چیف جسٹس پاکستان کا حکم: جاتی امراءسمیت تمام وی آئی پی رکاوٹیں ہٹا دی گئیں

  • سی اےم کےمپ آفس ،وزیر اعلیٰ کی رہائشگاہ ،مولانا طاہر القادری کی رہائشگاہ، واپڈ ہاﺅس ، گورنر ہاﺅس ، جامع القادسیہ ، جاتی امراءرائے ونڈ ، آئی جی آفس ، پولےس لائنزقلعہ گجر سنگھ سمیت دیگر مقامات سے سکیورٹی کے نام پر رکھی گئی رکاوٹیں اور بیرئیرز ہٹا دئیے گئے
  • اگر اہم شخصیات کو سکیورٹی مسائل کا سامنا ہے تو اس مسئلے کو کسی دوسرے طریقے سے حل کیا جائے ، عوام کو پریشانی میں مبتلا نہ کیا جائے،وزیر اعلیٰ عوامی آدمی ہیں اور انہیں کہنا چاہیے کہشہباز شریف کسی سے نہیں ڈرتا، دوران سماعت جسٹس ثاقب نثار کے ریمارکس
لاہور، سپریم کورٹ کے حکم پر گورنر ہاﺅس کے باہر سے لفٹر کے ذریعے رکاوٹیں ہٹائی جا رہی ہیں

لاہور، سپریم کورٹ کے حکم پر گورنر ہاﺅس کے باہر سے لفٹر کے ذریعے رکاوٹیں ہٹائی جا رہی ہیں

لاہور( این این آئی) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاںثاقب نثار کے حکم پرپنجاب حکومت نے جاتی امراء،گورنر ہاﺅ س ،وزیر اعلیٰ کیمپ آفس اور آئی جی آفس سمیت دیگر مقامات سے سکیورٹی کے نام پر کھڑی کی گئی تمام رکاوٹیں ہٹا دیں۔گزشتہ روز سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں سماعت کے دوران چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے رات بارہ بجے تک رکاوٹیں ہٹانے کا حکم جاری کیا تھا ۔سماعت ختم ہونے کے بعد پنجاب حکومت کی ہدایت پر پولیس نے سی اےم کےمپ آفس 180اےچ ماڈل ٹاﺅن ،وزیر اعلیٰ کی رہائشگاہ ،عوامی تحریک کے سربراہ مولانا طاہر القادری کی رہائشگاہ، واپڈ ہاﺅس ، گورنر ہاﺅس ، جامع القادسیہ ، جاتی امراءرائے ونڈ ، آئی جی آفس ، پولےس لائنزقلعہ گجر سنگھ ، انسٹی ٹےوٹ مہاج الحسےن نواب ٹاﺅن ، حافظ سعید کی جوہر ٹاﺅن میں واقع رہائشگاہ ، ےونےورسٹی آف سنٹرل پنجاب، اےوان عدل ، داتا دربا ر، جامعتہ المنتظر ، پاسپورٹ آفس، پاسپورٹ آفس گارڈن ٹاﺅن سمیت دیگر مقامات سکیورٹی کے نام پر رکھی گئی رکاوٹیں اور بیرئیر ہٹا دئیے گئے ۔ اس سے قبل چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے جاتی امراء، گورنر ہاﺅس ، ماڈل ٹاﺅن سمیت تمام مقامات سے سکیورٹی کے نام پر کھڑی کی گئی رکاوٹیں ہٹانے کا حکم دیتے ہوئے بیان حلفی کے ساتھ عملدرآمد رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کر دی ،جبکہ چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دئیے ہیں کہ اگر اہم شخصیات کو سکیورٹی مسائل کا سامنا ہے تو اس مسئلے کو کسی دوسرے طریقے سے حل کیا جائے لیکن عوام کو پریشانی میں مبتلا نہ کیا جائے،وزیر اعلی عوامی آدمی ہیں اور انہیں کہنا چاہیے شہباز شریف کسی سے نہیں ڈرتا۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس منظور احمد ملک اور جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں تین رکن بنچ نے چھٹی کے روز سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں پینے کے صاف پانی ، ویسٹ مینجمنٹ اور سکیورٹی کے نام پر کھڑی کی گئی رکاوٹوں سے متعلق از خود نوٹسز کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس کے طلب کرنے پر وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف بھی عدالت میں پیش ہوئے ۔ صوبائی وزراءرانا ثنا اللہ خان ،رانا مشہود احمد خان، ذکیہ شاہنواز ، ترجمان پنجاب حکومت ملک محمد احمد خان ،وزیر اعلیٰ کے مشیر خواجہ احمد حسان ،لارڈ میئر لاہور کرنل (ر) مبشرجاوید ،چیف سیکرٹری پنجاب کیپٹن (ر) زاہد سعید ، آئی جی پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز سمیت بیورو کریسی کے دیگر اعلیٰ افسران بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے ۔دوران سماعت ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے بند کی گئی سڑکوں کی تفصیلات عدالت میں پیش کی۔ جس پر چیف جسٹس نے پنجاب کی انتظامیہ سے استفسار کیا کہ سڑکیں کس قانون کے تحت بند کی گئی ہیں؟۔عدالت کو بتایا گیا کہ ماڈل ٹاﺅن، گورنر ہاﺅس اور جاتی امرا ءسمیت اہم مقامات کو سکیورٹی کی وجہ سے بند کیا گیا ہے اور راستوں میں بیریئرز لگائے گئے ہیں۔سپریم کورٹ نے جاتی امراء، گورنر ہاﺅس ،ماڈل ٹاﺅن، آئی جی آفس ،منہاج القرآن ،ایوان عدل ، پاسپورٹ آفس ،جامعہ قادسیہ، حافظ سعید کی رہائشگاہ، چوبرجی اور ایوان عدل سمیت تمام مقامات سے رات بارہ بجے تک رکاوٹیں بلاامتیاز ہٹانے کا حکم دیتے ہوئے ایڈیشنل سیکرٹری ہوم میجر (ر) اعظم سلیمان کو ہدایت کی کہ آج پیر کے روز بیان حلفی کے ساتھ عملدرآمد رپورٹ جمع کرائی جائے ۔ فاضل عدالت نے ایرانی اور چینی قونصلیٹ پر سکیورٹی برقرار رکھنے کا حکم دیا ۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ آئی ایس آئی کے ہیڈ کوارٹرز اور ڈی جی رینجرز کے گھر کے باہر کھڑی رکاوٹوں کو بعد میں دیکھیں گے۔میجر (ر) اعظم سلیمان نے کہا کہ رکاوٹیں دھمکیاں ملنے کی وجہ سے لگائی گئیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کیا مجھے دھمکیاں نہیں ملتیں، وزیراعلی کو ڈرا دھمکا کر گھر میں نہ بٹھائیں ،اپنی فورسز کو الرٹ کریں،سکیورٹی کے لیے وزیر اعلی کے گھر پر ماہر نشانے باز بٹھا دیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ وزیر اعلی عوامی آدمی ہیں اور انہیں کہنا چاہیے شہباز شریف کسی سے نہیں ڈرتا۔چیف جسٹس نے وزیراعلی سے کہا کہ آپ تو عوامی آدمی ہیں، آپ کو خود رکاوٹیں ہٹانے کا حکم دینا چاہیے تھا،افسران اور پولیس اہلکاروں نے کیوں آپ کو ڈرا کر رکھا ہے؟۔چیف جسٹس نے شہباز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں ،وزیراعلی سندھ کی طرح آپ نے بھی عدالت آکر اچھی روایت قائم کی، ہم آپ کے مشکور ہیں۔