نواز شریف نے بیرونی دوروں کا خرچہ اٹھانے والوں کو سینیٹ ٹکٹ دئیے

  • حکمراں جماعت کی طرف سے ٹکٹوں کی تقسیم کے طریقہ کار پر کارکنوںکا شدید تحفظات کا اظہار
  • ماضی کے برعکس مسلم لیگ ن نے پارلیمانی بورڈ کی تشکیل اور امیدواروں کے انٹرویو کے لیے باقاعدہ اعلان سے گریز کیا

نواز شریف کیخلاف9سو صفحات پر مشتمل ریکارڈ عدالت میں جمع

اسلام آباد(الاخبار نیوز) عام انتخابات میں پارٹی رہنما کے انتخاب اور سینیٹ الیکشن کے لیے امیدوار کی نامزدگی پر حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے طریقہ کار پر کارکنوں نے شدید تحفظات کا اظہار کردیا ہے۔مسلم لیگ (ن) کے ایک سینئر رکن نے بتایا کہ پارٹی رہنماو¿ں نے سینیٹ انتخابات کےلیے ’منظور نظر ‘ امیدواروں کو حتمی تاریخ سے 3 ہفتے قبل ہی دوہری شہریت سے دستبردار ہونے کا اشارہ ے دیا تھا۔واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن) نے سینیٹ انتخابات کے لیے امیدواروں کو اپنی درخواستیں 6 فروری تک مع ناقابل واپسی 50 ہزار روپے زیر ضمانت جمع کرانے کی ہدایت دی تھی جبکہ صرف پنجاب سے 110 سے زائد درخواستیں وصول ہوئیں تاہم یہ خیال کیا جارہا کہ پنجاب سے تمام 12 نسشتوں پر مسلم لیگ (ن) کے امیدوار منتخب ہوں گے۔خیال رہے کہ ماضی کے برعکس مسلم لیگ (ن) نے پارلیمانی بورڈ کی تشکیل اور امیدواروں کے انٹرویو کے لیے باقاعدہ اعلان نہیں کیا۔دوسری جانب پارٹی رہنماو¿ں کا دعویٰ ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف نے 6 فروری کو اپنی رہائش گاہ میں غیر رسمی میٹنگ کے دوران پارلیمانی بورڈ تشکیل دیا تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ بورڈ اراکین کو امیدواروں کی مکمل فہرست فراہم نہیں کی جو ماضی کی روایت کے برخلاف رہی۔نوازشریف نے لاہور میں اپنے بھائی شہباز شریف، بیٹی مریم نواز، بھانجے حمزہ شہباز، سینیٹر پرویز رشید اور دیگر کے ہمراہ سینیٹ کی نسشتوں کے لیے امیدواروں کے حتمی فہرست تیار کی۔خیال رہے کہ مسلم لیگ (ن) نے پنجاب میں سینیٹ ٹکٹ کے لیے سابق وزیرخزانہ اسحٰق ڈار، سابق پنجاب پولیس آئی جی رانا مقبول احمد خان، امریکا اور برطانیہ میں پارٹی کے آفیس کنندہ زبیرگل اور شاہین بٹ، نواز شریف کے ترجمان ڈاکٹر آصف کرمانی، سابق سینیٹر ہارون اختر، صنعت کار فاروق خان اور حفیظ عبدالکریم، جمیعت الحدیث کے رہنما اور ڈیرہ غازی خان سے ایم این اے کو مںتخب کیا ہے۔اس حوالے سے مسلم لیگ (ن) کے رکن نے الزام عائد کیا کہ قیادت نے صرف ان ‘امیر’ لوگوں کو ٹکٹ دیئے جو پارٹی رہنماو¿ں کے انتخابی اور ان کے بیرونی دوروں کے اخراجات اٹھا سکیں۔ایک ذمہ دار رکن نے کہا کہ ‘رانا مقبول، ہارون اختر اور مشاہد حسین سید پارٹی کی بنیادی رکنیت کے تقاضے پورے نہیں کرتے اور ہارون اختر اور مشاہد حسین کو ٹکٹ دے کر پارٹی نے ان کارکن کے زخموں پر نمک پاشی کی ہے جنہوں نے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے آمرانہ دور میں زخم کھائے۔دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے چیئرمین راجا ظفرالحق اور سیکریٹری اطلاعات مشاہداللہ خان نے کہا کہ امیدوار کی قیادت سے ‘وابستگی’ اور پارٹی کے لیے ‘کارکردگی’ کی بنیاد پر سینیٹ ٹکٹ دیے ہیں۔

Scroll To Top