یہ جنگ تاقیامت چلے گی 29-11-2012

ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہوکہ ہم نے شیطان اور خدا کے مکا لمے کو محض ایک ادبی شہ پارہ اور علامتی قصہ سمجھا ہے۔ اگرہم شعوری طور پر فیصلہ کرلیں کہ ہم آئندہ قرآن حکیم کو محض ایک مقدس کتاب نہیں سمجھیں گے اور صدق دل سے اسے فرمان الٰہی مان کر اس سے ہدایت اور رہنمائی حاصل کریں گے` تو اپنے گنہگار وجود پر شاید مزید گناہوں کا بوجھ ڈالنے سے بچ جائیں۔
میں اعتراف کرتا ہوں کہ قرآنِ حکیم سے میری حقیقی آگہی کا آغاز بڑی دیر سے ہوا اور ایک عرصے تک میں یہ سمجھتا رہا کہ اپنی ” مسلمانی “ کو ہر قسم کے شک و شبہ سے بالاتر رکھنے کے لئے میرا کلمہ گو ہونا ` خدا کو معبودِ واحد ماننا ` آنحضرت کو اللہ کا آخری رسول سمجھنا اور قرآن حکیم کو ایک مقدس آسمانی کتاب تسلیم کرناہی کافی ہے۔
میں نے انگریزی ادب میںڈگری حاصل کی تھی۔ دنیا بھر کا ادب پڑھا تھا۔ ملٹن کی مشہور نظمیں Paradise Lostاور Paradise Regained مجھے بے حد پسند تھیں اور ان نظموں کا مرکزی کردار شیطان تھا۔ میں لاشعوری طور پر یہی سمجھتا رہا کہ شیطان ایک علامتی کردار ہے۔
میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ مجھ پر کب یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ شیطان ایک علامتی کردار نہیں ` محض بدی کی علامت نہیں ` یہ ایک حقیقی وجودہے۔ اور یہ وجود میرے اندر بھی موجود ہے۔
اس کے بعد میرے لئے ممکن نہ رہا کہ اس حقیقت سے آنکھوں چراﺅں کہ یہ دنیوی زندگی دراصل میرے اور شیطان کے درمیان نہ ختم ہونے والی جنگ ہے۔ اور میرا نفس اس جنگ کا میدان ہے۔ اگر میں ہمہ وقت اپنے اس ازلی دشمن کے کے ممکنہ حملوں کے خلاف چوکس اور تیارنہ رہوں تو کسی بھی گھڑی اس کا کوئی بھی حملہ کامیاب ہوسکتاہے۔
میں نے پنی حقیر عقل کے مطابق قرآنِ حکیم کا مطالعہ کیا۔ یہ مطالعہ آج بھی جاری ہے۔ میں عربی نہیں جانتا۔ لیکن اردو اور انگریزی ترجموں نے میری مشکل آسان کردی ہے۔
مجھے یہ جاننے کے لئے زیادہ محنت نہیں کرنی پڑتی کہ میری کس سوچ میں شیطان بسنے کی کوشش کررہا ہے۔ اور وہ میرے ایمان اور میرے عمل پر کس کس انداز میں حملہ آور ہوسکتا ہے۔آخر کوئی وجہ تو ہے کہ بسم اللہ الرحمان الرحیم سے پہلے ہم اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم کہتے ہیں۔
اگر پاکستان کو جنتِ ارضی بنانا مقصود ہے تو آئیں پہلے انفرادی طورپر اپنے اندر کے شیطان کو مات دیں ` اور پھر مل کر تمام شیطانی سوچوں کو اپنے معاشرے اور اپنی مملکت سے بھگا دیں۔
ویسے تو شیطان کے خلاف آدمؑ کی اولاد کی جنگ تاقیامت چلے گی۔

kal-ki-baat

Scroll To Top