اس موقع پر چیف جسٹس نے وزیراعلی پنجاب سے استفسار کیا کہ کیوں وزیراعلی صاحب ہم ٹھیک کر رہے ہیں جس پر شہباز شریف نے کہا کہ چیف جسٹس صاحب آپ ٹھیک کررہے ہیں،اگر میں کچھ بولا تو حکم عدولی ہو جائے گی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ حکم عدولی نہیں کر سکتے، آپ ایک لیڈر ہیں، میں جانتا ہوں آپ اگلے مورچوں پر لڑنے والے ہیں، ایک آپ ہی تو ہیں جو عدالت کا احترام کر رہے ہیں۔چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ ان معاملات کا مقصد سیاست کرنا نہیں، عدلیہ اور انتظامیہ مل کر عوامی حقوق کا تحفظ کریں۔چیف جسٹس نے کہا کہ آپ دس سال سے حکومت میں ہیں مگر ہمیں مسائل پر نوٹس لینا پڑا اورآپ یہاں کھڑے ہیں ،سوال یہ ہے کہ کیا گندہ پانی پاکستانی عوام کے لیے وبال جان ہے یانہیں ؟ ۔سماعت کے دوران صوبائی وزیر رانا مشہود کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل کے کان میں سر گوشی کرنے پر چیف جسٹس آف پاکستان نے شدید برہمی کا اظہار اورسرزنش کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو پتہ ہونا چاہیے کہ عدالت کا ڈیکورم کیا ہے ؟اپنی نشست پر بیٹھیں ۔ وزیر اعلی کی موجودگی میں جو وزرا پھرتیاں دکھائیں مجھے اچھے نہیں لگتے۔اس موقع پر وزیر اعلیٰ پنجاب کا کہنا تھاکہ میں بھی انسان ہوں غلطی کرسکتا ہوں ، صوبے کے عوام کی خدمت کیلئے ہر ممکن کوشش کرتا ہوں ، آپ کی ہر خواہش میرے لئے حکم ہے۔ شہباز شریف نے کہا کہ ہم نے مفاد عامہ کے منصوبوں پر اربوںروپے خرچ کئے ہیں ،منصوبوں کا مقصد شہریوں کو بنیادی حقوق کی فراہمی ہے ،ہم نے کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹ لگائے ، گیس کے پلانٹ لگائے ان سے خطیر رقم بھی بچائی۔جسٹس اعجاز الحسن نے کہا کہ کیا کول پاور پلانٹ کے باعث ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ نہیں ہوگا۔ شہباز شریف نے جواب دیا کہ اس کے لئے عالمی معیار کی ٹیکنالوجی اپنائی گئی ہے ،ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے کے لئے اقدامات کررہے ہیں، ہر پراجیکٹ پر اربوں ڈالرز خرچ ہوتے ہیں، ہم اس بات کو بھی مد نظر رکھتے ہیں کہ کم لاگت میں اس کو کیسے پورا کریں۔چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کے ہسپتالوں کی حالت خراب ہے ، میں نے ہسپتال کا دورہ کیا توآپ کے قائدین نے اس پر اعتراض کیا ،مجھے ان اعتراضات کی کوئی پرواہ نہیں ۔ شہبازشریف نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی اور بحالی کی تحریک چلانے والے ہم ہیں ۔جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ میاں صاحب یہ بات اپنی پارٹی کوبھی بتائیں ۔چیف جسٹس نے کہا کہ صاف اور شفاف انتخابات کرائیں ،تین بار کہہ رہا ہوںہم یہاں ہیں اب ملک میں آزاد اور شفاف الیکشن ہوں گے۔وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے چیف جسٹس سے کہا کہ تین ہفتوں کا وقت دیا جائے جامع اور قابل عمل منصوبہ لےکر پیش ہوں گے جس پر چیف جسٹس سپریم کورٹ نے وزیر اعلی کو 3ہفتوں میں صاف پانی کے حوالے سے قابل عمل منصوبہ فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی ۔

Scroll To Top