ووفاقی وزیر حافظ عبدالکریم ، آزاد امیدوار سرفراز قر یشی، بلال بٹ اور عثمان خان زئی کے بھی کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے گئے ۔ جبکہ آصف کرمانی ، حنا ربانی کھر، ہارون اختر ،عندلیب عباس ،شہزاد خان ،چوہدری سرور ،کامل علی آغا،رانامحمود الحسن ، شیزا فاطمہ ، سمیع اللہ چودھری،مصدق ملک،شکیل اعوان ،ولیم مائیکل، نواز ش علی پیرزادہ، نصیربھٹہ ،رانا مقبول،زبیر گل، شاہین خالد بٹ، کامران مائیکل، آصف جاوید، سعدیہ عباسی، نزہت صادق، وکٹر زاریا اور حامعراج کے کاغذات نامزدگی منظور کر لیے گئے ہیں ۔اسحاق ڈار کے کاغذات مسترد ہو نے پر تحریک انصاف کے وکلاءکی جانب سے خوشی کا اظہار کیا گیا جبکہ اسحاق ڈار کے وکلاءاور حامیو ں کی جانب سے نعری بازی کی گئی ۔الیکشن کمیشن کے شیڈول کے مطابق کاغذات نامزدگی منظور یا مسترد ہونے کے خلاف اپیلیں 15 فروری تک دائر کی جا سکیں گی۔ان اپیلوں پر فیصلہ 17فروری تک کیا جائے گا اور امیدواروں کی حتمی فہرست 18فروری کو شائع کی جائے گی جبکہ کاغذات نامزدگی واپس لینے کی آخری تاریخ 19فروری مقرر کی گئی ہے۔

Scroll To Top